خطے کی سیاست میں بعض مناظر ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ کسی طنز، کسی مسلسل مذاق یا کسی عبرت کا روپ دھار کر ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ یہ وہی طالبان ہیں جنہوں نے دو دہائیوں تک بھارت کو “ہندو کافر ریاست”، “بت پرست تہذیب” اور “اسلام دشمن قوت” قرار دیتے ہوئے اپنی پوری فکری جنگ کی بنیاد اسی نفرت انگیز بیانیے پر رکھی تھی۔ مگر آج منظر بالکل بدل چکا ہے۔ اب وہی امارتِ اسلامی، وزیرِ خارجہ اور وزیرِ تجارت کو لے کر اسی نئی دہلی کا رخ کر رہی ہے، جسے کبھی وہ اپنی جدوجہد کا مرکزی ہدف سمجھتے تھے۔
نومبر میں نورالدین عزیزی کا نئی دہلی کا دورہ اور اکتوبر میں امیر خان متقی کا غیرمعمولی آٹھ روزہ قیام یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ کابل کی موجودہ قیادت خطے میں اپنا وزن اپنے سابقہ نعروں، نظریات اور وعدوں سے کہیں زیادہ اقتصادی ضرورتوں کے پلڑے میں ڈال رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب محض معاشی مجبوریوں کا نتیجہ ہے؟ یا پھر یہ پاکستان کے خلاف بیانیاتی دباؤ بڑھانے کا ایک نیا، خاموش مگر مؤثر طریقہ؟20 سال تک طالبان نے بھارت کو ایک ایسی تہذیب کا نمائندہ بتایا جسے وہ “اسلام کے لیے خطرہ” قرار دیتے تھے۔ کابل سے لے کر قندھار تک، ان کے خطابات، پمفلٹس اور جہادی نظریات میں بھارت کو ہمیشہ اسلام مخالف قوت بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ لیکن اب وہی طالبان اسی بھارت سے منڈیاں، سرمایہ، ڈیموں کی تعمیر اور تجارتی راستے مانگنے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ یہ محض یوٹرن نہیں؛ یہ اُن تمام نعروں سے دستبرداری ہے جنہیں بنیاد بنا کر انہوں نے اپنے ماننے والوں کو برسوں انگیخت کیا۔
جہاں تک بات ہے بامیان کے بدھ مجسمے گرانے کی تو اس مقصد کی تکمیل کے لیے طالبان نے جو بیانیہ استعمال کیا تھا، وہ “تہذیبی جنگ” کا بیانیہ تھا۔ یہ اقدام صرف مذہبی نہیں بلکہ تہذیبوں
کے ٹکراؤ کا اعلان تھا۔ آج وہی طالبان اس تہذیب کے سب سے بڑے علمبردار ملک "بھارت" کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں۔ شاید وقت نے انہیں مجبور کیا ہو، مگر سوال یہ ہے کہ اس بدلتے بیانیے کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟ خطہ یا اُن نظریات پر یقین رکھنے والے لوگ؟۔
یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کبھی اشرف غنی کی حکومت کو “بھارت کی کٹھ پتلی” اور بھارتی قونصل خانوں کو RAW کے اڈے قرار دے کر طالبان نے پاکستان میں ہمدردیاں سمیٹیں۔ مگر آج وہی امارت بھارتی گندم، تعمیر نو کے منصوبے اور بندرگاہوں کے استعمال کے لیے براہِ راست نئی دہلی کے دروازے کھٹکھٹا رہی ہے۔ یہ تبدیلی صرف تضاد نہیں بلکہ یہ بیانیہ کی موت ہے اور شاید پاکستان کے لیے ایک خاموش سیاسی دباؤ بھی کہ "ہم وہ راستے بھی اپنا سکتے ہیں جن سے تم خوفزدہ ہو"۔
افسوس اس بات کا ہے کہ طالبان ہر بیان میں امت مسلمہ، برادر اسلامی ممالک اور تاریخی روابط کی مالا جپتے ہیں۔ مگر جیسے ہی TTP، FAK، بارڈر شیلنگ، مہاجرین اور سکیورٹی مسائل پر پاکستان نے اپنے تحفظات اٹھائے، امارت نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ایک غیر مسلم طاقت سے قربت بڑھانے کا راستہ اپنایا۔ یہ قدم صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ خطے کے تمام مسلم ممالک کے لیے سوالیہ نشان ہے کہ “اسلامی یکجہتی” کا نعرہ کہاں گیا؟طالبان نے سالہا سال مغربی سودی نظام اور عالمی مالیاتی اداروں کے خلاف نفرت بھرا بیانیہ استعمال کیا۔ مگر جیسے ہی معاشی دباؤ بڑھا، وہ بھارت جیسے ملک کے پیچھے کھڑے نظر آئے جو انہی مغربی اداروں اور مغربی سرمایہ کا مرکزی حصہ ہے۔ ایسا لگتا ہے ان کی جنگ صرف نعرے کی حد تک تھی، زمینی حقیقت کے سامنے وہ خود بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں۔دوسری جانب طالبان کی داخلی حکمت عملی میں کوئی لچک نہیں، خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندی، میڈیا کی سخت نگرانی، اظہارِ رائے پر قدغن یہ سب ایک طرف ، مگر یہی حکمران بین الاقوامی معاملات میں نرم مٹی کی طرح نظر آتے ہیں۔ جس ملک سے فائدہ ہو، اس سے ہاتھ ملانے میں انہیں کوئی جھجھک نہیں۔ یہ دوہرا معیار میکیاولی سیاست اور خود غرضی کی بہترین مثال ہے۔
طالبان کے شدت پسند حلقے برسوں کشمیر میں جہاد کی بات کرتے رہے۔ مگر جب اعلیٰ سطح کے دورے دہلی پہنچے تو نہ کشمیر کا ذکر ہوا، نہ CAA کا، نہ بھارتی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کا اور یہ خاموشی محض سفارتی آداب نہیں بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ طالبان اپنے نظریاتی نعروں کو وقتی مفادات کے لیے باآسانی قربان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ پیغام خاص طور پر اہم ہے کہ جہاں اختیار کم ہو، وہاں "اسلامی بھائی چارہ" کی باتیں بھی خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔
پاکستان کے ساتھ سرحدی تنازع پر طالبان انتہائی سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ مگر بھارت کے معاملے میں، یہاں تک کہ وہاں جہاں افغان سرزمین پاکستان مخالف عناصر نے استعمال کی، وہ غیر معمولی نرمی دکھاتے ہیں۔ اس نرمی کی سیاسی تعبیر یہ ہے کہ طالبان چاہتے ہیں کہ بھارت انہیں خطے میں تزویراتی توازن کے طور پر استعمال کرے اور یہ چیز براہِ راست پاکستان کے خلاف بیانیاتی جنگ کی ایک نئی شکل ہو سکتی ہے۔طالبان کہتے ہیں کہ وہ تسلیم کیے جانے کی بھیک نہیں مانگتے، مگر حقیقت یہی ہے کہ دہلی کے دورے اسی “اعترافِ ریاست” کی خواہش کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر بھارت جیسے ملک نے انہیں عملی سطح پر تسلیم کر لیا، تو دنیا کے دیگر ممالک بھی نرم ہو جائیں گے۔
المختصر! افغانستان اور بھارت کی بڑھتی ہوئی قربت محض تجارتی یا سفارتی تعلقات کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک سیاسی پیغام ہے، ایک بیانیاتی دباؤ ہے، اور ایک ایسے نئے خطے کی تشکیل کا آغاز ہے جہاں طالبان اپنی ضرورت کے مطابق نظریات بدلتے اور اتحادی منتخب کرتے نظر آئیں گے۔ پاکستان کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنے سفارتی، معاشی اور علاقائی حکمتِ عملی کو ازسرِنو ترتیب دے کیونکہ اس خطے میں دوستی بھی مستقل نہیں اور دشمنی بھی ابدی نہیں۔