تحریک لبیک پاکستان اپنے قیام سے آج تک شکوک و شبہات کے گرے ایریاز میں ہی چل رہی ہے ،گو بعد میں اسے بطور ایک سیاسی جماعت کے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ کروا کر اسے قومی سیاسی دھارے میں بھی شامل کیا گیا لیکن فیض آباد دھرنے سے آپریشن مریدکے تک شکوک کے سائے اس جماعت سے ہٹنے کی بجائے مزید گہرے ہوتے چلے گئے کیونکہ سپریم کورٹ کے ایک دو رکنی بنچ جس کی سربراہی سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے تھے ۔جن کے ہمراہ سابق جسٹس مشیر عالم بھی موجود تھے جنہوں نے فیض آباد دھرنا کیس میں لئے گئے ۔سو موٹو کیس کے فیصلہ میں اس جماعت کی الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن پر جس سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے تھے جوعدالتی ریکارڈ کا حصہ ہیں جن کا آج تک یہ جماعت کوئی تسلی بخش جواب فراہم نہیں کر سکی ۔ اسی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ تحریک لبیک پاکستان کی رجسٹریشن ملک سے باہر یعنی دبئی میں بیٹھے ایک شخص کے نام سے ہوئی تھی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس جماعت کی سکیورٹی کلیئرنس میں پیدا ہونے والے اتنے بڑے خلا کو کیسے پر کیا؟۔
یہ جماعت کیا جواب دیتی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی ان سوالات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور اس دوران ملک میں ہونے والے دو عام انتخابات میں تحریک لبیک پاکستان نے باقاعدہ حصہ لیا اور ملک کے طول و عرض سے اس جماعت نے لاکھوں ووٹ حاصل کئے جبکہ اپنی پہلی انٹری میں یہ جماعت پاکستان مسلم لیگ کے وزیر قانون زاہد حامد کا سیاسی کیریئرختم کر کے گھر واپس آئی۔
حکومت پنجاب کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی یہ واحد مذہبی سیاسی جماعت ہے جس کے خلاف اپنے قیام سے آج تک صرف صوبہ پنجاب کی حد تک ریکارڈ دہشت گردی کے مقدمات درج ہیں ،سال دو ہزار سولہ سے آج تک اس جماعت کے خلاف 329 دہشت گردی کے مقدمات پنجاب بھر کے تھانوں میں درج ہیں جن میں 132329افراد نامعلوم اور نامزد ہیں جس میں سے 5920 افراد گرفتار ہوئے 216 مقدمات کے چالان مکمل کر کے عدالتوں میں گئے جس میں سے 1810 افراد بری ہو گئے ۔
حیرت انگیز طور پر صرف 34 افراد کو سزائیں ہوئیں اس کے ساتھ 139 افراد تاحال مفرور ہیں۔ اس جماعت کے خلاف درج کئے گئے دیگر مقدمات کی تعداد 525 ہے جن میں 39652 افراد نامزد ہیں د ہشت گردی اور دیگر مقدمات میں کل ملا کر 6603 افراد نامزد ملزمان ہیں جس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پونے دو لاکھ کے قریب وہ نامعلوم افراد ہیں جو دہشت گردی کے سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملوث ہیں ۔
یہ اعداد و شمار ایک مرتبہ پھر ملک کے کریمنل جسٹس سسٹم پر انتہائی سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں صاف ظاہر کہ ان مقدمات کا مدعی کوئی پرائیویٹ پرسن تو نہیں ہو گا لامحالہ تمام مقدمات ریاست کی مدعیت میں ہی درج کئے گئے ہونگے انہی تمام مقدمات کو ریاست کا کریمنل جسٹس سسٹم ڈھنگ سے نمٹا لیتا تو آج ریاست کو کسی پر پابندی لگانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ اعداد و شمار تو مزید بھی ہیں لیکن سمجھ نہیں آتی کہ روئوں دل کو یا پیٹوں جگر کو میں ۔
بات پھر وہی ہے کہ اس کریمنل جسٹس سسٹم کو ٹھیک کس نے کرنا ہے ؟۔آج ریاست اگر ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے نان سٹیٹ ایکٹرز سے جان چھڑوانے کا طے کر چکی ہے آج جب آئی جی پنجاب یہ کہتے ہیں کہ بس اب بہت ہو چکی، کاش یہ فیصلہ پہلے کر لیا جاتا تو شاید بہت کچھ بچایا جاسکتا تھا ۔ اب بھی اگر ہم اپنی پولیس سے خوب سے خوب تراور سو فیصد نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ملک کے کریمنل جسٹس سسٹم کی مکمل اوورہالنگ کرنا ہو گی۔ اس کی کیپسٹی بلڈنگ کرنا ہو گی ان پونے دو لاکھ افراد کا اس وقت قانونی سٹیٹس کیا ہے ۔ اس بارے کوئی علم نہیں۔
یہاں ضروری بات یہ ہے کہ کوئی بھی پاکستانی ملک میں بدامنی نہیں چاہتا موجودہ حالات میں پاکستان نے خارجی محاذ پر جو کامیابیاں سمیٹی ہیں انہیں ملک کے اندر داخلی محاذ پر کھونے کی حمایت ہر گز نہیں کی جا سکتی۔ کیاایک ایسا ملک جو ایک سیاسی جماعت کی نااہلی کی وجہ سے دو سال قبل دیوالیہ ہونے کی دہلیز پر تھا آج اگر اقوام عالم میں پورے قد کیساتھ کھڑا ہے تو یہ موجودہ رجیم کی شبانہ روز محنت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور شہادتوں کا ایک لازوال کارنامہ ہے ۔تحریک انصاف پاکستان آج نہ جانے کس منہ سے تحریک لبیک پاکستا ن کو حمایت فراہم کر رہی ہے۔2021 میں اسی جماعت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگائی تھی اور یہی عمران خان تھا جس نے شوٹ ایٹ سائٹ کا شاہی فرمان جاری کیا تھالیکن جو بات اب ہر پاکستانی کو سمجھ آ رہی ہے وہ بس اتنی ہے کہ پی ٹی آئی اپنی سیلف سینٹرڈ پالیسی کے پیش نظر صرف ایک شخص کی رہائی کے لئے ہر حد کراس کرنے کو تیار ہے، بھلے یہ حد ملکی سالمیت ہی کیوں نہ ہو پنجاب کی صوبائی حکومت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی سفارش وفاقی حکومت سے کر چکی ہے ،جس پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ ٹی ایل پی کے مرکزی قائدین سعد رضوی اور انس رضوی مفرور ہیں اور قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے انکی اپنے پاس ہونے سے بریت کا اظہار کر چکے ہیں اور اس بات کا بھی عندیہ دے چکے ہیں کہ ہم بہت جلد ان دونوں بھائیوں تک پہنچ جائیں گے ۔لہذا یہاں ضروری امر یہ ہے کہ ان دونوں بھائیوں کو اپنے خلاف لگنے والے الزامات کا عدالت میں بھر پور دفاع کا موقع دیا جائے اور کسی بھی ماورائے عدالت معاملے سے گریز کیا جائے اور جن الزامات پر اس جماعت کو چارج شیٹ کیا جا رہا ہے انہیں عدالت میں باقاعدہ ثابت کر کے اس سارے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے کیونکہ پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس اگر اس جماعت کے نامعلوم پونے دو لاکھ دہشت گردوں کے خلاف باقاعدہ کارروائی کرتی تو آج شاید اس جماعت پابندی لگانے کی ضرورت پیش ہی نہ آتی۔
تحریر: شفقت عمران بیورو چیف نیو ٹی وی گوجرانوالہ

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے ، اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے