Wed, September 16, 2026

رام مندر میں گھوٹالہ، کون کرے گا انصاف؟

رام مندر میں گھوٹالہ، کون کرے گا انصاف؟

بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں رام مندر کا انتظام سنبھالنے والے ٹرسٹ شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیتر نے رام مندر میں چندے کے کروڑوں روپے غائب ہونے کے الزام کے بعد سال 2024 سے لے کر سال دو ہزار چھبیس تک مندر میں جمع ہونے والے فنڈذ، عطیات، چندے اور چڑھاوے کا آڈٹ شروع کیا ہے۔ آڈٹ ٹیم میں ٹرسٹ کے ارکان اور اسٹیٹ بینک کے اہلکار شامل ہیں جنہوں نے ابتدائی آڈٹ میں وصولیوں اور موجودہ رقم میں بڑے پیمانے پر فرق پایا ہے۔ ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح سال 2024 میں ہوا تھا۔ اس شاہانہ تقریب میں ہندو بھگوان رام للا کی مورتی کی مقدس پران پرتیشتھا پوجا کی گئی تھی۔ یہ اعلیٰ درجے کی پوجا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کی تھی۔ جس پر ہندو مذہب کے چاروں گرووں نے اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے ہندو مذہب کی گستاخی قرار دیا تھا۔ مہنت، سنت، گرووں کے مطابق ملک و ریاست کا سربراہ یہ پوجا نہیں کر سکتا ہے۔ بھگوان رام کی مورتی میں جان ڈالنے والی پوجا کی اس تقریب کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا تھا۔جسے ہندو گرو ہندو مذہب کی توہین مانتے ہیں۔ سال انیس سو بانوے میں بھارت کے قدیمی شہر ایودھیا میں مسلمانوں کی تاریخی بابری مسجد شہید کر کے انتہا پسند ہندووں نے حالیہ سالوں میں رام مندر تعمیر کیا ہے۔ جسے ہندو اپنی جیت قرار دیتے ہیں۔ مگر اب اچانک سے رام مندر میں چڑھاوا چوری ہونے کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ جہاں چور کہیں باہر کا کوئی شخص نہیں بلکہ خود مندر کا رکھوالا ہے۔
رام مندر چڑھاوا یعنی چندہ چوری معاملے کے شروع میں دوسو کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام لگایا گیا تھا۔ مگر اس کے ساتھ ہی مندر میں بھگوان رام کی مورتی کو چڑھائے جانے والے سونے چاندی اور ہیرے جواہرات کی چوری کا بھی انکشاف ہوا ہے جو توجہ طلب معاملہ ہے۔ نیز یہ گھوٹالا چندے کے پیسوں سے زیادہ کا ہے۔ بھگوان رام کے نام پر بننے والا مندر بنانے کے لئے ہندو مذہبی انتہا پسند تنظیموں نے کئی سال تک بابری مسجد کے خلاف جنگ کا محاذ کھولے رکھا تھا۔ بھارت میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور انسانی تاریخ کے بدترین ہندو مسلم فسادات بھی اسی دور میں ہوئے تھے۔ افسوس آج وہی رام مندر چوری چکاری اور لوٹ مار کا گڑھ بن کر رہ گیا ہے۔
اپوزیشن کے سیاست دان رام مندر چندہ چوری پر جم کر تنقید کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کے ارکان کہہ رہے ہیں قانونی ایف آئی آر تو کمزور چیز ہے۔ بھگوان کی ایف آئی آر بہت بڑی ہو گی۔ جس پر بی جے پی سرکار کو سوچنا چاہیے۔ مگر بی جے پی رام مندر سے چندہ چرانے والوں کے خلاف کیا ہی کاروائی کرے گی۔ اب اس چندہ چوری کرپشن میں کوئی مسلمان تو ملوث ہے نہیں تو پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے ، انسداد کرپشن کا ادارہ اور خود اتر پردیش کی ریاست نے عدم دلچسپی ہی رکھنی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی ادتھ یاناتھ نے ایس آئی ٹی سپیشل انویسٹیگیش ٹیم تشکیل دے دی ہے جو چندے کے پیسوں کی خرد برد کی رپورٹ پندرہ روز میں جمع کروائے گی۔ مگر دوسری جانب پیچیدہ مسئلہ یہ ہے کہ رام مندر میں کتنا سونا ہندووں نے چڑھایا تھا کتنے ہیرے رام بھگوان پر نچھاور کئے گئے اسکا حساب ہی نہیں ہے۔ مندر میں چندے کے پیسوں کے لئے ڈبے مختص کئے گئے ہیں مگر چڑھاوے کے قیمتی زیوارت کی گنتی کے لئے کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ کوئی زیور مندر کی انتظامیہ کے ہاتھ میں دے کر جاتا ہے تو کوئی بھگوان رام کی مورتی کے پاس رکھ جاتا ہے۔ بیش قیمتی جواہرات کا نامکمل ریکارڈ مندر انتظامی کمیٹی کی بدنیتی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
اس مذہبی معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی یہ موقف پیش کیا ہے کہ بھگوان سے جڑی کوئی بھی چیز ہو اور اس میں کوئی انسان چوری کر رہا ہو وہ دنیا میں تو بچ کر نکل جائے گا مگر اوپر والا اسے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ یعنی رام مندر گھوٹالے میں ملوث افراد کا معاملہ اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔ ایک اور خبر یہ کہ رام مندر میں خفیہ چندے کی رقم میں بھی بڑے پیمانے پر ہیر پھیر کی گئی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے ہندو افراد خفیہ طریقے سے مندر میں الگ سے چندہ دیتے ہیں۔ جس میں انکا نام اور شناخت چھپائی جاتی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق خفیہ چندے کی رقوم کو ریکارڈ میں انتہائی کم دکھایا گیا ہے۔
چمپت رائے شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیترا ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری اور ہندووں کی مذہبی انتہا پسندی کی تنظیم وشو ہندو پریشد کے نائب صدر ہیں۔ رام مندر کے تمام آپریشنز کی نگرانی کرتے ہیں۔ اور انہی چمپٹ رائے پر سب سے زیادہ انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے چمپت ہو گا تو چوری تو ہو گی۔ کیونکہ لفظ چمپٹ کا معنی ہے سب لے کر بھاگ جانے والا۔ رام مندر کے رکھوالے چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں اور رام راج میں اسکی کوئی ذمہ داری نہیں لے رہا ہے۔ اس نے بھارت میں ایک بڑے سیاسی تنازع کو جنم دیا ہے۔ وشوا ہندو پریشد نے رام مندر کے فنڈز کے غلط استعمال کا الزام لگانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اربوں روپے کی چندہ چوری اور گھپلے کسی انجان جگہ پر نہیں بلکہ رام مندر میں ہوئے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ رام مندر کمپلیکس میں جگہ جگہ کیمرے نصب ہونے کے باوجود اتنا بڑا فراڈ کیسے ہو گیا۔ اتنی زیادہ چیکنگ اور سکیورٹی کے ہوتے ہوئے بھی مسلسل چوری اور لوٹ مار ہوتی رہی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی بھارت میں ہندو مذہب کے بڑے گرو، سنت بی جے پی سرکار پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ براہمن سماج کے گرو شنکر اچاریہ سوامی اویمکتیشو رانند سرسوتی نے اپنے بیان میں کہا ہے رام مندر میں چوری پہلی بار نہیں ہوئی ہے۔ مندر بنتے ہی چوریاں شروع ہو گئیں تھیں جو آج تک رک نہیں سکیں ہیں۔ ایودھیا میں رام مندر جنم بھومی بننے لگی تھی تو اس وقت زمین کے پلاٹس بنا کر بھی کرپشن کی گئی تھی۔ رام مندر میں جن ذمہ داران نے چندہ چوری کیا ہے ان کو سزا ملنی چاہیے۔ جو نقلی سنت ہیں انکا خاتمہ ہونا چاہیے۔ بی جے پی کی منشا کے مطابق تحقیقات نہیں ہونی چاہیے۔ ورنہ انصاف کے لئے خود رام کو آنا پڑے گا۔

ٹیگز: