مودی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے منافقت کی کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ یہی بھارت اقوام متحدہ میں متعدد بار افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے پر الزامات عائد کرتا رہا۔ اب خود بھارت نے ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کے لیے افغان طالبان حکومت سے اپنے مفادات کے لیے ہاتھ ملا لیا۔ افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کا دورہ بھارت، پاکستان مخالف بیانات اور پھرعین اسی وقت پاکستان پر حملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کا سہولت کار ہے ۔فتنہ الہند اور فتنہ الخوارج کے اس گٹھ جوڑ کا مقصد صرف پاکستان کو نقصان پہنچاناہے۔تاریخ اسلام گواہ ہے کہ خوارج نے ہمیشہ اسلام کے نام پر اسلام کو ہی نقصان پہنچایا ۔وہ دین کے اصل پیغام سے ہٹ کر افراط وتفریط کی راہ پر چل نکلے اور مسلمانوں کے خون کو مباح قرار دیا ۔آج انہی خوارجی نظریات کی گونج افغانستان کی وادیوں میں سنائی دیتی ہے ،جہاں شدت پسندی اور خود ساختہ شریعت کے نام پر امت کو باہم دست وگریباں کیا جارہا ہے ۔واضح رہے کہ افغان طالبان ،فتنہ الخوارج نے بھارت کی شہ پر11اور12اکتوبر کی درمیانی شب پاکستان کے ملحقہ 6سرحدی مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ کی ،جس کا مقصد خوارج کی تشکیلوںکوبارڈر پارکرانا تھا، فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے ،نقصان پہنچانے اور دہشت گردی کی راہ ہم وار کرنے کی جو کوششیں کی گئیں ،ان کا ہدف فتنہ الخوارج کے شیطانی عزائم کو تقویت پہچاناتھا ،تاہم پاک فوج نے جوابی کارروائی میں شہری جانوں کے تحفظ اور غیر ضروری نقصان سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے ،چنانچہ خود دفاع کے حق کا استعمال کرتے ہوئے ہماری ہوشیار مسلح افواج نے سرحد پار سے اس حملے کوفیصلہ کن طور پر پسپا کردیا اوردشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا، پاکستان نے جواب میں صوبہ قندھار اور کابل میںخالصتاًافغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کے کئی بٹالین ہیڈ کوارٹر سمیت دہشت گردی کے تربیتی مراکز ملیا میٹ کر دئیے،200طالبان وفتنہ الخوارج ہلاک ہوئے، اور باقی خوارج اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کے بھاگ نکلے ۔21اہم افغان پوسٹوں پر قبضہ کرلیا گیا اور بعض پوسٹوں پر سبزہلالی پرچم بھی لہرایا جاچکا ہے ۔جنوبی بلوچستان میں برامچا سیکٹر سے سکیورٹی فورسز نے افغان طالبان،فتنہ الخوارج کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے افغان طالبان کی اہم پوسٹ شہیدان سمیت دیگر کو مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹا دیا ،جبکہ نوشکی سیکٹر میں افغان طالبان،فتنہ الخوارج کی جارحیت کے جواب میں بھرپور کارروائی کرتے ہوئے افغانستان کی حدود میں3کلو میٹر اندر واقع غزنالی پوسٹ پر قبضہ کرکے پاکستانی پرچم لہرا دیا ،افغان طالبان جوابی حملے میں غزنالی پوسٹ پر اسلحہ اور اپنی وردیاں تک چھوڑ کر فرار ہو گئے ۔ پاک افغان تعلقات آج جس قدر کشیدہ ہیں اور بھارت افغان روابط میں جیسی گرم جوشی نظر آرہی ہے ،کچھ مدت پہلے تک کے لیے بھی اس کا تصور ممکن نہ تھا ۔یہ صورتحال اس حقیقت کے باوجود ہے کہ پاکستان نے پچھلی چار دہائیوں میں افغانستان پر دوعالمی طاقتوں کی فوج کشی کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے چالیس لاکھ افغان مہاجرین کو نہ صرف پناہ دی بلکہ مکمل بھائی چارے کا ماحول فراہم کیا ،رہائش اور کاروبار کی تمام ممکنہ سہولتیں مہیا کیں اور کسی اجنبیت کا ذرہ برابر احساس نہیں ہونے دیا جبکہ دوسری طرف بھارت نے افغانستان پر حملہ آور ہونے والی طاقتوں کی بھرپور حمایت اور ان کے خلاف مزاحمت کرنے والے طالبا ن کو دہشت گرد قرار دیا ۔ ہم نے چالیس سال تک افغانیوں کی خدمت کی، جس کی وجہ سے ہم کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک طویل ترین جنگ لڑنا پڑی اورجس میں سیکڑوں قربانیاں دینا پڑیں ۔مولوی امیر خان متقی ،احسان فراموشی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے کہ آپ ایک دم بھارت کی گود میں جابیٹھے ،راقم اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ پاکستان پر اس حملے کے عوض میں بھارت کی طرف سے آپ کو نوٹوں سے بھرے بریف کیس ملے ہیں ۔مگر یاد رکھیے گا کہ آپ اس وقت ،ایک محسن کش میر جعفر ومیر صادق کا کردار اداکررہے ہیں ۔پاکستان نے آپ کو عزت دی،احترام دیا مگر آپ نے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کرنے کی کوشش کی ۔افغانستان کو سوچنا چاہیے کہ طالبان حکمرانوں کو اب تک دہشت گرد قرار دینے والی مودی حکومت کی اپنے ملک میں کھلی مسلم دشمن پالیسیوں، کشمیر میں جاری اس کی مسلم کشی، صہیونی اسرائیلی حکمرانوں سے اس کے گہرے تزویراتی تعلقات، فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیلی مظالم میں ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے سے اس کا عملی تعاون، گذشتہ مئی میں پاکستان کے خلاف اس کی جارحیت جس میں اسرائیل کے سوادنیا میں کے کسی ملک نے اس کی حمایت نہیں کی اور جس میں پاکستان کے ہاتھوں بدترین شکست کھا کر وہ دنیا بھر میں رسواہوا ۔اس مودی حکومت سے پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ کرنا جسے پوری مسلم دنیا آج اپنی سلامتی کا محافظ تصور کرتی ہے،اس کے لیے نفع کا سودا ہوگا یا سراسر گھاٹے کا؟بہرکیف افغانستان کسی بھول میں نہ رہے کہ پاکستان اب کسی کی بدمعاشی برداشت نہیں کریگا ،اینٹ کا جواب پتھر دیا جائے ۔ابھی وقت ہے افغانستان اپنی اوقات میں آجائے ،کیونکہ اس وقت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم اپنی ریاست کے ساتھ کھڑی ہے ۔اور یہ پیغام دشمن کے لیے واضح ہے کہ وطن کے خلاف کسی بھی بیرونی یا اندرونی سازش کو جڑ پکڑنے نہیں دیا جائے گا ۔اس وقت سول سوسائٹیز،طلبا اور تاجروں کی جانب سے افغان طالبان،فتنہ الخوارج کے اشتعال انگیز حملوں کے تناظرمیں ملک کے مختلف حصوں میں مسلح افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔بلوچستان (تفتان ،چاغی ودیگر) کے عوام نے افغان طالبان کی حالیہ جارحیت کی شدید مذمت کی اور منہ توڑ جواب دینے پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔اس موقع پر قبائلی عمائدین اور نوجوانوں کا کہنا تھا وہ دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور وہ پاکستان کی سا لمیت اور بقا کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔