نیویارک : اقوام متحدہ میں ڈنمارک کی سفیر کرسٹینا مارکس لاسن نے افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی اور اس کے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے تقریباً 6 ہزار جنگجو موجود ہیں، جو پورے خطے کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
کرسٹینا مارکس لاسن نے مزید کہا کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو لاجسٹک سپورٹ اور دیگر مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے دہشت گرد گروپوں کے لیے افغانستان ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ اس کا نتیجہ پاکستان میں متعدد دہشت گرد حملوں کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس سے پاکستان کو شدید جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس بڑھتے ہوئے خطرے کو سنجیدگی سے دیکھے اور افغانستان میں موجود دہشت گرد گروپوں کی پناہ گاہوں کے خلاف مشترکہ اقدامات کرے۔ ان کے مطابق یہ نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جسے فوری طور پر حل کرنا ضروری ہے۔