Wed, September 16, 2026

بقائے انسانی کا ضامن

بقائے انسانی کا ضامن

خطے کے افق پر ابھرتی ہوئی یہ نئی صبح تاریخ کے دھارے کو بدلنے کے لیے تیار ہے جہاں اسلام آباد کی سرزمین ایک بار پھر امن کے پیامبر کے طور پر سامنے آئی ہے حکومت پاکستان نے غیر معمولی سفارتی مہارت اور سٹرٹیجک بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے اس دوسرے مرحلے کو ممکن بنایا ہے جس کی بنیاد رکھنے میں وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی شبانہ روز کاوشیں ایک کلیدی کردار کی حیثیت رکھتی ہیں ان مذاکرات کی کامیابی درحقیقت پاکستان کی اس متوازن خارجہ پالیسی کی فتح ہے جو خطے میں کشیدگی کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے ایران کی جانب سے خطے میں مداخلت کے خاتمے اور جوہری پروگرام پر سخت گیر موقف کے باوجود مذاکرات کاروں نے انتہائی تدبر سے کام لیتے ہوئے کئی اہم نکات پر اتفاق رائے پیدا کیا ہے جہاں ایران کی اپنی خود مختاری کے تحفظ اور معاشی پابندیوں کے خاتمے سے جڑی شرائط کو وسیع تر انسانی بنیادوں پر تسلیم کر لیا گیا ہے وہیں کچھ سٹرٹیجک تحفظات جن پر عالمی برادری کو خدشات تھے انہیں مذاکرات کی میز پر حل طلب رکھا گیا ہے ان حالات میں حماس کا مستقبل ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے اب عسکریت پسندی کی جگہ سیاسی دھارے میں شامل ہو کر ایک نئی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا یہ سمجھوتہ محض ایک جنگ بندی نہیں بلکہ ایک نئی عالمی ترتیب کا نقطہ آغاز ہے جس میں پاکستان کا کردار ایک ثالث اور امن کے ضامن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا یہ پیش رفت ثابت کرتی ہے کہ جب ارادے بلند ہوں اور سفارت کاری کا دامن تھاما جائے تو دنیا کی پیچیدہ ترین الجھنوں کے بند دروازے بھی کھل جاتے ہیں اور امن کی نوید ہر دل کی دہلیز تک پہنچتی ہے۔
اسلام آباد کی فضاو¿ں میں امن کی نوید لہرانے کے ساتھ ہی عالمی قوتوں کے سربراہان کی آمد کی گونج خطے میں ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے جن میں مشرق وسطیٰ کے بااثر رہنماو¿ں کے علاوہ یورپی یونین اور اہم ایشیائی طاقتوں کے حکمرانوں کی شرکت ان جلیل القدر شخصیات کا ایک ہی چھت تلے جمع ہونا پاکستان کی سفارتی بالادستی کا منہ بولتا ثبوت ہے اگر پاکستان اس مشکل ترین مرحلے کو کامیابی سے ہمکنار کر کے ایران اور امریکہ کے مابین صلح کا جھنڈا گاڑ دیتا ہے تو یہ محض ایک سفارتی فتح نہیں بلکہ عالمی سیاست کا محور بدلنے کے مترادف ہوگا اس کامیابی سے پاکستان کا وقار اور رعب ایسا بلند ہوگا کہ دنیا کی صف اول کی طاقتیں پاکستان کو امن کا ناگزیر ضامن ماننے پر مجبور ہو جائیں گی عالمی برادری میں پاکستان کا مقام ایک ایسے سٹرٹیجک مرکز کے طور پر ابھرے گا جہاں سے نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کے تنازعات کے حل کا راستہ نکلے گا یہ عزت و وقار پاکستان کے ماتھے کا جھومر بنے گا اور ہماری خارجہ پالیسی کے وہ تمام نقاد جو ملک کی ساکھ پر سوال اٹھاتے تھے وہ بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے کہ پاکستان وہ فولادی ستون ہے جس پر عالمگیر امن کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے اس کارنامے سے پاکستان کا عالمی قد کاٹھ اتنا بلند ہوگا کہ اسے نظر انداز کرنا یا کسی بھی عالمی فیصلے میں اس کی رائے کو اہمیت نہ دینا ناممکن ہو جائے گا اور ہم تاریخ کے صفحات میں امن کے سب سے بڑے معمار کے طور پر ہمیشہ زندہ رہیں گے ان شاءاللہ ۔
اگر شیطانی طاقتوں کی سازشوں سے امن کے یہ چراغ بجھ گئے تو زمین پر ایک ایسی قیامت صغریٰ برپا ہوگی جس کی ہولناکیوں سے تاریخ کی آنکھیں خون روئیں گی امریکہ اسرائیل اور ایران کو اس جنگی بھینٹ میں اپنی معاشی طاقت تہذیبی ورثے اور انسانی تقدیر کی ایسی ہولناک قیمت چکانا پڑے گی جس کا تصور بھی روح کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے یہ محض ملکوں کا ٹکراو¿ نہیں بلکہ انسانیت کی اجتماعی خودکشی کا منظرنامہ ہوگا جس میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال زمین کے سینے کو چیر کر رکھ دے گا ایران کی چھ ہزار سالہ قدیم تہذیب کے آثار اور انسانیت کی ہزاروں سالہ ترقی ایک پل میں خاکستر ہو کر تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو جائے گی یہ تباہی محض کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کا ہولناک زہریلا غبار پوری کرہ ارض کی سانسیں بند کر دے گا اور آنے والی نسلیں صرف راکھ کے ڈھیر اور تابکاری زدہ ویران زمین کی وارث بنیں گی دنیا کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس جنگ کا انجام صرف فاتح اور مفتوح کا فیصلہ نہیں بلکہ زندگی کی مکمل نابودی ہے لہذا اس وحشت خیز انجام کو روکنے کے لیے سفارت کاری کے ہر دروازے پر دستک دینا اور امن کی ہر کوشش کو کامیاب بنانا اب انسانیت کی بقا کا آخری اور واحد راستہ ہے۔
پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ ہم نے ہمیشہ امن کی خیرات بانٹی ہے اور کبھی جارحیت کی پہل نہیں کی مگر اپنی ساکھ اور قومی وقار پر آنچ آنا ہمارے لیے ناقابل قبول ہے اب وقت آ چکا ہے کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان جاری تلخیوں کے برفیلے پہاڑوں کو پگھلانے کے لیے مذاکرات کی میز کو آخری حل بنایا جائے کشمیر کا دیرینہ تنازع اور پانی جیسے زندگی بخش مسائل پر دانشمندی سے فیصلہ کرنا وقت کی سب سے بڑی پکار ہے باہمی تجارت اور روابط کا بڑھنا دونوں ممالک کے کروڑوں غریب عوام کی تقدیر بدل سکتا ہے اور جنگ کے منحوس سائے کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کے سیاہ خانوں میں دفن کر سکتا ہے ہمارے لیڈران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی کی حقیقی معراج اسلحہ کے انبار میں نہیں بلکہ پڑوسیوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے سنہری اصولوں میں پوشیدہ ہے اگر ہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر نفرتوں کو دفن کر دیں تو یہ خطہ دنیا کا سب سے خوشحال اور طاقتور ترین اقتصادی مرکز بن کر ابھرے گا یہ آخری موقع ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو جنگ کا جہنم دینے کے بجائے امن کا گہوارہ تحفے میں دیں اور ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر غربت جہالت اور پسماندگی کے خلاف مشترکہ جنگ لڑیں تاکہ دنیا ہم پر رشک کرے اور جنوبی ایشیا امن اور ترقی کا نیا استعارہ بن جائے۔

ٹیگز: