Wed, September 16, 2026

مون سون کی تباہ کاریاں اور حکومتوں کی ترجیحات

مون سون کی تباہ کاریاں اور حکومتوں کی ترجیحات

ہر سال کی طرح اس بار بھی ملک بھر میں مون سون کی طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ مون سون کی بارشوں نے خیبر پختونخوا، پنجاب خاص طور پر وسطی علاقوں اور جڑواں شہروں راولپنڈی و اسلام آباد میں معمولات زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے۔ کلاڈ برسٹ اور موسلا دھار بارشوں سے ندی نالے بپھر گئے۔ 180 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ ابھی تو مون سون کا آغاز ہی ہوا تھا کہ لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر شہر پانی میں ڈوب گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہر سال محکمہ موسمیات کی جانب سے وارننگ کے باوجود انتظامیہ حرکت میں کیوں نہیں آتی؟ کیا مالی اور جانی نقصانات کی وجہ محض مون سون کی غیر معمولی بارشیں ہیں یا حکومتی کوتاہی بھی اس کی ذمہ دار ہے؟ حالیہ بارشیں غیر متوقع نہیں تھیں بلکہ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے پیشگی الرٹ جاری کر رکھا تھا۔ پھر کیوں ندی نالوں کی صفائی نہ کی گئی؟ عوام کی تسلی کے لیے جھوٹ بولا جاتا ہے کہ مون سون کے آغاز سے قبل ندی نالوں کی صفائی ہو چکی ہے۔ انتظامیہ ہائی الرٹ ہے۔ جب وقت آتا ہے تو یہ سب الرٹ پانی میں بہتا نظر آتا ہے۔ اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومت نے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے سارا ملبہ موسمیاتی تبدیلی پر ہی ڈال دیا۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ دس ملکوں کی فہرست میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلی رپورٹ 2025 میں پاکستان کو دنیا میں سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ملک قرار دیا گیا۔ پاکستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق کئی رپورٹس منظر عام پر آ چکی ہیں جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ کس طرح پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور کئی دیگر ممالک موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونگے۔ ایک ایسا ملک جو 13000 سے زائد گلیشیئرز کا گھر ہو۔ وہاں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سیلاب کے خطرات قدرتی طور پر بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا کی چیخ و پکار اور وارننگ کا اثر پاکستانی حکومتوں پر کیوں نہیں ہوتا؟ عوام کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیوں؟ جولائی میں ورلڈ بینک کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث غریب افراد کی تعداد 14 کروڑ 88 لاکھ تک پہنچنے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ پاکستان طویل مدتی موسمیاتی خطرات کے انڈیکس میں 8 ویں نمبر پر ہے۔ 2000 سے 2020 تک 
پاکستان میں 173 تباہ کن قدرتی آفات کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ہم نے 2010 نہ 2022 کے قیامت خیز سیلاب سے کچھ سیکھا۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب سے تقریباً 1700 افراد ہلاک اور ملک بھر میں 30 ملین سے زائد لوگ بے گھر ہوئے، املاک اور زمین کو 14.8 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ ابھی تک طوفانی سیلاب کے 13 لاکھ متاثرین بے گھر اور بے یار و مددگار مفلسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بیرونی امداد اشرافیہ کی غربت دور کرنے کی نذر ہو جاتی ہے۔ ابھی آئی ایم ایف نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 1.4 ارب ڈالر کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم مشیروں، وزیروں اور سینیٹروں پر تو خرچ ہو سکتی ہے مگر غریب یا انفراسٹرکچر کی بحالی پر خرچ نہ ہو گی۔ ڈرینج سسٹم، ماحولیاتی نظام اور ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کی بہتری ہماری ترجیحات نہیں۔ پاکستان کو 2022 کے سیلاب کے بعد اب تک 58 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی بیرونی امداد مل چکی، یہ بیرونی امداد کہاں گئی؟ ستم بالائے ستم کہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے شہری پھیلاؤ، کچی آبادیوں میں اضافہ، شہروں میں کنکریٹ کی بلڈنگز اور زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی بھرمار ہے۔ جس سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب بے روزگاری عروج پر ہے جس کی وجہ سے روزگار کی تلاش میں دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف لوگوں کی تیزی سے نقل مکانی نے کچی آبادیوں کو پھیلا دیا ہے۔ پاکستان بارے اقوام متحدہ کی ہیبی ٹیٹ 2023 رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ’’شہری آبادی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ کچی آبادیوں یا کچی آبادیوں کے نام سے مشہور غیر رسمی بستیوں میں رہتا ہے‘‘۔ لہٰذا، زمینوں پر قبضے، ندی نالوں اور دریاؤں پر غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور تعمیرات نے اس سال بھی پاکستان کے بیشتر شہر پانی میں ڈبو دئیے ہیں۔ دریاؤں، پانی کی قدرتی گزرگاہوں پر تعمیرات اور زرعی زمینوں کو ہاؤسنگ سوسائٹیز میں تبدیل کرنا ہمیں مہنگا پڑ رہا ہے۔ مگر مجال ہے کہ صاحب اقتدار پر کوئی اثر ہوا ہو۔ دریاؤں، ندی، نالوں اور سیلابی گزرگاہوں کے قریب ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور غیر قانونی تعمیرات کی اجازت کس نے اور کیوں دی؟ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو اس کو چیک کرنے والے ادارے کہاں سو رہے تھے، یہ اہم سوال ہے۔ اس کا جواب اب پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ کرپشن اور کرپٹ ایلیٹ نے اس ملک کے ساتھ جو کھلواڑ کیا ہے اس کی تباہ کاریاں آنے والی کئی نسلوں کو اپنی لپیٹ میں لیں گی۔ اندازہ کریں ملک میں 401 کوآپریٹو، 2566 نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی ہیں۔ شہر اقتدار میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی تعداد 99 جبکہ پنجاب میں 600 سے زائد ہاؤسنگ سوسائٹیز موجود ہیں۔ صرف لاہور شہر میں 200 کے قریب سوسائٹیز غیر قانونی ہیں۔ جب ہم دریاؤں اور نالوں کے قدرتی راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر کے پانی کے بہاؤ کو روکیں گے تو پانی اپنا راستہ زبردستی بنائے گا۔ بارشوں اور سیلابی پانی کو سٹور کرنے کے لیے جب کوئی چھوٹے چھوٹے آبی ذخائر نہیں بنائے جائیں گے تو تباہی تو پھیلے گی۔ حالیہ برسوں میں نالہ لئی پر دو نئے پل تعمیر کیے گئے ہیں، جن سے پانی کے بہاؤ کا راستہ محدود کیا گیا۔ حکومتی سطح پر قدرتی آبی گزرگاہوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے اور نہ ہی غیر قانونی تعمیرات روکی جا رہی ہیں۔ ایسے میں سیلاب اور اربن فلڈنگ جیسے خطرات کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ بارشوں سے ہر سال تباہی ہوتی ہے تو اس کا قصوروار صرف موسمیاتی تبدیلی کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ حکومت اپنی نااہلی کو موسمیاتی تبدیلی کے پیچھے نہیں چھپا سکتی۔ حکومتوں میں سنجیدگی کا فقدان ہمیشہ سے ہی تشویش کا باعث رہا ہے۔ ماحولیاتی آفات اور اداروں کی نااہلی نے پاکستان کی معیشت کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔ حکومتوں کی غلط ترجیحات اور ناقص پالیسی فیصلے حالات کو مزید خراب کر رہے ہیں۔ ناقص منصوبہ بندی پاکستان کا بڑا مسئلہ ہے۔ کنکریٹ کی عمارتیں دن کے وقت گرمی کو جذب کرتی ہیں اور رات کو اسے چھوڑتی ہیں۔ ہم نے اب دیہاتوں میں بھی ہاؤسنگ سوسائٹیز کا کلچر متعارف کرا کر نہ صرف دیہاتوں کو گرم کر دیا ہے بلکہ زرعی زمین سکڑنے سے فوڈ سکیورٹی بھی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ بات پھر وہی ہے کہ کون ان مسائل کو حل کرے گا؟ موجودہ حکمران تو دہائیوں سے باری لگاتے آئے ہیں اور ہر باری کے ساتھ ملک اوپر اٹھنے کے بجائے مسائل سے دوچار ہی ہوا ہے۔ بیوروکریسی حکومت کو خوش کرنے کے چکر میں اپنی اقدار اور ذمہ داری ہی بھول بیٹھی ہے۔ سوات ٹریجڈی جیسی کئی مثالیں اس بات کا شاخسانہ ہے کہ عوامی مفادات پر ذاتی مفادات حاوی ہو چکے ہیں۔ اشرافیہ کے اخراجات اٹھانے اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے عوام مزید تباہی کے لیے تیار رہیں۔ کیونکہ ملک چینی، بجلی، پیٹرول اور گندم مافیاز کی جاگیر بن چکا ہے۔ حکومتوں اور انتظامیہ کی غیر سنجیدگی اور محدود سوچ کی سزا پاکستان کی آئندہ نسلوں کو ہر سال بھگتنا ہو گی۔

ٹیگز: