Wed, September 16, 2026

کیا صرف حکومت ہی ذمہ دار ہے

کیا صرف حکومت ہی ذمہ دار ہے

 کیا ملک میں جو بھی خرابی ہو رہی ہے اس کے لئے صرف حکومت کو ہی ذمہ دار ٹھہرانا درست عمل ہے ۔ مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ سوشل میڈیا پر یک طرفہ پروپیگنڈا ہو رہا ہے بلکہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس پروپیگنڈا میں جو آگ لگائی جاتی اسے ہوا دینے میں ہمارے قومی الیکٹرانک میڈیا کا بھی ایک کردار ہے ۔ سوشل میڈیا تو بے لگام ہے حکومت جتنے مرضی قوانین بنا لے لیکن ظاہر ہے کہ ان کا اطلاق ملکی سرحدوں تک ہی محدود ہو گا لیکن ملک سے باہر بیٹھ کر جو لوگ ملک دشمن قوتوں کے بیانیہ کے ساتھ اپنا بیانیہ ملا کر دشمن کے بیانیہ کو تقویت پہنچاکر ملک دشمنی کر رہے ہیں ان تک ہمارے ملکی قوانین کی رسائی تو نہیں ہو پاتی لیکن ایک بات ضرور ہے کہ ان کے ملک دشمن بیانیہ سے پاکستان میں موجود بہت سے چہرے بے نقاب ضرور ہو رہے ہیں ۔ ملک کے اندر بیٹھے کچھ لوگ جو ملکی قوانین کی وجہ سے کچھ کہنے سے قاصر ہیں لیکن انہی کی جماعت کے ملک سے باہر بیٹھے سوشل میڈیا پر متحرک یو ٹیوبر جو زہر گھول رہے ہیں اس پر مہر تصدیق ثبت کر کے اور ان سے لا تعلقی کا اظہار نہ کر کے بھی یہ لوگ بے نقاب ہو رہے ہیں ۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے ملک میں جس طرح دہشت گردی کی وارداتوںمیں تیزی آئی ہے اس کے بعد بلا شبہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے ۔ خود کش حملوں والی دہشت گردی مشرف دور میں شروع ہوئی تھی اور اس وقت دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنے کا ابھی رواج نہیں ہوا تھا سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر یقینا دہشت گردی کی ہر واردات کے بعد اس کی مذمت ضرور کی جاتی تھی لیکن بات صرف مذمت تک ہی محدود رہتی اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا تھا اور اس وقت تو ایک لطیفہ بھی زبان زد عام تھا کہ ’’ 9/11اگر پاکستان میں ہو جاتا تو کیا ہوتا تو اس کے جواب میں کہا جاتا کہ کیا ہونا تھا زیادہ سے زیادہ ڈبل سواری پر پابندی لگ جانی تھی ‘‘ ۔ اس وقت دہشت گردوں کے وکیل میڈیا پر بیٹھ کر ان کی ہر واردات کا جواز پیش کرتے اور کوئی انھیں پوچھنے والا نہیںتھا تو اس دور کی طرح آج اگر قومی میڈیا پر بیٹھ کر کسی کو دہشت گردوں کی حمایت کرنے کی جرات نہیں ہے تو اس کی وجہ حکومت کے بنائے ہوئے قوانین ہیں ۔ اگر یہ قوانین نہ ہوتے تو جعفر ایکسپریس کے واقعہ پر جس طرح ایک جماعت کے سوشل میڈیا نے دشمن کے بیانیہ کو آگے بڑھایا تو کم از کم اتنا تو فرق پڑا کہ مشرف دور کی طرح کسی کو قومی میڈیا پر دہشت گردوں کی کھلم کھلا حمایت کرنے کی جرات نہیں ہوئی توکیا ملک میں جو بھی خرابی ہو رہی ہے اس کے لئے صرف حکومت کو ہی ذمہ دار ٹھہرانا درست عمل ہے ۔ 
 دہشت گردی سے ہٹ کر بات اگر معیشت کی کریں کہ حکومت اور آرمی چیف کی بے انتہا محنت سے بہتر ہوتی معیشت سے بہت سے لوگوں کی سیاست کا مکو ٹھپ ہوتا نظر آ رہا ہے کہ ان کی سیاست کا محور و مرکز خدمت نہیں بلکہ فقط اور فقط دوسروں کے خلاف غلیظ پروپیگنڈا کے ذریعے عوام میں نفرت پھیلا کر اپنی سیاست کو چمکانا تھا ۔ اس نفرت انگیز سیاست کے خاتمہ کے لئے حکومت اگر سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانیہ کو روکنے کے لئے کچھ قوانین بناتی ہے تو کیا اس کے لئے حکومت کو مطعون کرنا جائز ہو گا ۔ حقیقت یہ ہے ان قوانین سے انھیں ہی تکلیف ہو رہی ہے کہ جنھیں ایسی آزادی چاہئے کہ جس میں وہ جھوٹ کی آبیاری کر سکیں اور کوئی انھیں پوچھنے والابھی نہ ہو ۔ 24نومبر 2024کو جب اسلام آباد پر چڑھائی کی گئی تو 26نومبر کو گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کے آپریشن نے اس جتھے کو راہ فرار پر مجبور کر دیا اور بشریٰ بیگم فرار ہونے والوں میں سب سے آگے تھیں ۔ اپنی اس خفت کو مٹانے کے لئے لاشوں کا ایک بیانیہ گھڑا گیا اور سب سے پہلے لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارے270کارکنوں کو مار دیا گیا ہے ۔ حکومت نے جب ثبوت مانگے تو بات کم ہوتے ہوتے بارہ کارکنوں تک آ گئی لیکن اس پر بانی پی ٹی آئی کی زبردست جھاڑ پڑی کہ تم لوگوں نے اتنی کم تعداد کیوں بتائی اور اس جماعت کا سوشل میڈیا اب بھی سینکڑوں لاشوں کی بات کر رہا ہے اور اس کے باوجود ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف آج تک کسی ایک کارکن کا جنازہ یا مرنے والے کسی کارکن کے لواحقین کو میڈیا تو الگ بات ہے سوشل میڈیا پر نہیں دکھا سکی تو کیا ایسے لوگوں کو جھوٹ بولنے کی کھلی چھوٹ دے دینی چاہئے ۔ ایک جانب حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے پتا نہیں کیا کیا جتن کئے لیکن دوسری جانب پہلے مسلسل ملک کے دیوالیہ ہونے کا پروپیگنڈا کیا گیا اور جب ملک کے دیوالیہ ہونے کی خواہشات پوری نہ ہوئیں تو اب بھی بہتر ہوتی معیشت کے حوالے سے ایک ختم نہ ہونے والا پروپیگنڈا کر کے ملک میں اور خاص طور پر نوجوان نسل میں مایوسی پھیلائی جا رہی ہے توکیا ملک میں جو بھی خرابی ہو رہی ہے اس کے لئے صرف حکومت کو ہی ذمہ دار ٹھہرانا درست عمل ہے ۔ 
آخر میں اتنا کہنا ہے کہ کیا 9مئی سے پہلے تحریک انصاف کو ہر جگہ جلسے اور جلوسوں کی اجازت نہ تھی لیکن 9مئی اور 26نومبر جیسے واقعات کے بعد حکومت اگر پابندی لگاتی ہے تو کیا بری صرف حکومت ہے ۔ کسی ہم خیال جج اور اس کے طرز عمل کو زیر بحث لائے بغیر فقط اتنا کہیں گے کہ بندیال کورٹ کے بد ترین تجربات کے بعد حکومت اگر 26ویں ترمیم منظور کراتی ہے تو برائی کیا صرف حکومت کے حصے میں آئے گی ۔ ہر مسئلہ پر مسلسل جھوٹے پروپیگنڈے کے تدارک کے لئے حکومت اگر انتہائی مجبوری کے عالم میں پیکا قانون پاس کرتی ہے تو کیا صرف حکومت کو ہی برا کہا جائے گا ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومت گنگا نہائی ہوئی انتہائی پوتر ہے لیکن ایسے تمام اقدامات کہ جو حکومت کو مجبوری کے تحت رد عمل میں کرنا پڑے ان میں صرف حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا کر دوسروں کو بری الذمہ قرار دے دینا کیا یہ درست طرز عمل ہو گا ؟۔

ٹیگز: