جیت توجیت ہی ہوتی ہے چاہے جیسی بھی ہوہسپانیہ دوسری بار فیفاورلڈکپ جیت کر2026 کے لیے فٹ بال کی دنیا کابادشاہ بن گیا ہے لیکن ساتھ دنیاکے دل بھی جیت چکاہے طویل اور سنسنی خیز مقابلے کے ایسے شاندار نتیجے کا پہلاسبق تویہ ہے کہ اگر محنت ،لگن اور متحمل مزاجی سے جدوجہد کی جائے تو منزل حاصل کرنا مشکل نہیں رہتا مگر سوچ منفی اورمزاج جارحانہ ہو تو دنیاکی سُپرطاقت کی اعلانیہ حمایت اور طاقتورصیہونی لابی کا ساتھ بھی بے اثر ہوجاتا ہے ہسپانیہ کی جیت دو فلسفوں کی جیت ہے سپین کے طول وعرض میں جیت کا جشن منایاجارہا ہے لیکن ہزاروں کے اجتماعات میں بھی کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں ہوئی خوشی میں بھی وقاراورنظم وضبط ہے سرکاری اورنجی املاک مکمل طورپر محفوظ ہےں تحمل اور بُردباری سے ہسپانیہ نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ مہذب قوم ہے بلاشبہ عظیم قومیں نظم وضبط جیسے زیورسے آراستہ ہوتی ہیں وزیرِ اعظم پیدور سانچزکی قیادت میں ہسپانیہ ایک مہذب ملک بن چکا ہے اور مظلوم قوموں کا ترجمان بھی۔ کئی حکومتی ادواردیکھے لیکن پیدروسانچز نے حکومت گرانے کے خواب دیکھنے والی جماعتوں کو بھی اخلاق سے جواب دیا الزام تراشی کا جواب تحمل، برداشت اور دلیل سے دیا اُن کے انداز میں وقار نمایاں ہے انہوں نے معاشرے کی ایسی تعمیر کر دی ہے کہ قوم پرستی کی آڑ میں کوئی جنونی معاشرے کو عدم برداشت کی طرف نہ لے جا سکے ایسے حالات میں جب یورپ میں تارکینِ وطن سے ناپسندیدگی فروغ پذیر ہے پیدروسانچز نے بارہ لاکھ سے زائد ایسے نفوس کو جو سپین میں برسوں سے مقیم ہونے کے باوجود ہنوزغیر قانونی سمجھے جاتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف بہتر روزگار بلکہ صحت جیسی سہولتوں سے بھی محروم تھے اُنہیں رہائشی اجازت دیکر روزگاراور صحت کی سہولتوں میں حصہ دار بنا دیا ہے اِس فیصلے سے سپین کے ٹیکس دہندگان میں بارہ لاکھ سے زائد نئے لوگ شامل ہونے کا امکان ہے یہ فیصلہ ہسپانیہ کی تعمیروترقی کاسنگِ میں ثابت ہو سکتاہے ۔
ہسپانوی ٹیم نے نہ صرف کھیل جیتابلکہ سامعین کے دل بھی جیت لیے اور کھیلتے ہوئے اخلاقی حوالے سے بلند قامت نظر آئی جبکہ دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کے لڑاکے کھلاڑی بونے دکھائی دیے کھیل کے آغاز پر ارجنٹائن کے کھلاڑی نے جس شرمناک رویے کا مظاہرہ کیا اِس کا جواب ہسپانوی ٹیم نے میدان میں دیا اور نوے منٹ کے کھیل میں فٹ بال کو دسترس میں رکھا مقررہ وقت میں دونوں ٹیمیں گول نہ کر سکیں مگر ہسپانوی ٹیم شاندارکھیل سے تابڑ توڑ حملے کرتی رہی اور آخرکار اضافی وقت میں حریف دفاعی چیمپئن کو ایک گول سے شکست دے کر دوسری بار ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیت گئی مہذب معاشر ے کی ٹیم کی فتح پر دنیا کی خوشی دیدنی ہے جس کی مزید وجوہات یہ ہیں۔ ارجنٹینا کی ٹیم نے اسرائیل کا پرچم لہرا کر عوامی نفرت مول لی جبکہ ہسپانوی ٹیم نے فلسطینی پرچم اُٹھا کر غزہ میں جاری نسل کشی کی مخالف ہونے کا تاثر دیا اسی بنا پر اِس بارفیفاورلڈ کپ کے حوالے سے دنیا کا جوش و خروش دیدنی تھا کیونکہ اسرائیلی پالیسیاں اور غزہ میں جاری نسل کشی پر دنیا بھر میں گہری رنجیدگی ہے جو ہسپانوی ٹیم کی فتح پر وارفتگی کی صورت میں نظر آتی ہے۔ فیفا ورلڈ کپ میں صدر ٹرمپ کی شرکت سے ایسا لگا کہ ارجنٹینا کی جیت کے لیے پسِ پردہ کچھ قوتیں سرگرمِ عمل ہیں جس کا ثبوت کچھ جانبدار فیصلوں سے ملا مگر تھکاوٹ کا شکار ٹیم ایسی امداد کے باوجود اوندھے منہ جا گری کیونکہ اُس کا کھیل جارحانہ ضرور تھا لیکن ایک کھلاڑی جیسی برداشت اور تحمل ناپید تھا۔ ارجنٹینا کے کھلاڑیوں میں ہاتھا پائی کا جذبہ تو تھا لیکن کھلاڑیوں جیسی ہم آہنگی کا فقدان نمایاں نظرآیا جب جیت کے لیے درکار گول کے لیے پیدروپورونے نے عمدہ پیش قدمی کی اور گیند کو دور پوسٹ کی طرف بھیجا تو ارجنٹینا کے کھلاڑی روک نہ سکے اسی دوران نیکو ولیمز حرکت میں آئے اور سر کے ذریعے گیند کو گول کرنے کی غرض سے آگے بڑھا دیا ایسی ہم آہنگی کا نتیجہ 105 ویں منٹ میں ہسپانیہ نے فیصلہ کُن گول کر دیا اور سولہ برس کی طویل مدت کے بعد دوسری بار ورلڈ کپ کا اعزاز حاصل کر لیا 2010 کے بعد ہسپانوی لوگوں کو یہ جیت نہال کر گئی ہے۔
23 ویںفیفا عالمی کپ کی میزبانی امریکہ سمیت میکسیکو اور کینیڈا نے کی موجود فیفاکپ اِس حوالے سے منفرد ہے کہ پہلی بار تین ملک میزبان ٹھہرے مزید یہ کہ پہلی بار دنیا کی 48 ٹیموں نے حصہ لیکر تاریخ تو رقم کر دی مگر آخر کار ہسپانیہ نے ثابت کر
دیا کہ وہ اخلاق اور تہذیب میں اگر نمایاں ہے تو کھیل کا بھی بادشاہ ہے کھلاڑ ی جذباتی نہیں ہوتا بلکہ ہر کھاڑی دوسرے کے انداز اور اِشارے پر نظر رکھتا ہے اور بروقت فیصلہ کرتے ہوئے حرکت میں آتا ہے یہ وہ خوبی ہے جو ہسپانوی ٹیم کو ممتاز کرتی ہے اسی خوبی کا نتیجہ ہے کہ تمام مقابلوں میں اُسے صرف ایک شکست ہوئی لیکن حتمی مقابلے میں دفاعی چیمپئن کو چاروں شانے چت کرتے ہوئے فیفاکپ 2026 اپنے نام کر لیا۔ فیفا کپ کے ساتھ رواں برس ہسپانیہ کو فٹ بال کے کھیل میں کئی تاریخی کامیابیاں حاصل ہوئیں نہ صرف مردوں کی ٹیم نے عالمی اعزاز حاصل کیا ہے بلکہ خواتین کی ٹیم بھی فٹ بال کی عالمی فاتح بن گئی ہے یہ پہلا موقع ہے کہ مرد و خواتین کی ٹیمیں بیک وقت عالمی اعزاز جیتی ہیں ایک مہذب ملک کی یہ جیت اِشارہ ہے کہ محنت، لگن اور جہد مسلسل سے کامیابی ملتی ہے اور جو کھلاڑی کھیل کی بجائے لڑائی جھگڑے پر یقین رکھتے ہیں وہ منزل حاصل نہیں کر پاتے پیدروسانچز کی حکمتِ عملی پر چل کر ہسپانوی ٹیم نے جذبات پر قابو رکھ کر نظم وضبط اور محنت سے مقابلہ کیا اور آج فٹ بال کی عالمی حکمران ہے۔ ہسپانیہ کا شاہی خاندان بھی اپنے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی میں پیش پیش نظرآیا شہزادیاں تک شہریوں کی طرح جوش وخروش میں نمایاں رہیں خود پیدروسانچز غیر ملکی مصروفیات کے باوجود وقت نکال کر میدان میں اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے آئے ٹیم کا وطن واپسی پر شاندار استقبال جاری ہے جس قوم کے رہنما یک جان اور مظلوم کا ساتھ دیتے ہوئے پس و پیش کا شکار نہ ہوں تو جیت مشکل نہیں رہتی ہسپانیہ کی ٹیم میں جیتنے کی لگن تھی اور مظلوم کی حامی ہونے کی وجہ سے دنیا کی دعائیں ساتھ تھیں جبکہ ارجنٹائن نے اسرائیلی پرچم لہرا کر ظلم و بربریت کا حامی ہونے کاجو مظاہرہ کیاوہ میسی جیسے کھلاڑی کے نہ صرف آخری مقابلے میں شکست کے داغ سے رُخصتگی پر منتج ہوا بلکہ پوری ٹیم ظالم قوتوں کی حمایت سے عوامی نفرت کا شکارہوگئی جبکہ ہسپانوی ٹیم کو لامین یامال کی صورت میں ایک جوہرِ قابل مل گیا ہے جس کا مستقبل شاندار ہو سکتا ہے بورخا جیسے انسانی و سماجی مسائل پر دوٹوک موقف اختیار کرنے والے کھلاڑیوں سے عوام محبت اور ہمدردی رکھتی ہے جنہوں نے ٹرمپ سے مختصر مصافحہ کیا ہسپانیہ جیت گیا ہے مگر مقابلے کے کئی پہلو ہمیشہ یاد رہیں گے ہسپانیہ کی ٹیم کے کپتان روڈریگو نے باحجاب بچی کے ساتھ جس وقار، عزت اور اعتماد کے ساتھ میدان میں آمد کی وہ ہسپانوی معاشرے کی ہی روایت ہو سکتی ہے جو برداشت، رواداری اور انسانی اقدار پر پختہ یقین رکھتا ہے۔