Wed, September 16, 2026

بنیان مرصوص کے بعد آپریشن النمو الاقتصادی!

بنیان مرصوص کے بعد آپریشن النمو الاقتصادی!

گزشتہ دنوں پاکستان نے اپنے خلاف ہونے والی جارحیت کا ایسے طریقے سے جواب دیا کہ نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا حیران رہ گئی کہ تمام تر مسائل کے باوجود پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو کیسے صلح کے لئے گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کر دیا۔ مجھ سمیت ہر پاکستانی اس فتح پر بڑا خوش ہے، خوشی کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد پاکستانی متحد ہوئے اور مل کر دشمن سے لڑے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ریاست کے ہر ستون نے مربوط حکمت عملی کے ذریعے یقینی بنایا کہ پاکستان کا دفاع کیا جائے، سیاسی اور مذہبی جماعتیں متحد نظر آئیں۔ فوجی محاذ ہو، انفارمیشن کا محاذ ہو یا پھر خارجہ پالیسی کا محاذ سب نے ایک حکمت عملی اور ٹیم ورک کے ذریعے پاکستان کی کامیابی یقینی بنائی۔
اس ریاستی ٹیم ورک کو دیکھ کرمیرے دل میں خیال اور خواہش پیدا ہوئی کہ ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ یہی ٹیم ورک اور اتحاد، پاکستان کو درپیش سب سے بڑے چیلنج معاشی مسائل میں بھی دکھایا جائے۔
کیوں نہ قومی سوچ کے تحت متحد ہوکر ایک معاشی روڈ میپ بنایا جائے جو پاکستان کو ترقی سے ہمکنار کرے، آپریشن بنیان مرصوص کے بعد آپریشن النمو الاقتصادی (معاشی ترقی کا آپریشن شروع کیا جائے)۔یہ آپریشن کیوں ضروری ہے اس کی چند ایک وجوہات جانیے۔اسی ہفتے معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے بجٹ رپورٹ جاری کی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سود ادائیگیوں اور جاری اخراجات میں اضافہ معاشی استحکام کے لیے بڑا چیلنج ہے، جبکہ قرضوں پر مسلسل انحصار ملکی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔مزید کہا گیا کہ پیٹرولیم لیوی میں مجموعی طور پر 1044 فیصد کا اضافہ ہوا، پاور سیکٹر کی سبسڈیز اصلاحات مکمل طور پر ناکام ہوگئیں۔رپورٹ کے مطابق ٹیکسوں کے دائرہ کار میں ہنگامی اصلاحات درکار ہیں، جاری اخراجات میں اضافہ معاشی استحکام کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ اس رپورٹ میں جہاں پاکستان کو درپیش بڑے چیلنجز کا ذکر کیا گیا ہے وہیں ایک دوسری رپورٹ میں عالمی بینک نے پچھلے ماہ خبردار کیا تھا کہ رواں مالی سال کے دوران تقریباً 10 ملین پاکستانیوں کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور غربت کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے۔اس سے پہلے جنوری میں آنے والی ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان میں غربت کی شرح 25.3 فیصد رہی، جو 2023 کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہے، ایک سال کے دوران ایک کروڑ 30 لاکھ مزید پاکستانی غربت کا شکار ہوگئے ہیں۔
غربت سے متاثر ہونے والوں کی یہ تعداد اتنی بڑی ہے کہ شاید بھارت کے ساتھ جنگوں کے دوران بھی اتنے پاکستانی ااس حد تک متاثر نہ ہوئے ہوں، اس کامطلب یہ نہیں کہ جنگوں میں نقصان کم ہوتا ہے بلکہ صرف یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جتنا ضروری دشمن سے دفاعی جنگوں کی تیاریاں ہیں وہیں معاشی چیلنجز سے لڑنے کے لیے بھی تیاری اور حکمت عملی ہونی چاہیے۔ دنیا میں معاشی طور پر مستحکم ملک ہی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ وگرنہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر طاقتورملک معاشی طور پر کمزور ممالک پر چڑھ دوڑنے کو تیار رہتا ہے۔اس لیے آج پاکستان کے لئے آپریشن النمو الاقتصادی بے حد ضروری ہے۔
اس آپریشن کا آغاز آنے والے بجٹ سے کیا جاسکتا ہے۔ایک ایسا بجٹ ترتیب دیں جس میں ہر طبقے، سیاسی جماعتوں اور دیگر ماہرین کی رائے شامل ہو۔عوام اور کاروبار دوست بجٹ لایا جائے۔ تاہم یہ ایک چیلنج ہوگا۔ کیونکہ ایک خبر کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے قرض پروگرام کی اگلی اقساط کیلئے شرائط بھی مزید سخت کر دی ہیں۔ آئی ایم ایف نے خصوصی اقتصادی زونز کو حاصل ٹیکس مراعات بتدریج ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے بجلی اور گیس کے نرخوں میں بھی بروقت ایڈجسٹمنٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔آئی ایم ایف کے مطالبے اپنی جگہ لیکن پاکستان کی بقا اور استحکام کے لیے ایک جامع معاشی حکمت عملی کی فوری ضرورت ہے۔ دفاعی کامیابی کے بعد اگر ہم نے اپنی معیشت پر توجہ نہ دی تو اس کامیابی کا تسلسل قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
جیسے پہلے لکھا کہ بجٹ 2025-26 کو قومی اقتصادی ایجنڈے کا نقطہ آغاز بنایا جاسکتا ہے۔ ایک ایسا بجٹ پیش کیا جائے جو ہر طبقے کے لیے سود مند ہو – کاروباری طبقہ، تنخواہ دار، کسان، مزدور، اور صنعتی شعبہ۔ اس بجٹ میں صرف ریونیو بڑھانے پر نہیں بلکہ ترقی کے لیے سرمایہ کاری پر زور دیا جائے۔ کاروباری اورعام طبقے پر ٹیکسزکی شرح میں کمی کر کے ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے۔ ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن کی بجائے ڈائریکٹ ٹیکسیشن کے لئے لائحہ عمل بنائیں۔ اس کے لئے ایف بی آر کو ایک ڈرانے دھمکانے والے ادارے کی بجائے ایک سہولت کار ادارے کے طور پرسامنے آنے کی ضرورت ہے۔ چھوٹے اور بڑے کاروبار کے لئے بنا سود قرض کی فراہمی سے ملک میں انڈسٹری کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کے لیے ایک آل سٹیک ہولڈرز معاشی کانفرنس بلائی جاسکتی ہے جس میں حکومت، اپوزیشن، کاروباری حضرات، ماہرین معاشیات اور صنعتی شعبے کے نمائندے بیٹھ کر ایک درمیانی اور طویل مدتی معاشی روڈمیپ تیار کریں۔اس کے ساتھ ساتھ آنے والے بجٹ میں صرف موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے، غیر دستاویزی معیشت کو رجسٹر کیا جائے، اور ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ٹیکس وصولی کے نظام کو شفاف بنایا جائے۔پاور سیکٹر میں سبسڈی کے نظام میں شفافیت اور اصلاحات لائی جائیں تاکہ نقصان کا بوجھ عوام پر نہ پڑے۔ قابل تجدید توانائی کے ذرائع جیسے سولر اور ونڈ انرجی کو فروغ دیا جائے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو۔کسانوں کو سستے قرضے، معیاری بیج اور جدید زرعی ٹیکنالوجی مہیا کی جائے تاکہ خوراک میں خودکفالت حاصل کی جا سکے۔ اس کے علاوہ زراعت میں ویلیو ایڈیشن کی طرف توجہ دی جائے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو۔
سب سے بڑھ کر غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ایک جامع سوشل ویلفیئر پروگرام کے ذریعے غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ خوراک، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات تک ہر غریب کی رسائی یقینی بنائی جائے۔ اگر درست اقدامات پر قوم کو اعتماد میں لیاجائے تو ایک سال میں ہی آئی ایم ایف سے چھٹکارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔حال ہی میں نائیجیریا جیسے ملک نے بھی آئی ایم ایف کو گڈبائی کہہ دیا ہے۔
''آپریشن النمو الاقتصادی'' کو ایک قومی ایمرجنسی مہم سمجھ کر قومی فریضے کے طور پر اپنانا چاہئے۔ جیسے ''بنیان مرصوص'' میں دشمن کو شکست دینے کے لیے پوری قوم متحد ہوئی، ویسے ہی اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب اپنی اپنی سیاسی وابستگیوں، ذاتی مفادات اور اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی معاشی بقا اور ترقی کے لیے متحد ہوں۔

ٹیگز: