Wed, September 16, 2026

جنگل کا قانون

جنگل کا قانون

نہیں معلوم ایران کے سکول میں امریکی بمباری سے شہادت کا رتبہ پانے والی طالبات نے اپنے نصاب میں امن کے قیام کے لئے عالمی ادارہ اقوام متحدہ کے بارے پڑھا بھی ہوگا یا نہیں ، مگر انہیں کامل یقین تھا کہ د وسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے عالمی راہنماﺅں نے مل بیٹھ کر جس نئے عالمی ادارہ کی بنیاد رکھی، جس کے چارٹر پر دنیا کے حکمرانوں نے اپنے قلم دستخط ثبت کرکے قیام امن کا عہد کیا تھا،کیونکہ اس کا اہم اور کلیدی مقصد تو یہی تھا ،کہ جس طرح پہلی عالمی جنگ میں انسانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی تھی،اس رویہ کو ہر صورت میں روکا جائے یہ تبھی ممکن ہے عالمی سطح پر ایک ایسا ادارہ ہو جو ممالک کے مابین کسی بھی نزاع کی صورت میں فوری متحرک ہو جائے اور امن کے قیام کو یقینی بنائے ،المیہ مگر یہ ہوا اس ادارہ کی موجودگی میں 160طالبات گولہ باورد کی نذر ہوگئیں جب وہ اپنے تعلیمی ادارہ میںاپنے اپنے کلاس رومز میں موجود تھیں، انہیں گمان تھا کہ عالمی ادارہ جنگ میں بھی انہیں تحفظ دے گا،،صد افسوس! ان پر بم گرانے والے وہ ممالک ہیں جو دنیا میں ترقی یافتہ اور مہذب کہلاتے ہیں،جن میں شرح خواندگی سب سے زیادہ جن میں بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں موجود ہیں، جو ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں تعلیم کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہیں۔
معصوم اور بے گناہ طالبات پر بم برسانے والوں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہیں اُس وقت بہت قلق ہوا جب سوات میں ایک طالبہ کو شدت پسند گروہ کی طرف سے نشانہ بنایا گیا ،اس وقت تمام این جی اوز متحرک ہو گئیں،طالبہ کو سوات سے اٹھا کر بیرون ملک لے جایا گیا، عالمی سطح پر اس کو تعلیم کی علامت بنا دیا گیا کہ اس باہمت طالبہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز اٹھائی تھی، اس لئے نشانہ بن گئی،عنایات کی اس پر بارش ہوئی2014 میں اسے نوبل انعام بھی دے دیا گیا، کیا اس کے خون کا رنگ ایران میں شہید ہونے والی طالبات سے مختلف تھا کیا یہ بچیاں تعلیمی ادارہ میں زیر تعلیم نہ تھیں، اس سے یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ دنیا میںجنگ، امن، محبت،نفرت کے پیمانے الگ الگ ہیں،ان کا تعلق انسانیت سے نہیں بلکہ مفاداتی، سیاسی پالیسیوں سے ہے۔
معصوم بچیوں پر بمباری کرنے والے نہیں جانتے کہ انہوں نے1949 میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر عالمی قوانین بنائے ہیں جس کی بنیادی شق ہی عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے،جینوا کنونشن میں دی ہوئی شرائط کے باوجود جس طرح دنیا میں کشت و خون جاری ہے، یہ اس بات کی عکاس ہے کہ یہ دنیا اب کتابی بن گئی ہے،جنگی قوانین،انسانیت کے تحفظ کے لئے چار بین الاقوامی معاہدوں کا مذکورہ کنونشن پر مشتمل سیٹ بے معنی ہو چکا ہے،Rule of law کی بجائے ابChoice of warکی دنیا پر حکمرانی ہے۔
اس عالم کو جہنم بنانے والوں کی راہ میں نہ کوئی عالمی عدالت انصاف رکاوٹ بنتی ہے نہ ہی سلامتی کونسل بدمست عالمی راہنماﺅں کو لگام ڈال سکتی ہے، انکی بشری کمزوریوں کی سزا دنیا میں معصوم اور بے گناہ افراد کو مل رہی ہے،وسائل کی لوٹ کھسوٹ کی جنگ کا ایندھن بننے والے یہ بچے کن کے ہاتھوں پے اپنا لہو تلاش کریں گے، جن والدین کی گود اجڑی ہے وہ کس سے انصاف طلب کریں گے،باضمیر حکمران کب دنیا کا مقدر ہوں گے جو اخلاقی طور پر اپنی سنگین غلطیوں کا اعتراف کرکے اس کو امن کا گہوارہ بنائیں گے؟۔
اقوام متحدہ کا قیام اور آج کی عالمی بدامنی کا تقابلی جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے ،یہ عالمی ادارہ اس وقت ناکامی کے دہانے پر ہے،دنیا کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے، اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے،اقتصادی ،سماجی تعاون بڑھانے،انسانی حقوق کی پاسداری کرنے میں بری طرح ناکام ہوا ہے۔
اس ناکامی کی بڑی وجہ سپر پاور پر دست شفقت رکھنا ،عالمی فورم سے قرار دادوں کی منظوری کی آڑمیںغریب اور ترقی پذیر ممالک پر حملہ آور ہونے کاسرٹیفکیٹ جاری کرنا ہے۔
 مہذب دنیا میں یہ تصور ممکن نہ تھا کہ اقوام متحدہ اور جنیوا کنونشن کے معاہدات کی موجودگی میں غزہ کے بچوں کی لاشوں کو فاسفورس بموں سے مسخ کیا جاتا، ہسپتالوں پر حملے کئے جاتے، یہ سب کچھ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں اقوام متحدہ کی ناک کے نیچے ہوتا رہا،یہ تمام اقدامات جنگی جرائم میں شامل ہیں۔
عالمی راہنماﺅں کے دوہرے معیارات ہیں، روس اگر یوکرائن میں ہسپتالوں پر بمباری کرے تو امریکی صدر ہم منصب کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیں، لیکن جب غزہ کے بچوں لاشوں کو جلایا جائے عالمی ضمیر بیدار ہو اسرائیل کے خلاف قرار سلامتی کونسل میں لائی جائے تو امریکہ بہادر اسے ویٹو کر دے،اسی نورا کشتی نے اقوام متحدہ کے ادارہ کو ناکام بنانے میں فعال کردار ادا کیا ہے،بغیر قوت نافذہ عالمی ادارہ ایسے ہی مفلوج رہے گا،اس پر سوچ و بچار ہونا وقت کی ضرورت ہے۔
مذکورہ جنگ کی بھاری قیمت دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے عام شہریوں کو ادا کرناپڑ رہی ہے،بد امنی سے معیشت پر دباﺅ بڑھ رہا ہے، ظالم اور مظلوم کے مابین ایک کی انا اور دوسرے کی بقا کی یہ جنگ ہے،جس سے پورا عالم خطرے میں ہے، جنہوں نے جنگوں کو روکنے کا نعرہ مستانہ لگایا تھا،وہی اس کے سرخیل بھی ہیں،ایسے ارباب اختیار کی حماقتوں کی قیمت دنیا پہلے بھی ادا کر چکی ہے،عراق،لیبیا، شام، لبنان،افغانستان کی تباہی کے بعد نجانے کس منہ سے انسانی حقوق کی پاسداری کی بات کی جاتی ہے،جمہوریت،امن پسندی کی باتوں اور دعووں سے منافقانہ پالیسیوں کی بو آتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ذمہ داران کو یہ آئینہ دکھانے کے لئے کافی ہے کہ غزہ میں بچوں کی ہلاکتیں گذشتہ چار سال میں دنیا کے تنازعات سے زیادہ ہیں،۔ بچوں ،خواتین ، بوڑھوں کے ساتھ ایسی بربریت اور لا قانونیت تو شائد لیگ آف نیشنزکے عہد میں بھی نہیں ہوئی ہوگی،جس کی ناکامی نے اقوام متحدہ کے قیام کی ضرورت کو محسوس کیا۔
 جنیوا کنونشن میں تحریر کردہ الفاظ اپنی قدرو قیمت کھو چکے ہیں؟اقتصادی اور سماجی ناانصافی عالمی سطح پر شدت پسندی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے ،ریاستی دہشت گردی نے اقوام متحدہ کے قوانین کو ہوا اڑا کر پورے عالم کو جنگل بنا دیا،جہاںمرضی کا قانون بزور طاقت نافذ ہے مگر زہرہ نگاہ معترف ہیں کہ سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے،آج کے بادشاہ نما حکمران کیا جانوروں سے بھی بدتر ہوگئے جو کسی قانون یا دستور کے احترم سے بالکل عاری ہیں؟۔

ٹیگز: