انسان صفات کی رہتا میں ہے اور اس کی ذات یہاں، نہاں رہتی ہے۔ جب وہ عالمِ صفات سے رحلت کرتا ہے تو اس کی ذات عیاں ہوتی ہے اور یہاں صفات کے جہان میں رہنے والوں پر آشکار ہوتی ہے۔ مجھ پر انکشاف اس وقت ہوا، جب میں کل اپنے والد کو اس جہانِ فانی سے رخصت کر رہا تھا۔
ہم سب اپنی اپنی صفات کی دنیا میں مگن تھے۔ ہم اپنی صفات کے مقابل ان کی صفات کا تقابل کرتے رہے، کبھی اختلاف کرتے رہے، کبھی اتفاق صمیمِ قلب سے ان کی نصیحتوں پر کاربند نہ تھے۔ ہم ان کی ذات اور ان کی بات کی قدر نہ کر سکے۔ ہمارے درمیان ایک درویش خاموشی سے زندگی بسر کر گیا اور ہمیں عمر بھر خبر نہ ہوئی۔
مجھ پر ان کی عظمت کا راز بس اس قدر ہی آشکار تھا کہ وہ ایک دیانت دار سکول ٹیچر تھے، تمام عمر رزقِ حلال سے اپنی اولاد کی پرورش کی۔ کبھی اپنے سکول کے بچوں کو ٹیوشن نہ پڑھائی، کہتے کہ یہ اس معاوضے میں خیانت ہے جو بطور ملازم معلم انہیں مل چکا ہے۔ البتہ امرا کے بچوں کو، انگریزی میڈیم بچوں کو خوب ٹیوشن پڑھائی، اور اپنی صلاحیتوں کا سکہ جمایا۔ مجھے بس یہی معلوم تھا کہ وہ اپنے اصولوں پر جمے ہوئے، پختہ انسان تھے۔ جو ان کے زندگی کے اصولوں پر پورا نہ اترتا، اس سے تعلقات مدھم کر لیتے، قطع نظر اس کے، کہ اس سے اتنے ”پرانے تعلقات“ ہیں۔ وہ اپنے اصولوں پر کسی سمجھوتے کے قائل نہ تھے۔
میں ان کا سب سے بڑا بچہ تھا۔ قدرتی طور پر بڑا بچہ ڈسپلن کے معاملے میں زیادہ پستا ہے۔ والدین اپنی تمام اصول اسے بااصول بنانے میں صرف کر دیتے ہیں۔ تعلیم کے معاملے میں ذرا سی بھی کوتاہی برداشت نہ کرتے۔ وہ ایک محنتی انسان تھے اوراپنے بچوں کو بھی اپنی طرح محنتی دیکھنا چاہتے تھے۔ رات گئے جب وہ گھر واپس آتے تو ہم بہن بھائی ہاتھ میں کتاب لے کر دروازہ کھولنے جاتے، تاکہ ابو جی کو یہ باور کرا سکیں کہ ہم ابھی پڑھ رہے تھے۔
ایک بار میں نے مرشدی حضرت واصف علی واصف سے ذکر کیا کہ والد صاحب مجھ پر بہت جلال کرتے ہیں۔ آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: بھئی! ٹیچر ہیں نا! ٹیچر کے مزاج میں سختی ہوتی ہے، کوئی بات نہیں، سب ٹھیک ہے۔ پھر میرے لیے سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔ آپ کی چند محافل میں والد صاحب کو بھی بیٹھنے کی سعادت حاصل ہے۔ ان دنوں میں،
میں بہت بیمار تھا، ڈاکٹر نے موٹر سائکل چلانے سے منع کر رکھا تھا۔ آپ نے کہا: والد کو ساتھ لے آیا کرو۔ پھر چند ہفتوں تک میں والد صاحب کے ہمراہ جمعہ کی محفلوں میں شریک ہوتا رہا۔ ایک بار والد صاحب کو محکمہ جاتی مسائل نے گھیر لیا۔ ہوا یوں، کہ وہ ایک سکول میں بطور ہیڈ ماسٹر متعین ہوئے، سکول لاہور سے باہر مضافات میں تھا۔ وہاں انہوں نے دیکھا ٹیچر غیر حاضر ہیں اور سکول کے مالی معاملات میں بھی خرد برد ہو رہی ہے۔ والد صاحب نے محکمے کو ان کے خلاف کارروائی کے لیے خطوط لکھے۔ وہ مافیا طاقتور تھا، انہوں نے جوابی کارروائی کے طور اِن پر جھوٹے مقدمات دائر کر دئیے۔ ایک سادہ لوح بندہ دوسروں کو بھی اپنی طرح سیدھا سمجھتا ہے۔ اس پریشانی کے عالم میں، ایک دن مجھے کہا کہ میں نے ”تمہارے واصف صاحب“ سے ملنا ہے۔ میں ملاقات کرانے سے ذرا ہچکچا رہا تھا۔ والدِ محترم جس سکول آف تھاٹ میں تھے، وہاں تصوف اور طریقت کو ایک شجرِ ممنوعہ تصور کیا جاتا ہے۔ کچھ دن میں ٹال مٹول کرتا رہا۔ پھر ایک دن مجھے حکماً کہنے لگے، چلو میرے ساتھ، اسی وقت، ابھی! میں نے کہا: جی وہ ابھی میں نے اجازت نہیں لی۔ کہنے لگے، کوئی بات نہیں، جا کر اجازت لے لیتے ہیں۔ آپ والد صاحب سے بہت شفقت اور توجہ سے ملے، ان کا سارا مسئلہ سنا، اس بارے میں انہیں کچھ ہدایات دیں، اور مجھے کہا: انہیں پرویز ملک کے پاس لے جاو¿، وہ ان کی قانونی معاونت کریں گے۔ پرویز ملک آپ کی محفل میں شامل ایک اعلیٰ پائے کے ایڈووکیٹ تھے۔ اس واقعے کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں، کسی اور جگہ لکھوں گا۔ قصہ مختصر، چند دنوں میں یہ معاملہ حل ہو گیا اور والد محترم عافیت میں آ گئے۔ ایک بار انہوں نے آپ سے داتا صاحب جانے کی اجازت طلب کی، تو فرمایا: آپ میاں میر جایا کریں، اور ساتھ کچھ پڑھنے کی بھی تلقین کی۔ مرشدِ محترم نے ایک بار والد محترم کی تعریف ان کی غیر موجوددگی میں ان الفاظ میں کی: بہت اچھے استاد ہیں، ایک استاد کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔
والد محترم کو ہم سب بہن بھائی ”ابو جی“ کہتے ہیں۔ میرے چچا تایا میرے دادا جی کو ”ابا جی“ کہتے تھے۔ میرے بچے مجھے ”بابا“ کہتے ہیں۔ انہیں میرے بچوں کا مجھے بابا کہنا بہت اچھا لگتا تھا۔ زندگی کے ساٹھ برس کے جسمانی بندھن پر نظر دوڑاتا ہوں تو آنکھیں پُرنم ہوئی جاتی ہیں۔ اب یہ بندھن جسم سے نکل کر روح تک آن پہنچا ہے جو ہمیشہ کے لیے ہے۔
انہیں میرے بچوں کی تعلیم کی بھی بڑی فکر رہتی۔ میں اپنے آپ میں مگن رہتا، اپنے فکری اور تخلیقی سفر میں مجھے کچھ معلوم نہ ہوتا کہ میرے بچے کب کلاس میں کیا کر رہے ہیں، ان کی تعلیمی فکر میری بیگم کو تھی یا پھر بچوں کے ”دادا ابو“ کو۔ سماعت میں ثقل تھا، جو عمر کے ساتھ ساتھ گہرا ہو چلا تھا۔ چھوٹا بھائی، محمد علی اعوان، ان کے ساتھ زیادہ اٹیچ تھا، وہ ہانگ کانگ سے طرح طرح کے قیمتی آلہ سماعت لا کر دیتا، کچھ دن لگا کر چھوڑ دیتے۔ کہتے: یہ بھی ایک نعمت ہے۔ بہت سی لغو باتیں سننے سے بچ جاتا ہوں۔
اپنے ملازمین کے ساتھ اس قدر شفقت سے پیش آتے کہ جو ایک بار ان کے ساتھ منسلک ہو گیا، وہ کہیں اور بھی چلا گیا تو انہی کی محبت کا دم بھرتا رہا۔ دامے درمے سخنے، اپنے ماتحتوں کی ہر ممکن مدد بھی کرتے اور زندگی کے ہر معاملے میں ان کی رہنمائی بھی۔ اپنے بہت سے ماتحتوں کو سودی قرض سے نجات دلوائی۔ نادار لوگوں کو فراخدلی سے قرضِ حسنہ دیتے، کہتے اس کا زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ ایمرجنسی میں وھیل چیئر پر جاتے جاتے محمد علی کوہدایات کر رہے تھے: پندرہ ہزار اسے دے دینا، پندرہ فلاں کو اور پندرہ فلانے کو، اس نے مجھ سے کل مانگے تھے۔ ان کی رحلت پر ان کے ملازمین جس طرح آہ و بکا کر رہے تھے، ان کی محبت دیکھ کر مجھ ذاتی طور پر بہت حیرت ہوئی۔ عنایت کہہ رہا: آج میرا مرشد چلا گیا۔ فریاد بلک بلک کر رو رہا تھا، اور کہتا جا رہا تھا: آج میرا باپ مر گیا ہے۔ کمال ہے، چپکے چپکے سے دلوں میں اتنی محبتیں بکھیرنے والا چپکے ہی سے ہم سے روپوش ہو گیا، منوں مٹی کی چاد اوڑھ کر سو گیا۔ انہوں نے زندگی میں بہت سے غریب گھرانوں میں امید اور تعلیم کے چراغ جلائے۔ وہ بہت سی خوب صورت باتیں، جو ہم آج کل پڑھتے ہیں، لکھتے ہیں اور ایک دوسرے کو بھیج کر داد وصول کرتے ہیں، میرے والد ان پر عمل پیرا تھے۔
ابو جی! ہم شرمندہ ہیں، ہم آپ کی وہ قدر نہیں کر سکے جس قدر کے آپ مستحق تھے۔ اب آپ کی قدر وہی کر رہا ہے، جو قدر دان ہے، جو سب قدروں کا خالق ہے، جو کسی کا احسان ضائع نہیں ہونے دیتا۔ آپ نے ساری عمر ہمیں دعائیں دی ہیں، وہاں جا کر بھی دعاو¿ں میں یاد رکھیے گا، وہاں تو آپ اس در کے اور زیادہ قریب ہو گئے جہاں دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور ہاں! ابو جی! وہ دعا بھی آپ نے ضرور کرنی ہے، جو آپ نے مسجدِ نبویؓ کے صحن میں بیٹھ کر مجھ سے سر خوشی کے عالم میں خود کہا تھا: اظہر! بتا! میں تمہارے لیے کیا دعا کروں؟۔