Wed, September 16, 2026

کوئٹہ میں پسند کی شادی پر قتل، بلوچستان ہائیکورٹ کا نوٹس، 20 افراد گرفتار

کوئٹہ میں پسند کی شادی پر قتل، بلوچستان ہائیکورٹ کا نوٹس، 20 افراد گرفتار

کوئٹہ : بلوچستان کے علاقے سنجدی ڈیگاری میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے، بانو ستک زئی اور احسان اللہ سمالانی کے اندوہناک قتل پر بلوچستان ہائیکورٹ نے نوٹس لے لیا ہے۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے واقعے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس بلوچستان کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ اختر شاہ نے مقتولہ بانو ستک زئی کی قبر کشائی کا حکم دیا، جس پر ان کی قبر جوڈیشل نگرانی میں کھولی گئی تاکہ پوسٹ مارٹم کے ذریعے قتل کی تفصیلات سامنے آ سکیں۔

یہ افسوسناک واقعہ عیدالاضحیٰ سے تین دن پہلے پیش آیا، لیکن اس کی ویڈیو حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں جوڑے کو گولیاں مار کر قتل کرتے دکھایا گیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پورے بلوچستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 20 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مزید افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ مقدمہ تھانہ ہنہ اوڑک میں انسداد دہشت گردی ایکٹ اور قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قتل سے پہلے جوڑے کو سردار شیر باز خان کے پاس لے جایا گیا، جہاں کاروکاری کا الزام لگا کر قتل کا فیصلہ کیا گیا۔

مرکزی ملزمان میں شاہ وزیر، جلال، منیر، بختیار، امیر، اور عجب خان شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے معلوم ہو سکے گا کہ مقتولین کو کتنی گولیاں ماری گئیں اور واقعہ کتنے دن پرانا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کسی صورت مجرموں کو معاف نہیں کرے گی، اور سب کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔

ٹیگز: