Wed, September 16, 2026

لاشریکَ لکَ

لاشریکَ لکَ

نیوزی لینڈ سے مہتاب قمر، کہ ایک شاگردِ رشید ہے، کافی فلسفیانہ اپروچ رکھتا ہے، شاعری بھی اچھی کر لیتا ہے، کی طرف سے ایک سوال موصول ہوا ہے، کافی پیچیدہ ہے، لیکن اس کا تعلق ہماری فکری راست روی اور عقائد کی درستی کے ساتھ ہے، اس لیے یہاں نقل کیا جا رہا ہے اور اِس کا مختصر جواب بھی! برخوردار کا برقیاتی نامہ بر وزنِ سوال نامہ کچھ یوں تھا:
”السلام علیکم سر جی!.... ایک علمی نوعیت کا سوال تھا، جو confuse کر رہا تھا۔ نفس پر تو تقریباً تمام مذاہب کے لوگوں سے بات ہو سکتی ہے، کہ سب ہی کے ہاں ریاضت کا طریقہ رائج ہے اور وہ اسکے شر سے اپنے اپنے level پہ کچھ ادراک رکھتے ہیں، لیکن روح کے معاملے میں بہت اختلاف ہے۔ کشف المحجوب میں داتا حضورؒ نے فرقہ حلولیہ کے باب میں روح کے قدیم یا حادث ہونے کی بات کی ہے، وہاں یہ نتیجہ سمجھ میں آیا کہ روح مخلوق ہے۔ لیکن قرآن پاک میں جو ”ونفخت فیہ من روحی“ یا کچھ مقامات پر ”روحی منہ“ جیسے الفاظ ہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان میں کیا اللہ کی روح سے کچھ حصہ آیا؟ ایسی آیات کا مفہوم کیا ہے؟ اس سے جو شبہ فرقہ حلولیہ کے ہاں بیان ہوا ہے، وہ پھر کیسے ختم ہو؟ مجھے امید ہے اس الجھن کے دور ہونے سے نصاری کے روح کے متعلق عقائد اور ہمارے ہاں رائج وحدت الوجود کے بعض بیانات، جن سے اللہ اور مخلوق کی حقیقت دھندلا سی جاتی ہے، وہ شاید حل ہو۔ کیا روح صفت ہے یا عین ذات، قائم بذات خود؟: کیا روح قدیم eternal ہے یا حادث؟ اگر قدیم ہے تو کیا قدیم زمانی ہے یا قدیم ذاتی (وجودی ماہیئت wise)؟ کیا روح خود سے exist کرتی ہے؟ یا اپنی existence کے لیے کسی محل کی محتاج ہے؟ اور اگر محل کی محتاج ہے تو قدیم کا محل حادث (مخلوق) کیسے ہو سکتی ہے؟ اور اگر یہ خود سے exist کرتی ہے تو مخلوق سے تعلق کیسا ہے؟ اُمّید کرتا ہوں کہ اِن تمام سوالوں کے جواب سے میرے اور میرے حلقہ احباب کے نظریات اس معاملے میں ٹھیک ہوں گے کیونکہ نیم ملاں خطرہ ایمان ہے، خود اپنے لیے بھی اور اپنے احباب کے لیے بھی ....! اور آخر میں ایک سوال یہ کہ صوفیانہ شاعری میں اللہ اور بندے میں حدود کچھ دھندلاتی محسوس ہوتی ہیں .... ایسا کیوں ہے؟۔
جواب:
مہتاب میاں! جگمگاتے رہو۔ روح قدیم نہیں، حادث ہے۔ روح کو موت نہیں .... اور یہ لازم نہیں کہ جسے موت نہ آئے، وہ قدیم ہی ہو۔ روح کو ایک کنارے کا سمندر کہا جاتا ہے۔ یعنی روح کا آغاز تو ہے، اس کا انجام نہیں۔ اس کی پیدائش ہے، اختتام نہیں۔ ”کشف المحجوب“ میں داتا حضورؒ نے روح کو جسمِ لطیف کہا ہے۔ گویا روح کو قدیمِ ذات سے کوئی تعلق نہیں .... نہ زمانی، نہ مکانی اور نہ وجودی؟ اب رہی بات ”ونفخت± فیہ من روحی“ .... اپنی روح میں سے کچھ پھونک دیا .... دراصل یہاں ”روحی“ (اپنی روح) سے فکری اشکال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ شائد یہ روحِ خدا کی بات ہو رہی ہے۔ غور کرو، صرف روح ہی کیوں؟، مادہ بھی اُسی کا ہے .... حکم بھی اُسی کا ہے، علم بھی اُسی کا ہے۔ علمِ لدنّی کے بارے میں جیسے کہا گیا ہے .... ” اسے (خضرؑ) ہم نے اپنے پاس سے خاص رحمت دی تھی اور اسے اپنے پاس سے علم (”علمِ لدنّی“) عطا فرمایا تھا“۔
مالک الملک ہونے کی حیثیت کائنات میں کارفرما ہر اَمر اسی ذات کی طرف منسوب ہو گا۔ وہ سب میں ہے، لیکن سب سے جدا ہے۔ ہر مکان اور ہر زمان اُسی کا ہے، لیکن وہ کسی مکان میں مقید نہیں، کسی زمان میں قید نہیں۔ .... الغرض ہر مادی اور غیر مادّی چیز اُسی کی ہے۔ ہر فعل اُسی کی طرف منسوب ہو گا، لیکن وہ فاعل نہیں۔ فاعل ہونا اس کے شایان شان ہی نہیں۔ یہ صرف نسبت ہے، جو اس ذات کی طرف دی جاتی ہے۔ ہر شئے، ہر فعل اور ہر اَمر کی نسبت اُسی کی طرف دی جاتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شے اُس کی ذات کا حصہ ہے۔ اُس کی ذات منزہ ہے .... وہ ہر شے سے منزہ ہے .... ہر فعل سے مبرا ہے۔ لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کُفواً احد .... وہ واقعی بے نیاز ہے .... ہر شے سے .... کسی شَے کو لا شَے کی طرف راہ نہیں۔ اگرچہ بغرض تفہیم خالق کو قلزم اور مخلوق کو قطرہ کہہ دیا جاتا ہے لیکن یہ مثال بھی یہاں کامل نہیں، کیونکہ وہ ایسا قلزم ہے جو قطروں کے جمع ہونے سے نہیں بنا۔ یعنی یہاں تمام قطروں کا مجموعہ قلزم نہیں کہلائے گا، بلکہ قلزم کا اصل وجود، قطروں کی نفی کے بعد حاصل ہو گا۔ قلزم تب بھی قائم و دائم تھا، جب کوئی قطرہ موجود نہ تھا، اور تب بھی قائم رہے گا، جب کوئی قطرہ بھی نہ رہے گا۔ قطرہ قلزم کا جلوہ تو ہو سکتا ہے، قلزم کا حصہ نہیں۔ دراصل یہی اصل ِ توحید ہے .... کہ قدیم کو حادث سے الگ مانا جائے۔ قدیم اور حادث کے درمیان حدِ فاصل برقرار رہے۔ جلوہ، ذات نہیں .... اگرچہ وہ ذات کا قائم مقام ہی ہوتا ہے۔ دھوپ سورج کا جلوہ ضرور ہے، سورج نہیں۔ سورج نہ ہو تو کوئی دھوپ نہیں۔ دھوپ سورج کے ہونے کی فقط ایک دلیل ہے .... اور بس! جس دن دھوپ زمین تک نہ پہنچی تو اِس کا یہ مطلب نہ ہو گا سورج کا وجود نہیں رہا، سورج کسی اور کروٹ جلوہ افروز ہو سکتا ہے، کسی اور مقام پر طلوع ہو سکتا ہے۔ اس نامکمل مثال میں سورج کے مقابلے میں زمین حادث ہے۔
درحقیقت توحید کے حقیقی تصور کو یہ چار تصورات خراب کرتے ہیں: حلول، اشتراک، اشتمال اور اتحاد۔ ان چاروں تصورات میں مخلوق کو خالق کے ساتھ کسی نہ کسی طریقے سے شریک کر لیا جاتا ہے۔ اگر ان چاروں تصورات سے شعور کو پاک کر لیا جائے تو توحید کے اصل تصور کی تفہیم ہو سکتی ہے۔ ” لاشریکَ لَک“ .... ”اُس کا کوئی شریک نہیں“ .... اس ایک جملے میں ان چاروں شرکیہ تصورات (حلول، اشتراک، اشتمال، اتحاد) کی نفی ہو جاتی ہے۔
صوفیانہ شاعری میں خالق و مخلوق کی حد دھندلاتی نہیں، بلکہ ان کے ہاں حالتِ جذب میں، غلبہِ محبت میں، جذبِ دروں کے زیر اثر، مخلوق ان کی نظروں میں معدوم ہونے لگتی ہے اور خالق کا جلوہ مشہود ہونے لگتا ہے .... ایسے عالم میں وہ جلوہِ صفات سے نکل کر جلوہِ ذات میں محو ہو جاتے ہیں۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ صوفی توحید کا اصل حافظ ہوتا ہے۔ توحید اس کا تجربہ ہوتا ہے، محض کتابی تصور نہیں۔ وہ علم الیقین سے ہوتا ہوا، عین الیقین اور پھر حق الیقین میں داخل ہو جاتا ہے۔ ہم تو عین الیقین والے کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کوئی بات نہیں کر سکتے، کجا حق الیقین والے کی ہاں میں کوئی ناں کرنے کی جسارت کریں۔ آفتاب آمد دلیلِ آفتاب!
مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کی منقبت بحضور داتا گنج بخشؒ کا پہلا شعر بتا رہا ہے کہ تفہیم ِ توحید کے مراکز کہاں ہیں:
السلام اے سیّدِ ہجویر قطبِ الاولیائ
السلام اے مرکزِ توحید انوارِ الٰہ

ٹیگز: