Wed, September 16, 2026

 بنوں خودکش حملے کے پیچھے 'افغان کنکشن' بے نقاب، فتنہ الخوارج ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد

 بنوں خودکش حملے کے پیچھے 'افغان کنکشن' بے نقاب، فتنہ الخوارج ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد

راولپنڈی  / بنوں : بنوں کے علاقے سرہ درگہ میں پاک فوج کی گاڑی پر ہونے والے بزدلانہ خودکش حملے کی تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی سرحد پار افغانستان میں کی گئی، جہاں فتنہ الخوارج کے گروہ محفوظ پناہ گاہیں استعمال کر رہے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق      حملے کی ذمہ داری فتنہ الخوارج کے ذیلی گروہ 'اتحاد المجاہدین' نے قبول کی ہے۔
    یہ گروہ براہِ راست حافظ گل بہادر کے زیرِ اثر ہے، جس کا مرکزی سرغنہ اور اہم کمانڈر اس وقت افغانستان میں مقیم ہیں اور وہیں سے پاکستان میں تخریب کاری آپریٹ کر رہے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ میں یہ ہوش رُبا انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد عناصر یا تو افغان نژاد ہیں یا ان کا تعلق افغانستان میں موجود نیٹ ورکس سے ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ     "افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے میں امن کی کوششوں کو براہِ راست سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ یہ وہی نیٹ ورک ہے جو گزشتہ سال سے بنوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔    4 مارچ 2025 رمضان المبارک کے دوران بنوں کینٹ پر حملہ (منصوبہ بندی: افغانستان)۔    2 ستمبر 2025 ایف سی بنوں پر حملہ۔ 
سرہ درگہ اور ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن جاری ہے تاکہ مقامی سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ سرحد پار سے مداخلت کا مقصد ملک میں بدامنی پھیلانا ہے، جس کا پاک فوج بھرپور اور دندان شکن جواب دے رہی ہے۔

ٹیگز: