Wed, September 16, 2026

سسکتی زندگی اور حکومتی بے حسی 

سسکتی زندگی اور حکومتی بے حسی 

آپ چاہے سفارتی محاذ پر کامیابیوں کے کتنے ہی جھنڈے کیوں نہ گاڑھ لیں۔ سوال ہنوز حل طلب یہ ہے کہ کیا ایک عام پاکستانی جو سر پر اپنی چھت سے آج بھی محروم ہے جس کے پیٹ میں نہ روٹی اور نہ ہی پاو¿ں میں جوتا کیا اس کی حالت زار میں حکومتی دعوو¿ں ، وعدوں اور غیر حقیقی مداح سرائیوں کے برعکس کوئی واضح اور مثبت تبدیلی آسکے گی تو جواب نفی میں ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے معاشی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں مہنگائی، بےروزگاری اور بڑھتی ہوئی معاشی بے یقینی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ گزشتہ دو برس، خصوصاً 2025 اور 2026 کے مئی تک، عوام نے نہ صرف بجلی، گیس اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھا بلکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں نے بھی زندگی کا ہر پہلو مہنگا کر دیا۔ اس دوران حکومت نے پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں کھربوں روپے کمائے، مگر دوسری طرف عوام کے اندر بے چینی، اضطراب اور ذہنی دباو¿ خطرناک حد تک بڑھ گیا۔
پاکستان میں خودکشیوں کے درست اور مکمل سرکاری اعدادوشمار ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہے ہیں۔ ماہرین نفسیات اور سماجی تنظیموں کے مطابق ملک میں ہر سال ہزاروں افراد ذہنی دباو¿، غربت، قرضوں اور بےروزگاری کے باعث اپنی جان لے لیتے ہیں، مگر سماجی بدنامی اور ناقص رپورٹنگ کی وجہ سے اصل تعداد سامنے نہیں آتی۔ مختلف میڈیا رپورٹس اور سماجی اداروں کے اندازوں کے مطابق 2025 اور 2026 کے ابتدائی مہینوں میں معاشی دباو¿ سے جڑی خودکشیوں اور خودکشی کی کوششوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ پنجاب، جو آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، ان واقعات میں سرفہرست رہا کیونکہ یہاں مہنگائی، بےروزگاری اور قرضوں کا دباو¿ زیادہ شدت سے محسوس کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ایک شخص کی آمدنی وہی رہے لیکن آٹا، چینی، گھی، سبزیاں، ٹرانسپورٹ 
اور بجلی کے بل دوگنے اور تین گنا ہو جائیں تو ذہنی دباو¿ بڑھنا فطری امر بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں نفسیاتی امراض، ڈپریشن اور اضطرابی کیفیت میں شدید اضافہ رپورٹ ہوا۔ سوشل میڈیا، اخبارات اور عوامی حلقوں میں بار بار ایسے واقعات سامنے آئے جن میں افراد نے مالی مشکلات، قرضوں یا بےروزگاری سے تنگ آ کر انتہائی قدم اٹھایا۔
اس معاشی بحران کی ایک بڑی وجہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بھی ہے۔ 2025 میں حکومت نے پیٹرولیم لیوی بڑھا کر پٹرول پر تقریباً 78 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 77 روپے فی لیٹر تک کر دی۔ بعد ازاں 2026 میں یہ لیوی بعض اوقات 117 روپے فی لیٹر سے بھی تجاوز کر گئی، جبکہ پٹرول کی قیمت 414 روپے فی لیٹر کے قریب جا پہنچی۔ 
یہ اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کیا۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوئی تو سبزی، آٹا، دالیں، دودھ اور دیگر اشیائے ضروریہ بھی مہنگی ہو گئیں۔ کسان کے لیے ڈیزل مہنگا ہوا تو زرعی لاگت بڑھی، صنعتوں کے لیے خام مال کی ترسیل مہنگی ہوئی تو پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا، اور یوں مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔
دوسری طرف حکومت نے انہی پٹرولیم لیویز کی بدولت ریکارڈ آمدنی حاصل کی۔ مختلف مالیاتی رپورٹس کے مطابق 2025-26 کے دوران حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1.2 کھرب روپے سے زائد جمع کیے، جبکہ آئندہ برس کے لیے یہ ہدف 1.47 کھرب روپے تک رکھا گیا۔ ماہرین معاشیات کے مطابق حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود عوام کو مکمل ریلیف منتقل نہیں کیا بلکہ لیوی بڑھا کر اپنے ریونیو اہداف پورے کیے۔
حکومت کا مو¿قف یہ ہے کہ IMF شرائط، مالی خسارے اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔ مگر عوامی حلقوں میں یہ تاثر تیزی سے مضبوط ہوا کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کو ”آسان ترین ٹیکس مشین“ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا جہاں صارفین نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچایا جاتا بلکہ اضافی رقم لیوی کی صورت میں وصول کر لی جاتی ہے۔ 
2026 میں ایران اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے بعد جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوا تو پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں ایک ہی مرحلے میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد عوام میں خوف اور بے چینی کی نئی لہر دوڑ گئی۔ شہریوں نے پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں لگائیں، ٹرانسپورٹ کرائے فوراً بڑھ گئے، اور روزمرہ زندگی مزید مشکل ہو گئی۔
یہ تمام صورتحال صرف معاشی بحران نہیں بلکہ ایک سماجی اور نفسیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوان بےروزگار ہیں، متوسط طبقہ سکڑ رہا ہے، اور غریب طبقہ بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک ایسا شخص جو صبح سے شام تک محنت کرتا ہے مگر پھر بھی بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ اور بجلی کا بل ادا نہیں کر پاتا، اس کے اندر بے بسی اور غصہ پیدا ہونا لازمی امر ہے۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں معاشی پالیسیوں کے اثرات کا انسانی پہلو کم ہی زیر بحث آتا ہے۔ حکومتی بیانات میں ریونیو اہداف، IMF پروگرام اور مالیاتی استحکام کا ذکر تو ہوتا ہے، مگر اس عام مزدور، رکشہ ڈرائیور، کسان اور سفید پوش ملازم کا ذکر کم سنائی دیتا ہے جو روزانہ مہنگائی کے ہاتھوں پس رہا ہے۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ یہ سماجی بے چینی، جرائم، ذہنی امراض اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ محض ریونیو اکٹھا کرنے کے بجائے عوامی ریلیف، روزگار کے مواقع، ٹرانسپورٹ سبسڈی اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ کیونکہ ایک معاشرہ صرف اعدادوشمار سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے معیارِ زندگی سے مضبوط ہوتا ہے۔

ٹیگز: