Wed, September 16, 2026

بنددرواز

بنددرواز

ملک کی سیاسی فضا مکدرہے ،سردی کے موسم میں شدت کے ساتھ پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات بھی اب تیزی اور شدت والی سزاؤں کے ساتھ منطقی نتائج کی طرف گامزن کردیے گئے ہیں۔پنجاب کی صوبائی حکومت سموگ سے لڑرہی ہے اور فضا کو کچھ صاف رکھنے کے لیے پانی والی توپیں(اسموگ گن) استعمال کررہی ہے تو دوسری طرف اڈیالہ کے باہر بھی پانی والی توپ مستقل کھڑی کردی گئی ہے تاکہ وہاں جو ہر ہفتے احتجاج اور پھر دھرنا دے دیا جاتا ہے اس کومنتشر کیا جاسکے۔اس ہفتے کے آغازمیں سینئر صحافی انصارعباسی صاحب کی ایک خبر نے دودن مفاہمتی موضوع کو زیر بحث رکھاکہ اب پی ٹی آئی سے مفاہمت اڈیالہ کی بجائے براستہ کوٹ لکھپت تلاشی جارہی ہے۔لیکن ہفتے کا اختتام جن سزاؤں پر ہوا ہے وہ کچھ اور کہانی سنارہی ہیں ۔
مفاہمت براستہ کوٹ لکھپت والی خبروں کے بعد میں نے بھی اصل خبر کی تلاش شروع کی تو معلوم ہوا کہ ایسی مفاہمتی خبریں اصل میں خبریں نہیں بلکہ خواہشوں کا ذخیرہ ہے جن کا تعلق پی ٹی آئی چھوڑ کر جانے والے سابق پی ٹی آئی رہنماؤں سے ہے۔یہ وہ رہنما ہیں جو اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی کے مخالف رہے ہیں اور ہر حال میں پنڈی سے بہتر تعلقات کی تبلیغ کرتے رہے ہیں۔ان میں فواد چودھری ،عمران اسماعیل سرفہرست ہیں۔ان لوگوں نے یہ مفاہمتی فارمولا پیش کیا تھا کہ فی الحال اڈیالہ کو چھوڑکر کوٹ لکھپت کا رخ کیا جائے ۔کوٹ لکھپت میں شاہ محمود قریشی ، یاسمین راشد،محمود الرشیدعمرچیمہ اور اعجازچودھری وغیرہ قید ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں جو موجودہ حالات سے خود اور پارٹی کو نکالنا چاہتے ہیں ،پی ٹی آئی میں بھی رہنا چاہتے ہیں لیکن عمران خان کو مائنس نہیں کرنا چاہتے۔جبکہ دوسری طرف فواد چودھری گروپ عمران خان کو مائنس کرنے کے حق میں ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں سیاسی ماحول بہتر ہو۔مزاحمت ختم ہوچاہے اس میں عمران خان صاحب بھی سیاسی طورپر غیر فعال ہوجائیں۔
میرے ذرائع کہتے ہیں کہ فوادچودھری (میں چودھری صاحب کا اکیلے نام استعارے کے لیے لکھ رہا ہوں ورنہ ان کے ساتھ باقی دوست بھی ہیں جو نومئی کے بعد پی ٹی آئی سے الگ ہوئے ہیں اور مفاہمت کی سیاست کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کو پی ٹی آئی کی مزحمت کا سامنا ہے)گروپ نے یہ تجویز کچھ عرصہ پہلے حکومت کے کچھ رہنماؤں کو پیش کی تھی ۔اس تجویز پر کچھ کام بھی ہوا ،یعنی گفتگو وغیرہ چلی ۔ اس بات پر تو اس گروپ کا اتفاق تھا کہ عمران خان کو (فی الحال)مائنس کرکے شاہ محمود قریشی کو آگے لگایا جائے اور پارٹی کو مزاحمتی ٹریک سے نیچے اتاراجائے ۔شاہ محمود قریشی کی مختلف مقدمات میں بریت نے اس آئیڈیے کو سہارا بھی دیا۔شاہ محمود قریشی کی بریت پر سوال بھی اٹھائے گئے کہ وہ شاید اسٹیبلشمنٹ کی گیم کھیل رہے ہیں ۔ شاہ محمود قریشی کی سیاست ہی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رہی ہے ۔ آج ان پرالزام لگانے والے پی ٹی آئی کے جنگجو یہ بھول جاتے ہیں کہ شاہ محمود قریشی جب دوہزا ر گیارہ میں پیپلزپارٹی اور وزارت خارجہ چھوڑ کرپی ٹی آئی میں آئے تھے تو اس وقت بھی ان کا یہ فیصلہ ذاتی سیاست کا نہیں بلکہ انہی کے حکم پر تھا لیکن انقلابی اپنی ہی تاریخ بھول جاتے ہیں ۔شاہ محمود قریشی کو نومئی کے مقدمات میں لاہورمیں سزاہونا مشکل ہے کیونکہ شاہ محمود قریشی نومئی کو کراچی میں ہونا ثابت کرچکے ہیں یہاں وہ نجی دورے پر تھے اس لیے عدالت ان کو سزاؤں کی بجائے بری کررہی ہے۔
میرے ذرائع کہتے ہیں کہ کوٹ لکھپت میں قید وہ لوگ جن کو پی ٹی آئی کا فرنٹ لائن لیڈر بناکر پارٹی چلانے کے لیے مفاہمتی رنگ دیے جانے کا پروگرام تھا انہوں نے سچے دل سے نو مئی پر معافی مانگنے سے ہچکچاہٹ دکھائی اور اس قدر راضی تھے کہ اسی طرح انہیں جیل سے نکال کر پی ٹی آئی کے لیے آسانیاں تلاش کرنے کا موقع دیاجائے وہ بانی کے نام کی ہی سیاست کرنا چاہتے ہیں ۔یہ شرط کسی کو بھی قابل قبول نہیں تھی یہاں تک کہ فواد چودھری گروپ کے مفاہمت براستہ کوٹ لکھپت جیل کے اوریجنل آئیڈیے سے بھی میل نہیں کھاتا تھا۔اس لیے یہ مفاہمتی کوششیں نتیجہ خیز نہیں ہوسکیں۔جب آئیڈیا ہی فلاپ ہوگیا تو پھر خبر میڈیا کو لیک کردی گئی تاکہ نیک نامی ہوسکے کہ وہ لوگ پی ٹی آئی کو مزاحمت سے ہٹاکر مفاہمت کی طرف لانے کی سنجیدہ کوششیں کررہے ہیں ۔مائنس اڈیالہ مفاہمت براستہ کوٹ لکھپت چائے کی پیالی میں ایک طوفان لانے کی کوشش کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔خبریں لگوانے کا مقصد صرف خود کو سیاسی طورپر ریلیونٹ رکھنا تھا اور ایسا ہی ہوا دودن تک فواد چودھری گروپ میڈیا اسکرینوں پر موجود رہا ۔عمران اسماعیل سے فواد چودھری تک کی میڈیا مانگ میں اضافہ ہوا اور پھر جمعہ کے فیصلے کے ساتھ ہی یہ کہانی ختم ہوئی۔
اس مفاہمتی خبروں کا جواب پہلے کوٹ لکھپت جیل سے آیا جب جمعہ کو نومئی کے ایک مقدمے میں یاسمین راشد، اعجاز چودھری،میاں محمود الرشید اور عمر چیمہ کو دس دس سال قید کی سزا ئیں سنادی گئیں ۔اور ا سکے بعد کل ہفتے کے دن کا آغاز اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس میں سزا کے ساتھ ہوا۔اس کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو سترہ سترہ سال قید کی سزائیں سنادی گئیں۔اب عمران خان اور ان کی اہلیہ بیک وقت دو مقدمات میں سزایافتہ قیدی ہیں ۔القادر ٹرسٹ کے بعد یہ نیب کی طرف سے دوسری بڑی سزاہے۔
نومئی کے کیس میں جمعہ کو کوٹ لکھپت سے آنے والا فیصلہ اورہفتے کے دن اڈیالہ جیل سے آنے والا فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ کوٹ لکھپت اور نہ ہی اڈیالہ مفاہت کی کسی بھی شرط کو قبول کرتا ہے اور نہ ہی مفاہمت کے لیے مطلوبہ ماحول ملک میں موجود ہے۔سوال یہ ہے مفاہمت کون نہیں چاہتا؟ کیا اسٹیبلشمنٹ مفاہمت نہیں چاہتی ،کیا حکومت مفاہمت نہیں چاہتی یا پھر پی ٹی آئی اور عمران خان مفاہمت نہیں چاہتے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ مفاہمت کی بات سب کرتے ہیں لیکن یہ سیاسی نعرے بازی کے لیے ہے حقیقت میں اس وقت کوئی بھی فریق اپنی جگہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہے ۔اسٹیبلشمنت کی خواہش ہے کہ مفاہمت ہو اور ایسی مفاہمت ہو کہ عمران خان نومئی پر صدق دل سے معافی مانگیں اور ندامت کا اظہار کریں یہ پیشکش ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی پریس کانفرنس میں کرچکے ہیں ۔ حکومت چاہتی ہے کہ مفاہمت اس طرح کی ہوجائے کہ پی ٹی آئی کے جو لوگ اس وقت اس سسٹم کا حصہ ہیں وہ سیاست کریں ۔اپوزیشن بھی کریں لیکن خود کو عمران خان کی رہا ئی اور باقی سیاست سے الگ کرلیں۔یعنی مائنس عمران خان مفاہمت حکومت کے لیے قابل قبول ہے ۔اب دوسری طرف پی ٹی آئی اور عمران خان ہیں جو اپنی شرائط پر مفاہمت چاہتے ہیں ۔ وہ پھر ماضی کا لاڈلالہ پن تلاش کررہے ہیں ۔ ان کی خواہش ہے کہ ان کی بجائے اسٹیبلشمنٹ ان سے مانگے اور ان کو اسی طرح سیاسی دولہا بنایا جائے جس طرح دوہزار گیارہ میں ان کو گود لے کر مسند اقتدار پر بٹھایا گیا تھا۔اس کے علاوہ وہ کسی طرح کی مفاہمت نہیں چاہتے اور اس طرح کی مفاہمت نہ اسٹیلشمنٹ کو قبول ہے اور نہ ہی حکومت کو۔

ٹیگز: