Wed, September 16, 2026

ترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیے

ترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیے


میں نہ مانوں کی طویل ترین رٹ کے بعد کفر ٹوٹا (یا قفل ٹوٹا) خدا خدا کر کے اور ’بظاہر‘ امن کی طرف سسک سسک کے ایک قدم بڑھا تو ہے، طرفین نے برقی دستخط کر دیے ۔ اب تک ایک طرف سے مصالحتی بیان جاری ہو جاتا تو دوسرا فریق غیر متوقع طور پر اڑ جاتا۔ ہفتہ پہلے تو ٹرمپ آگ بگولہ ہو کر چلا اٹھا تھا کہ ایرانی نہایت… (dishonorable) لوگ ہیں،جب ایرانی سرکاری میڈیا سے معاہدے میں یورنیم افزودہ کرنے کا حق اور اربوں ڈالر ملک میں آنے کی خبر چلائی گئی۔ ٹرمپ تھک ہار چکا تھا۔ خوشامد کر دیکھی۔ گالیاں دے ڈالیں۔ دنیا بے زار ہو گئی مگر حالات سدھرنے کی کوئی صورت نہ تھی۔یہی غنیمت ہے کہ عبوری مفاہمت طے پائی۔ اسرائیلی وزیر یائیر گولان کا رد عمل ڈیل پر کڑا اور تلخ ہے۔ ’اس نے ہمارے (وحشی)جنگجوﺅںکا خون اور پائلٹوں کی بہادری، رائیگاں کردی۔ نیتن یاہو ایک طرف کمزور، لاچار، ناتواں بنا کھڑا ہے۔‘ اسرائیلی وزیر دفاع نے چھوٹتے ہی رنگ میں بھنگ ڈالا کہ اسرائیل، لبنان، شام اور غزہ سے فوج نہیں نکالے گا۔ اور اگر ایران نے ہم پر جوابی حملہ کیا تو پوری قوت سے جواب دیں گے!ساتھ ہی لبنان پر بمباری سے سوئٹزر لینڈ کی تقریب پر پانی پھیر ڈالا! تاہم 60 روزہ مذاکراتی دورانیہ شروع ہو گیا ہے۔
 امریکہ، ایران پیشرفت کے بعد پاکستان کی ترجیحِ اول ملکی مسائل کے حل طلب امور پر متعلقین کو اکٹھا کیا جانا ہے۔ جس درجے صبر، ثبات کے ساتھ ٹرمپ اور ایران ما بین مشکل ترین فریقین کو خوش دلی سے اعزاز سمجھ کر نبھایا ہے، اب گھر کی فکر کیجیے ۔ گولہ بارود، دھونس دھمکیاں لارے لپے، مسائل کا حل نہیں ہوا کرتے۔ بین الاقوامی سطح پر یہ تجربہ ہو گیا ۔ عالمی امن ہو یا ملکی، مذاکرات کی میز پر بیٹھنا لازم ہے۔ خواہ کے پی کے ہو، بلوچستان میں’ دہشت گرد‘ اور ناراض بلوچ بھائی۔ (جو دین دار ہو وہ دہشت گرد ہوتا ہے۔ وہی کام سیکولر بے دین قوم پرست کرے تو ناراض بھائی!) یا اب پریشان کن آزاد کشمیر میں مسلسل الجھا¶، اولین توجہ مانگتے ہیں۔ سیاستوں سے بالا تر ہو کر فریقین پاکستان کی نعمت عظمیٰ کی ناشکری سے بچیں۔ ملک ہے تو مناصب، کرسیاں، شناخت، برادریاں ہیں، مقبوضہ کشمیر دیکھ لیجیے۔ بھارت دندانِ آزتیز کیے پاکستان کے درپے ہے۔ بغلیں بجا رہا ہے کہ شاید اس کی بن آئے۔
28 فروری سے شروع امریکہ، اسرائیل جنگ نے حکومت کو مصروف رکھا۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بیرونی دوروں پر رہے، مگر ایسے میں ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ملک میں قانون کی حکمرانی، بالا دستی مجروح ہونے سے روکنے کا فرض نبھاتے۔ آئے روز ماورائے عدالت قتل کا وطیرہ بن گیا۔ یہ ہوتا چلا جا رہا ہے کہ ’دہشت گرد‘، جرائم پیشہ ہر جگہ نجانے کیسے خود آپس ہی کی گولیوں سے مر جاتے ہیں۔ معتبر اخبارات، انسانی حقوق کے ادارے مسلسل یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ملزمان پر باضابطہ مقدمہ چلانے کی بجائے دو سطری خبر ایک 
ہی بیانیے کی، صرف نام بدل کر جاری کر دی جاتی ہے کہ پولیس نے پیچھا کیا مگر (سیا نے) ملزمان ایک دوسرے کی گولیوں کی زد میں آکر مارے گئے۔ خاندان شور مچا کر رو دھو کر چپ ہو رہتے ہیں۔ عدالتیں مسلسل خاموش ہیں، اعلیٰ عدلیہ اس کا نوٹس کیوں نہیں لے رہی؟ ’ Encounter‘(پولیس مقابلہ) جس میں پولیس کو خراش تک نہیں آتی ملزم فوراً ہلاک ہو جاتا ہے۔ عدلیہ پر اٹھنے والے اخراجات، غریب عوام کا تیل نکال کر سبھی بڑوں کو دی جانے والی مراعات پھربلا جواز ہیں ۔
یہ سب یو نہی چلتا رہتا اگر آسٹریلیا کے عادل احمداور خاندان کوحج سے واپسی پرچکوال میں ایک بھاری سانحہ نہ سہنا پڑتا۔ دوموٹرسائکل سوار نوجوانوں نے پستول کی نوک پر(کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) CCD کے دفتر کے باہر ان سے قیمتی اشیاءگاڑی روک کر چھین لیں۔ (مجرم کیا دھڑلے کے تھے کہ CCD کے باہر واردات کی؟) اتنے میں اندھا دھند گولیاں چلنے کی آواز آئی اور گھبرا کر عادل احمد نے گاڑی تیز کردی کہ بچ نکلیں۔ مگر یہ گولیاں گاڑی میں خود انہیں، بیٹے اور 9سالہ بیٹی کو لگ چکی تھیں۔ بیٹی زخموں کی تاب نہ لا کر جان بحق ہو گئی۔ وہ خود اور بیٹا زخمی ہوئے۔ یہ سمجھ کر کہ وارداتیے گاڑی میں فرار ہو رہے ہیں، گاڑی کے ٹائروں کو ناکارہ کرتے یا سواریوں کو توجہ سے دیکھتے، ’ڈیتھ اسکواڈ‘ کی مانند گولیاں برسا دیں۔ ایسے واقعات ہوتے رہے جس پر مضامین، اداریوں میں نوٹس لیا جاتا رہا۔ مگر اس مرتبہ المیہ یہ ہوا کہ متاثرہ خاندان آسٹریلیا سے آیا تھا! خبر فوراً بین الاقوامی میڈیا میں پھیل گئی۔ ABC، گارڈین، SBS،BBCمیں تنقید آئی۔ آسٹریلوی وزیر اعظم کا بیان عالمی میڈیا میں نمایاں چھپا کہ پولیس کے ہاتھوں پاکستان میں مارے جانے والی نو سالہ ہانیہ احمد کی شفاف تحقیق کی جائے۔ وزیر اعظم کی ہمراہ تصویر پر شدید غم و غصہ عیاں ہے۔ (جمہوری ممالک اپنے عوام خواہ وہ پاکستانی ہی کیوں نہ ہوں، کی جان ومال کے تحفظ کو اپنا فرض سمجھتے ہیں) انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اس واقعے کی شفاف اور معیاری تحقیق و تفتیش کی توقع رکھتا ہے۔ گارڈین نے تفصیلی رپورٹ بچی کے سکول سے بھی حاصل کی۔ وہاں سب کے غم کا تذکرہ کیا۔ بھائی زخمی ہے اور ہسپتال میں ہے سفر کے قابل ابھی نہیں ہے۔ یہاں آسٹریلیا کا مقامی دفتر خاندان کی خبر گیری کر رہا ہے۔ پاکستان کی شہرت مجروح ہوئی!
فوری توجہ طلب دوسرا معاملہ آزاد کشمیر میں بگڑتے حالات کا ہے۔ یہ دور خبریں دبا دینے کا نہیں۔ یہ ناممکن ہے۔ حالات کی درستی درکار ہے۔( تاہم پی ٹی آئی دور سے چلی آرہی سوشل میڈیا سنسنی خیزی بگاڑ لاتی ہے سدھار نہیں)۔ تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے۔ کشمیر وہ مقام نہیں جہاں پاکستانی جماعتیں روایتی سیاست بازی میں مناصب کے کھیل کھیلیں۔ مقبوضہ کشمیر کا سلگتا پھوڑا پہلو میں ہے۔ بدترین جان کا لاگو دشمن بھارت آنکھیں لگائے بیٹھا ہے۔ سبھی ہوش کے ناخن لیں۔ مقبوضہ کشمیر نے پاکستان سے محبت اس درجے کی جس کے ہم حقدار بھی نہ تھے۔ پاکستانی پرچم میں شہداءکو دفن کرنا۔ پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ،کے نعروں سے گونجتا کشمیر!ہمارے وہ شیر سپوت 5 اگست 2019 ءسے بلکہ 8دہائیوں سے جن عذابوں کو جھیل رہے ہیں بھارتی حکومت کے ہاتھوں،پناہ بخدا۔ ہمارے حکمرانوں، بالخصوص مشرف کی کشمیر سے بے اعتنائی کی پالیسی نے پاکستان کی شہ رگ کو مجروح کیا۔ ہم ان سے شرمسار ہیں۔ مزاحمت کی علامت شخصیات بھارتی قید میں تعذیبیں سہہ رہی ہیں۔ شیخ غلام حسنؒ، سابق امیر جماعت اسلامی کے جنازے پرپورا کشیم گویا امڈ آیا۔ عظیم استقامت کا شاندار کردار۔ اس جرم پر ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔ 16 اپریل سے 15 مئی تک بھارتی ایجنسی NIA نے ایک قیامت برپا کر رکھی ہے۔ املاک مسمار اور ضبط کرنے کے روزانہ کے واقعات کی طوالت ناقابل بیان ہے۔ ان کشمیریوں کی ذمہ داری پاکستان اور آزاد کشمیر دونوں پر عائد ہوتی ہے۔
 جائز مطالبات بلا شبہ حکومت پاکستان کی اولین ذمہ داری ہے۔ خصوصاً مفاداتی سیاست کے ہاتھوں پارلیمنٹ میںنشستوں کا مسئلہ فوری حل طلب ہے۔ اس پر حالات کے بگاڑ کو اس نہج پر لے آنا ناقابل قبول ہے۔ مگر میرے پیارو! آزاد کشمیر کو ہمہ نوع سہولیات کی فراہمی، خصوصاً 2005 ءکے زلزلے کے بعد تعمیر نو میں کی گئی کوششیں بھی تو ہیں! اصلاً تو پاکستان ہی کی طرح آزاد کشمیر حکومتوں اداروں کو بدعنوانی، غبن، کرپشن کا آسیب چمٹا ہوا، عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتا ہے۔ امانت و دیانت شہ کلید ہے، حکومتی بگاڑ کی درستی کی۔ مقبوضہ کشمیر کی خاطر، بھارتی، خون کے پیاسے دشمن سے تحفظ کی خاطر، طرفین حالات کے سدھار کے لیے افہام و تفہیم سے کام لیں۔ نسلی تعصب کی زبان پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کی شدت تازہ کریں۔ ہمارا اصل رشتہ اسلام ہے۔ کشمیری ذات برادری صرف شناخت ہے۔
 دیکھیے کس طرح فیفا ورلڈکپ میں بھی دنیا بھر کے نوجوان فلسطین کو نہیں بھولے۔ جینوا میںG-7 کے امیر ملکوں کے اجلاس پر غیر مسلم نو جوان کس طرح عالمی ایجنڈے لیے دنیا بھر کے عوام کا استحصال ان امرا کے ہاتھوں اور فلسطینی مظلومیت پر ان کے خلاف پھٹ پڑے ہیں ۔ فرانس میں بھی شدید مظاہرے اسی ضمن میں ہوئے۔ آپ بھی عظیم تر مقاصد، ذات سے اوپر اٹھ کر دنیا بھر پر غلبہ¿ حق کے لیے لڑئیے! ہم چھوٹی سی ذاتی مفاداتی دنیا سے باہر نکل کر دیکھنے کو تیار نہیں؟ ہمارے نوجوانوں کے پاس اللہ کا عطا کردہ، دنیا بھر پر اسلام کا جھنڈا سر بلند کرنے اور اس کے لیے بدرجہ¿ اولیٰ پاکستان سنوارنے کا کوئی پروگرام کیوں نہیں؟ اس پر غور فرمائیے۔ حقوق سے بڑھ کر فرائض کی فکر کریں۔ جواب دہی فرائض کی ہے!
نشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو
ترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیے

ٹیگز: