چوپال میں چپ سائیں کے علاوہ سب موجود تھے۔ ایک دوسرے کی دل جوئی کررہے تھے کہ لاٹھی ٹیکتے ہوئے چپ سائیں بھی آئے۔ چپ سائیں حسب سابق اور حسب عادت براجمان ہوئے اور توقف کے بعد سب کا حال احوال پوچھا۔ سب سے پہلے چاچا رفیق کہنے لگے سائیں جی، ہمارا ملک اتنا زرخیز اور سرسبز ہے لیکن آلودگی کا اتنا برا حال ہے کہ شہر میں اگر کوئی سفید کپڑے پہن کرنکلے تو وہ اللہ کے فضل سے کالے اور گرد والے ہوجاتے ہیں کہ دھوبی بھی کہتا ہے کہ اللہ کی پناہ کوئلے کی کان سے آئے ہو بھئی!۔۔۔ اس پر سب ہنس پڑے۔۔ چپ سائیں توقف کے بعد بولے۔۔۔ بھائی رفیق آپ کہتے تو ٹھیک ہیں لیکن اس میں بھی ہمارا ہی قصور ہے۔ ہماری حکومت تواس کے لیے اقدامات کررہی ہے، باقاعدہ ادارے بھی متحرک ہیں لیکن لوگ بھی سستی کرتے ہیں۔
نتھو،پھتو بولے بھائی جی پچھلے دنوں کی بات ہے کہ ہمارے ایک چچیرے بھائی شہر آئے۔ ان کی گاڑی کچھ پرانے ماڈل کی تھی، وہ دھواں چھوڑ رہی تھی۔۔ اس کو ایک معروف شاہراہ پر کچھ سرکاری افسران نے روکا اور کہا کہ آپ کی گاڑی ماحول کو آلودہ کررہی ہے۔۔۔ میرے چچیرے بھائی نے بہت کہاکہ آپ کچھ وقت دے دیں، ٹھیک کرا لوں گا لیکن، اس کی نہ سنی گئی اور بھاری جرمانہ ہوا اوراس کے ساتھ اس کی گاڑی کو ماحول دوست کا سٹیکر بھی نہیں لگایاگیا۔ اس نے توبہت کہا کہ بھئی میرا دو تین باراس وجہ سے چالان بھی ہوا ہے لیکن وقت تو دیں۔۔۔ خیر۔۔سائیں جی یہ توتھی اس کی بپتا تھی، کچھ نہ کچھ اس کا قصور بھی ہے۔۔ پر آپ اس بارے میں کہا کہیں گے۔۔یہ ماحولیاتی آلودگی کیا ہے اور کیسے پھیلی؟
سائیں جی بولے۔۔ صاحبو!۔ ماحولیاتی آلودگی کا مطلب ہے فضا، پانی، زمین یا ماحول میں نقصان دہ مادوں یا گیسوں کا شامل ہونا جو انسانوں، جانوروں اور پودوں کی صحت اور زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ گاڑیاں، صنعتی دھواں، فیکٹریاں، کیمیکلز اور پلاسٹک کی کثرت اس آلودگی کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔
اب میں دوسرے پہلو پر بات کرتا ہوں،گاڑیاں ایندھن جلانے کے دوران کاربن
مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور دیگر زہریلے گیسیں خارج کرتی ہیں، جو ہوا کی آلودگی کا سبب بنتی ہیں۔ اس سے نہ صرف ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ انسانی صحت پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں جیسے کہ سانس کی بیماری، دمہ، دل کے امراض وغیرہ۔نتھو، پھتوکچھ ممالک اور شہروں میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے گاڑیوں پر مخصوص سٹیکر لگائے جاتے ہیں۔ یہ سٹیکر ظاہر کرتے ہیں کہ گاڑی ماحولیاتی معیارات کے مطابق ہے یا نہیں۔ آلودگی کم کرنے کے لیے کچھ علاقوں میں صرف ایسی گاڑیاں داخل ہو سکتی ہیں جن کے سٹیکر موجود ہوں۔ سٹیکر کے ذریعے یہ جانچا جاتا ہے کہ آیا گاڑی مالک نے ماحولیاتی ٹیکس ادا کیا ہے یا نہیں۔اس کا مقصدلوگوں میں ماحول کے تحفظ کی اہمیت کو بڑھانے کے لیے بھی ہوتا ہے۔
دوستو!ماحولیاتی آلودگی آج کے دور میں عالمی مسائل میں سے ایک سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ بڑھتی ہوئی صنعتی سرگرمیاں، گاڑیوں کا بڑھتا ہوا استعمال، اور دیگر عوامل نے فضا کو آلودہ کر دیا ہے۔ خاص طور پر گاڑیاں جو فوسل فیول استعمال کرتی ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر زہریلی گیسیں خارج کرتی ہیں جو ماحول اور صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اس لیے دنیا بھر میں حکومتیں اور ادارے ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے مختلف پالیسیاں بنا رہے ہیں جن میں گاڑیوں پر سٹیکر لگانا بھی ایک مو¿ثر اقدام ہے۔بھئی رفیق دنیا کے کئی بڑے شہروں میں ایسے مخصوص علاقے بنائے گئے ہیں جنہیں ماحولیاتی یا کم آلودگی والے زونز کہا جاتا ہے۔ ان زونز میں صرف وہی گاڑیاں داخل ہو سکتی ہیں جن پر مخصوص ماحولیاتی سٹیکر موجود ہوں۔ اس اقدام کا مقصد ان علاقوں میں ہوا کی صفائی کو بہتر بنانا اور رہائشیوں کی صحت کی حفاظت کرنا ہے۔ اس سے پرانی اور زیادہ آلودگی کرنے والی گاڑیوں کو ان علاقوں میں داخلے سے روکا جاتا ہے۔
گاڑی پر لگے سٹیکر کے ذریعے یہ تصدیق کی جاتی ہے کہ آیا یہ فیس ادا کی گئی ہے یا نہیں۔ اس فیس کا استعمال آلودگی کم کرنے، پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے، اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔سٹیکر نہ صرف قانونی تقاضوں کی تکمیل کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ عوام میں ماحول کے تحفظ کے بارے میں شعور پیدا کرنے کا ایک مو¿ثر ذریعہ بھی ہیں۔ جب لوگ اپنی گاڑی پر ماحولیاتی سٹیکر لگواتے ہیں تو انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے اور وہ اپنی گاڑی کی دیکھ بھال اور آلودگی کم کرنے کے لیے زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں۔ اس طرح یہ عوامی سطح پر ماحولیات کے تحفظ کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔
دوستو!کچھ شہروں میں سٹیکر والی گاڑیوں کو خصوصی سہولیات بھی دی جاتی ہیں، جیسے کہ کم آلودگی والے راستے استعمال کرنے کی اجازت، ترجیحی پارکنگ یا کم ٹریفک والے لینز۔ یہ اقدامات ماحول دوست گاڑیوں کو ترغیب دینے اور پرانی، زیادہ آلودگی کرنے والی گاڑیوں کو محدود کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ اس طرح ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ ٹریفک کے بہاو¿ کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔گاڑیوں پر سٹیکر لگانے کا مقصد صرف ایک قانونی یا انتظامی عمل نہیں بلکہ یہ ماحول کی حفاظت اور صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف فضا کی آلودگی کم ہوتی ہے بلکہ عوام میں ماحولیاتی شعور بھی بیدار ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سستی نہ کریں اور ہم اس نظام کی قدر کریں اور اپنی گاڑیوں کو ماحولیاتی معیار کے مطابق رکھیں تاکہ ایک صاف اور صحت مند ماحول قائم ہو سکے۔
دوستو! ہم لوگوں کی یہ عادت ہوگئی ہے کہ اپنے ملک میں سیاحتی مقامات پر جہاں بھی جاتے ہیں وہاں پر گندگی کوفروغ دیتے ہیں اوراس پر فخر کرتے ہیں۔صاحبو! اس بارے میں حکومت کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سخت اور موثر ماحولیاتی قوانین بنائے اور ان پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ ماحول دوست گاڑیوں کو فروغ دینے کے لیے سبسڈی اور ٹیکس میں چھوٹ دی جائے تاکہ لوگ انہیں خریدنے کی ترغیب حاصل کریں۔ فضائی معیار کی نگرانی کے لیے جدید سینسرز اور نگرانی سٹیشنز قائم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔صنعتی اداروں کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔
آخر میں، عام لوگ بھی ماحول کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور ان کی حفاظت کریں کیونکہ درخت ہوا کو صاف کرتے ہیں اور آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ پلاسٹک اور دیگر غیر ماحول دوست مواد کا کم استعمال کریں۔ اگر ہم سب مل کر ماحول کی حفاظت کریں تو نہ صرف ہماری زمین محفوظ رہے گی بلکہ آنے والی نسلیں بھی صحت مند زندگی گزار سکیں گی۔۔۔۔باقی رہے نام اللہ کا!۔