ایران امریکہ امن معاہدے کے بعد پوری دنیا لیکن خاص طور پر پاکستان کے لئے اس میں بے شمار ثمرات ہوں گے جو پاکستان کے حصے میں آئیں گے لیکن انھیں بتانے سے پہلے چند الفاظ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت خاص طور پر فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر صاحب کے لئے کہ جنھوں نے ایک انتہائی کٹھن کام کو سر انجام دیا ۔ یہ کام کس قدر مشکل تھا اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتہائی کوشش کے باوجود بھی روس اور یوکرین کی جنگ ختم نہیں کروا سکے ۔ امریکہ کے سامنے اسرائیل کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ٹرمپ نے یہ درست کہا کہ اسرائیل کی سلامتی امریکہ کی مرہون منت ہے لیکن اس کے باوجود صرف لبنان میں جنگ بندی میں درجن سے زیادہ ملاقاتیں ہوئی لیکن ابھی تک بھی مکمل جنگ بندی میں کامیابی نہیں ہو سکی ۔ یہ دو مماملک کے درمیان معاملات کے حوالے سے گفتگو ہو رہی ہے جبکہ اس ثالثی میں تو صرف ایران اور امریکہ ہی نہیں بلکہ اسرائیل سمیت آدھی درجن سے زیادہ عرب ممالک بھی شامل بھی شامل تھے کہ ان سب کے درمیان اتفاق رائے کوئی آسان کام نہیں تھا جو فیلڈ مارشل صاحب نے کر دکھایا ۔ اس بات کا اعتراف خود ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کیا کہ سعودی عرب ، کویت ، متحدہ عرب امارات ، بحریت ، اردن قطر ، عمان اور اسرائیل سمیت کون کون سے ممالک سے ایران اور امریکہ دونوں اطراف کی تجاویز شیئر ہوتی رہیں اور اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ جنگ صرف تین ممالک ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان نہیں تھی بلکہ یہ تو ایک طرح سے منی ورلڈ وار تھی ۔ جب کسی معاملے میں اتنے زیادہ ممالک شامل ہو گے تو ان کا کسی ایک مسودے پرمتفق ہونا ایک کٹھن کام ہے لیکن پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت خاص طور پر فیلڈ مارشل صاحب نے یہ کارنامہ بھی سر انجام دے ڈالا اور کروڑوں لوگوں کو جنگ کے شعلوں سے اور پوری دنیا کی بگڑتی معیشت کو مزید بگڑنے سے بچا کر واپس اسے معمول کی طرف لانے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔
اپنے اصل موضوع کی جانب آتے ہیں ۔ اس امن معاہدے کے بعد جیسے ہی ایران سے پابندیاں ہٹائی جائیں گی تو سب سے پہلا جو نقد نتیجہ پاکستان کے حق میں نکلے گا وہ تیل اور گیس کی موجودہ قیمت سے بہت زیادہ سستی قیمت پر دستیابی ہے کہ خدا نے چاہا تو جس کا براہ راست فائدہ عوام کو بھی پہنچے گا ۔ اس فائدے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کراچی اور بلوچستان میں اسمگل ہو کر بھی پیٹرول 70سے80روپے لیٹر سستا ملتا ہے ۔ اب اگر پٹرولیم مصنوعات جن میں تیل اور گیس بھی شامل ہیں یہ اگر سستی ہو جاتی ہیں تو اس سے بجلی بھی سستی ہو گی جس سے انڈسٹری کو بھی ریلیف ملے گا اور بحیثیت مجموعی مہنگائی میں بھی کمی آئے گی ۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ ایران نے پاکستان کی سرحد تک گیس پائپ لائن بچھا رکھی ہے یعنی بحری جہازوں کے کرایوں کی مد میں جو کروڑوں اربوں روپے خرچ ہوتے تھے وہ بھی بچت ہو گی اور اگر مستقبل میں پیٹرول کے لئے بھی پائپ لائن کا کوئی انفرا اسٹرکچر بن سکا تو اس کا بڑا واضح مطلب یہ ہو گا کہ تیل اور گیس دونوں کی ٹرانسپورٹیشن کی مد میں سالانہ اربوں روپوں کی بچت ہو گی جس کا براہ راست فائدہ عوام اور ریاست پاکستان کو ہو گا ۔ اس کے علاوہ اس خطے میں اسرائیلی بدمعاشی ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی اور امریکہ کی اس خطے میں مداخلت میں بھی کافی حد تک کمی آئے گی اور اب اس خطے میں پاکستان ، ایران اور ترکیہ طاقت کی نئی علامت کے طور پر سامنے آئیں گے جبکہ پاکستان تو گذشتہ سال ہندوستان کو شکست دینے کے بعد پہلے ہی یہ مقام حاصل کر چکا ہے ۔ اس خطے میں پاکستان ، ایران ، ترکیہ ، قطر ، عمان اور دیگر عرب ممالک اور اس کے ساتھ چین ، روس اور آزربائیجان کا ایک بلاک بن سکتا ہے اور ایران سعودی عرب میں تعلقات سے اس خطے میں خاص طور پر پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں بہت مدد ملے گی اور فرقہ واریت کا بڑی حد تک خاتمہ ہو جائے گا ۔
پاکستانیوں کے لئے متحدہ عرب امارات میں بوجہ روز گار کے دروازے جس طرح بند ہو رہے ہیں تو ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد پاکستانیوں کے لئے روزگار کے بھی بہت زیادہ مواقع نکلیں گے ۔ ہندوستان کو شکست دینے کے بعد پاکستان کا ایک مقام بن گیا تھا لیکن اس ثالثی کے بعد تو پاکستان کو جو عزت اور مرتبہ نصیب ہوا ہے وہ بہت کم ممالک کو حاصل ہے ۔ اس کے علاوہ جس طرح ایران پاکستان کے لئے تشکر پاکستان کے نعرے اور نغمے بنا رہا ہے تولگ ایسے رہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات بھی چین کی طرح ہو سکتے ہیں جس سے پاکستان کی مغربی سرحدیں محفوظ ہو جائیں گے ۔ قارئین کہہ سکتے ہیں کہ یہ تعلقات تو پہلے بھی مضبوط ہیں تو یہ بات درست ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں لیکن اس کامیاب ثالثی کے دوران اور بعد میں پاکستان اور ایران دونوں ممالک نے جس گرم جوشی کا مظاہرہ کیا ہے تو اس سے یہ تعلقات پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ مضبوط ہونے کے قوی امکانات ہیں ۔ تھوڑی دیر کے لئے تصور کر لیں کہ ترکیہ سے لے کر ایران ، پاکستان ، چین اور پھر روس اور دوسری جانب ایک آدھ عرب ریاست کو چھوڑ کر تمام عرب ریاستیں بھی متحد ہو جائیں تو امت مسلمہ کے اتحاد کا خواب پورا ہونے میں دیر نہیں لگے گی اور اس تمام پیش رفت کا سہرا پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے سر جاتا ہے ۔