مئی 2025 کی وہ رات قوم کبھی نہیں بھولے گی جب بھارتی افواج نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے۔ ان حملوں کا ہدف نہ فوجی تنصیبات تھیں، نہ کسی جنگی ساز و سامان کے مراکز بلکہ عام شہری، جن میں بچے، خواتین، بزرگ اور نوجوان شامل تھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں40 بے گناہ شہری شہید ہوئے جن میں 7 خواتین اور 15 بچے شامل تھے، جبکہ 121 افراد زخمی ہوئے، جن میں 10 خواتین اور 27 بچے شامل تھے۔ ان اندوہناک واقعات نے نہ صرف ایک پورے ملک کو سوگوار کر دیا بلکہ عالمی ضمیر کو بھی جھنجھوڑا۔ کسی بھی قوم کا مستقبل اْس کے بچے ہوتے ہیں، اور بھارتی حملوں نے ان پھولوں کو کھلنے سے پہلے ہی روند ڈالا۔ بہاولپور، آزاد کشمیر اور گوجرانوالہ جیسے علاقوں میں معصوم بچوں کی شہادت ہوئی۔
بہاولپور میں تین سالہ ارفع ، ڈیڑھ سالہ حوا، چار سالہ عمار، تیرہ سالہ محمد اور چھ سالہ عمر شامل ہیں۔ آزاد کشمیر میں تین سالہ حدی زندگی کی بازی ہاری۔ نوزائیدہ فاطمہ بھی شہداکی فہرست میں آئی۔ بارہ سالہ عمر، آٹھ سالہ ہارون، سات سالہ مرتضیٰ ، بارہ سالہ احتشام ، اور پندرہ سالہ نبیل شامل ہیں۔ گوجرانوالہ میں ایک سالہ حبیب ، بارہ سالہ ابراہیم ، سولہ سالہ حاجرہ شامل ہیں۔ ان بچوں کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اس سرزمین کے باشندے تھے جو دہائیوں سے امن کے خواب دیکھ رہی ہے۔ کیا دنیا خاموش تماشائی بنی رہے گی؟۔
بھارتی حملوں میں خواتین بھی شہید ہوئیں۔ یہ وہ نہتی خواتین تھیں جو کسی کی ماں ، کسی کی بہن کسی کی بیٹی یا کسی کی بیوی تھیں۔ ان کے پاس اسلحہ بھی نہیں تھا۔ بہاولپور میں بیس سالہ عائشہ صدیقہ شہید ہوئیں جو معلمہ تھیں۔ چھبیس سالہ اقصیٰ جمیل بھی معلمہ تھیں جو جام شہادت نوش کر گئیں۔ گھریلو خاتون تریسٹھ سالہ مسرت اور ساٹھ سالہ زہرہ جمیل بھی شہدا میں شامل تھیں۔
آزاد کشمیر میں بھی انیس سالہ مصباح شہید ہوئیں جو طالبہ تھیں۔ اسی طرح بیس سالہ طالبہ ثمرا بھی شہید ہوئیں۔ اسی طرح سدرہ، عریشہ، کوثر، نبیلہ، کنیز بیگم، شاہمیم، رحمت جان بھی شہدا کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان خواتین کی عمریں چھبیس سے ساٹھ سال کے درمیان تھیں۔ ان کا بھی قصور صرف اتنا تھا کہ وہ پاکستانی تھیں ، نہتی تھیں۔ ان کی شہادتیں عالمی قوانین، خصوصاً جنیوا کنونشن اور روم انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ مرد شہداء کی فہرست بھی طویل ہے۔ ان میں سے کئی طلبہ، اساتذہ، دکاندار، مزدور اور مذہبی شخصیات شامل تھیں۔ بہاولپور، آزاد کشمیر، گوجرانوالہ اور لاہور کے ان شہداء کو پوری قوم خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ بہاولپور میں بیس سالہ حمزہ جمیل ، بائیس سالہ حذیفہ شہید ہوا۔ سکیورٹی گارڈ طاہر ، کمپیوٹر آپریٹر شہزاد خان اور ساٹھ سالہ خطیب حافظ جمیل بھی شہید ہونے والوں میں شامل ہے۔ آزاد کشمیر میں محمد جنید، علی احمد، اسامہ ، انور شہید ہوئے۔ یہ سب نوجوان طلبہ تھے یا ملازمین۔ دیگر افراد میں عثمان، مقصود، راجہ شہپال، اللہ لوک، یعقوب، امین، فضل، راج شامل ہیں۔ یہ دکاندار تھے ، مزدور تھے اور کچھ گھر میں بیٹھے بزرگ۔ گوجرانوالہ میں شہید ہونے والوں میں بیس سالہ طالبعلم فرحان شامل ہے۔ دربار کے متولی پینتیس سالہ ضیا اللہ بھی شہادت کا رتبہ پا گئے۔ اخبار فروش چوالیس سالہ نصار، پچپن سالہ کسان عبد القادر گوجرانوالہ کے شہدا کی فہرست میں شامل ہیں۔ بھارت نے لاہور میں بھی بزدلانہ حملہ کیا۔ یہاں شہید ہونے والوں میں سکیورٹی گارڈ محمد مدثر ، محمد عالم، موذن پچپن سالہ عبد المالک شامل ہیں۔ یہ افراد پاکستان کے عام شہری تھے۔ یہ لوگ روزی کما کر اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالتے تھے۔ ان کی شہادت سے یہ ثابت ہوا کہ بھارت عام شہریوں کا دشمن ہے ، نہتے شہریوں کی زندگی چھیننا بھارت کا وتیرہ ہے۔
بھارتی فضائیہ کے اعلیٰ افسر ایئر مارشل اے کے بھارتی کا یہ بیان کہ ’’ہم لاشیں گننے نہیں آئے‘‘ اس درندگی پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔ یہ بیان واضح طور پر انسانی حقوق، جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی ضابطۂ جنگ کی خلاف ورزی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان واقعات نے قوم کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے، لیکن ساتھ ہی ایک نئے اتحاد اور عزم کو بھی جنم دیا ہے۔ شہداء کی یاد میں ملک بھر میں دعائیہ تقاریب، احتجاجی ریلیاں، اور یکجہتی کی فضا دیکھنے کو ملی۔ حکومت پاکستان نے ان حملوں کی بھرپور مذمت کی ہے اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی جنگی جرائم کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
یہ سطور صرف چند ناموں کی فہرست نہیں بلکہ ایک ایسی داستان ہے جو معصومیت کے قتل عام کی علامت ہے۔ ان بچوں کی مسکراہٹیں، ان خواتین کی دعائیں، ان مردوں کی محنت سب کچھ ایک غیر انسانی حملے میں مٹی میں ملا دیا گیا۔ مگر یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ قوم ان شہداء کی یاد میں متحد ہے، پْرعزم ہے، اور عالمی برادری سے سوال کر رہی ہے: کیا انسانیت اس قدر سستی ہو چکی ہے کہ جنگی جرائم پر خاموشی اختیار کی جائے؟۔