پاکستان اور افغانستان نے ایک ہفتے کی شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اب 25 اکتوبر کو استنبول میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔ یہ یقینا ایک مثبت پیش رفت ہے۔اس قصے کی شروعات اکتوبر کے آغاز میں ہوئی تھی، جب طور خم اور چمن کے مقامات پر دونوں ممالک کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ دونوں ا طرف درجنوں قیمتی جانیں گئیں۔ سینکڑوں شہری زخمی ہوگئے۔ تجارتی راستے بند کر دئیے گئے۔ پاکستان کو شکایت ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان سرزمین کو پاکستان پر حملوں کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ اور یہ کہ ٹی ٹی پی کی کاروائیاں پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ دوسری طرف سے لیکن اس موقف کی تردید کی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں سرحد کے قریب خود کش حملے میں 7 فوجی جاں بحق اور 13 زخمی ہوئے تو فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک مرتبہ پھر خبر دار کرنا پڑا کہ افغان حکومت اپنے پراکسیز کو قابو میں رکھے۔
بہرحال اب قطر اور ترکی کی ثالثی میں دونوں ملک عارضی جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں۔ مزید مذاکرات چلتے رہیں گے۔مذاکرات کی بدولت جنگ بندی کا عرصہ طویل ہو سکتا ہے۔ تاہم اصل بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ پاک افغان تعلقات کو معمول پر لانا ہے تو تنازعات کو مستقل بنیادو ں پر حل کرنا ہو گا۔ اس کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ تو شدت پسند گروہ ہیں۔ پاکستان کہتا ہے کہ ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسندافغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ جبکہ طالبان حکومت اس موقف کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ ان متضاد بیانیوں کی موجودگی میں اعتماد سازی ممکن نہیں ہے۔ برسوں سے دونوں ممالک کے مابین اعتماد کا جو شدید فقدان ہے، اسے دور ہونا چاہیے۔ ڈیورنڈ لائن ہو، مہاجرین کی واپسی یا دیگر معاملات،دونوں ممالک کو چاہیے کہ کھلے دل سے بات چیت کریں اور آگے بڑھیں۔ اس ضمن میں سیاسی، سفارتی اور عوامی سطح پر مکالمے کی بھی شدید ضرورت محسو س ہوتی ہے۔ ہر سطح پر مکالمہ کئے بغیر ہم ایک دوسرے کا موقف سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ لازم ہے کہ دونوں ممالک علاقائی طاقتوں کے اثر و رسوخ سے بالا تر ہو کر اپنے شہریوں کے مفادات کا سوچیں۔
عشروں قبل شاعر مشرق علامہ اقبال نے جاوید نامہ میں افغانستان کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ
آسیا یک پیکر آب و گل است
ملت افغانستان در آن پیکر دل است
از فساد او فساد آسیا
در کشاد او کشاد آسیا
ترجمہ: ایشیا آب و گل کا ایک پیکر ہے اور افغان قوم اس پیکر کا دل ہے۔ اگر افغانستان میں فساد ہو تو پورا ایشیاء اس سے متاثر ہوتا ہے۔ اور اگر افغانستا ن میں امن ہو تو پورے ایشیا ء میں امن و استحکام ہوتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں یہ شعر حیرت انگیز حد تک درست ثابت ہو رہا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے مابین کشیدگی نے سارے خطے کا امن خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔ حکمت اور تدبر کا تقاضا ہے کہ پاکستا ن اور افغانستان اپنے باہمی تعلقات برقرار رکھیں۔ نا صرف برقرار بلکہ انہیں مثبت اور خوشگوار بنائیں۔ دونوں ممالک تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کی ترقی اور استحکام کے ضامن ہیں۔ ماضی میں جب بھی اسلام آباد اور کابل کے تعلقات کشیدہ ہوئے، اس کے اثرات پاکستان کی داخلی صورتحال کے ساتھ ساتھ سارے خطے پر پڑے۔ طور خم اور چمن کے مقام پر ہونے والی جھڑپوں نے ایک بار پھر یہ بات ثابت کر دی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تناو، محض سرحد تک محدود نہیں رہتا۔ یہ تناو سیاسی، سلامتی اور علاقائی سطحوں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
افغانستان کے ساتھ معاملات طے کرنے ہیں تو ہمیں پہلے اپنے گھر کی خبر لینا ہو گی۔ داخلی حالات پر نگاہ ڈالیں تو سیاسی کشیدگی او ر تناو دکھائی دیتا ہے۔ خیبر پختونخواہ وہ صوبہ ہے جو افغانستان کی صورتحال سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ خواہ یہ سرحدی تجارت ہو، نقل مکانی یا سکیورٹی۔ چند دن پہلے صوبے میں ایک نیا وزیر اعلیٰ منتخب ہو ا ہے۔ نئے وزیر اعلیٰ کے رنگ ڈھنگ سے لگتا ہے کہ وہ اپنے پارٹی سربراہ کی پالیسی پر چلے گا۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اگر عمران خان کی ریاستی اداروں کیساتھ ٹکراو کی پالیسی پر قائم رہتی ہے تو یہ صورتحال موجودہ بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ قومی سلامتی کے معاملات پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ہم آہنگی کے بغیر سکیورٹی کے معاملات پر کامل گرفت ممکن نہیں ہے۔ سیاسی اختلافات بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ اس کمزوری اور پیچیدگی کا فائدہ دشمن قوتوں کو پہنچے گا۔ بھارت تو طویل عرصے سے افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا نے اور پاکستان کو دباو میں لانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ کابل میں موجود بھارتی نیٹ ورکس ماضی میں بھی پاکستان مخالف گروہوں کی بالواسطہ مدد میں ملوث پائے گئے تھے۔ بھارت حالیہ کشیدگی سے بھی اپنا فائدہ کشید کرنے کی فکر میں ہلکان ہو رہا ہے۔ اس کی دیرینہ خواہش ہے کہ پاکستان کے مغربی محاذ پر دباو برقرار رکھا جا سکے۔ یہ صورتحال بھارت کی دو طرفہ دباؤ پیدا کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ یعنی ایک طرف مشرقی سرحد پر روایتی خطرہ قائم رہے اور دوسری طرف مغربی سرحد پر عسکریت پسندی کے پھیلاؤ کے ذریعے پاکستان کو مصروف رکھا جائے۔
جیسا کہ علامہ اقبال کے اشعار سے بھی واضح ہے کہ یہ کشیدگی صرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات یا امن کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ معاملہ پورے خطے کے تزویراتی حالات اور سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ سفارتی بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کر لیا جائے۔ تاہم یہ اس قدر آسان نہیں ہے۔ اس کے باوجود کوشش جاری رہنی چاہیے۔البتہ لازم ہے کہ داخلی سطح پر بھی سیاسی استحکام ہو۔کم از کم افغانستان سے جڑے معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈروں کے درمیان اتفاق رائے ہونا چاہیے۔کامل اتفاق رائے سے ایک مربوط قومی بیانیہ تشکیل پانا چاہیے۔اگر خدانخواستہ ایسا نہیں ہوتا اور بیرونی سرحد پر دباو اور داخلی سیاسی تقسیم ایک ساتھ بڑھتی ہے تو یہ مسئلہ ایک بڑے قومی سلامتی کے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔