Wed, September 16, 2026

ڈنک نکالنے کا بہترین وقت

ڈنک نکالنے کا بہترین وقت

چند روز ہوتے ہیں، دنیا اسرائیل ایران جنگ پر نظریں جمائے بیٹھی تھی کہ ایک خبر نے آدھی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ خبر کم از کم سو ملکوں میں حیرت، خوشی اور صدمے کی کیفیت میں سنی گئی۔ امریکہ، یورپ، مڈل ایسٹ، افریقہ، ایشیا، سیکنڈے نیوین ممالک غرضیکہ ہر جگہ یہ خبر زیر بحث آ گئی، پچاس اسلامی ممالک، تیس یورپی ممالک اور بھارت میں کہرام مچ گیا۔ انہی ایام میں جی سیون ممالک کا سربراہی اجلاس جاری تھا۔ اس اجلاس میں شریک سربراہان کا سٹاف بے چینی سے وقفے کا انتظار کرنے لگا۔ جونہی وقفہ ہوا تو یہ خبر ان تک پہنچائی گئی جس پر تمام سربراہان مملکت منہ سے تو کچھ نہ بولے لیکن ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔ ہر ایک چاہتا تھا کہ کوئی اور اس کے بارے میں بات کرے تو سوال و جواب شروع ہو سکیں لیکن سب خاموش رہے۔ حتیٰ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی یہ خبر پہنچائی گئی۔ اس خبر کو دیکھتے ہی ان کی تیوری پر بل پڑ گئے۔ پینٹاگون کے علاوہ دنیا کی بڑی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے دفاتر میں موجود ذمہ داران بھی ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑ گئے اور اپنے اپنے ذرائع سے اس کی چھان بین کرنے میں مصروف ہو گئے۔ پاکستان میں موجود ستر ممالک کے سفارت خانوں میں بھی کچھ ہلچل تھی جبکہ ملتی جلتی کیفیت دیگر اہم اداروں میں نظر آئی۔ یہ خبر سوشل میڈیا پر تیس سیکنڈ کے کلپ کی صورت پہلی مرتبہ چلی جسے بعد ازاں غیر ملکی میڈیا نے اپنے انداز میں آگے بڑھایا۔ خبر میں ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان نے ایران پر ایٹمی حملے کی صورت میں اسرائیل پر ایٹمی حملے کا عندیہ دیا ہے۔ خبر غیر ملکی میڈیا کے ہتھے چڑھی تو بڑے بھونچال کی سی کیفیت پیدا ہو گئی، حکومت پاکستان نے اس کا نوٹس لیا، وزیر خارجہ بھاگم بھاگ ایوان میں پہنچے اور انہوں نے واضح کیا یہ خبر جھوٹی ہے، جعلی ہے۔ پاکستان نے اس بات کا کسی کو یقین نہیں دلایا، نہ ہی اس کا کوئی ایسا ارادہ ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع نے بھی پارلیمینٹ میں آ کر حکومت پاکستان کی پالیسی واضح کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان سفارتی سطح پر انسانی حقوق و سیلف ڈیفنس کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران کی تمام عالمی فورمز پر حمایت جاری رکھے گا لیکن کسی جنگ میں فریق نہیں بنے گا۔ بات واضح ہو گئی، ہیجان تھم گیا۔ اب اس خبر اور اس کی سرکاری وضاحت پر تبصرے شروع ہو گئے۔ حکومت مخالف حلقوں نے کہا کہ خبر بہت بڑی تھی، ایسا ہی ہونا چاہیے تھا لیکن حکومت اس کا بوجھ چند گھنٹوں کے لیے بھی نہ اٹھا سکی، ٹانگیں کانپ گئیں اور جناب بلاول بھٹو کے لہجے میں حکومت کی کانپیں ٹانگ گئیں۔ حکومت نے واضح کیا کہ یہ خبر گمراہ کن ہے، یہ یقیناً پاکستان دشمنوں کی طرف سے تراشی گئی ہے۔ بھارت نے اس پر سکھ کا سانس لیا۔ گزشتہ دو ماہ میں دنیا نے تین شیروں کو بلیاں بنتے دیکھا ہے۔ پہلا شیر یوکرین کا صدر ڈیلسنکی ہے وہ امریکہ اور یورپ کے ایما پر دھاڑتا ہوا روس پر حملہ آور ہوا، جنگ کو بڑھاتا گیا۔ ایک برس سے کچھ زائد عرصے میں اپنا سوا لاکھ کلومیٹر کا علاقہ کھو چکا ہے۔ ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اب وہ چاہتا ہے کسی طرح جنگ بند ہو جائے۔ زیلسنکی بنیادی طور پر تھیٹر کا مزاحیہ اداکار ہے لیکن ہمارے تھیٹر اداکاروں جتنی عقل و شعور نہیں رکھتا۔ اگر ایسا ہوتا تو ٹرمپ کے بہکاوے میں آ کر جنگ کو طول نہ دیتا اس نے ثابت کر دیا اگر کوئی مسخرہ حکومت کا سربراہ بن جائے تو وہ باشعور سربراہ مملکت نہیں بن جاتا بلکہ حکومت اور ایوان اقتدار تھیٹر بن جاتے ہیں۔ دوسرا شیر بھارت کا وزیراعظم مودی تھا جو وقت بے وقت پاکستان کی طرف منہ کر کے دھاڑنا اپنا فرض اولین سمجھتا تھا۔ پاکستان نے کارگل میں بھارتی فوج کو گلے سے پکڑ لیا تو رونے لگا کہ آج ہمارے پاس رافیل جہاز ہوتے تو ہم پاکستان کو سبق سکھا دیتے پھر اس نے کئی برس بعد رافیل جہاز خریدے اس سودے میں کرپشن کی کہانیاں الزامات سامنے آئے۔ پہلگام ڈرامے کے بعد رافیل طیارے پاکستان پر حملہ آور ہوئے تو ان میں سے چار پاکستان ایئرفورس نے گرا لیے جس کے بعد سے شیر مودی اب بلی بنا ہوا ہے۔ تیسرا شیر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو ہے جو طاقت کے نشے میں چُور ڈیڑھ برس تک فلسطین اور غزہ کو تاراج کرتا رہا۔ امریکہ اور اس کے حواری اس کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ حماس اور حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کے گریبان پر ہاتھ ڈالا لیکن ایرانی میزائلوں نے اس کی چڈی اتار کر اسے مکمل ننگا کر دیا ہے۔ اب وہ بلی بنا ہے اور دنیا سے اپیلیں کر رہا ہے کہ اسے اور اسرائیل کو ایرانی میزائلوں سے بچایا جائے۔
اسرائیل کا سرپرست اعلیٰ امریکہ چنگھاڑ رہا ہے کہ ایران کو جوہری طاقت نہیں بننے دیں گے۔ اس سے عالمی امن کو خطرہ ہے جبکہ دنیا میں سب سے زیادہ ایٹم بم امریکہ کے پاس ہیں۔ وہ دو ایٹم بم ماضی میں چلا کر اپنے آپ کو خطرناک ترین ثابت کر چکا ہے۔ یہ ایٹم بم چلانے والے انتہا پسند امریکی تھے۔ اس امریکی انتہا پسندی کا شکار عراق، مصر، شام، لیبیا، سوڈان، یمن ہو چکے ہیں۔ اب وہ ایران اور پاکستان کے درپے ہے۔ اگر ایران کو جوہری قوت بننے کا حق نہیں دیا جا سکتا تو پھر امریکہ برطانیہ کو بھی جوہری ہتھیار رکھنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ امریکہ کی شکل یوکرین کے آئینے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یوکرین کو ایک خاص رقم دے کر اس کے جوہری ہتھیار ضائع کرائے گئے جب وہ نہتا ہو گیا تو اسے بلیک میل کرتے ہوئے روس کو نقصان پہنچانے کے لیے میدان میں اتار دیا گیا۔ دنیا کو امریکی مکروہ کھیل سمجھ میں آ رہا ہے لکین مارے خوف کے کوئی آواز بلند کرنے کو تیار نہیں۔ امریکہ ایک نئی سازش کا جال بن رہا ہے۔ وہ خود اپنی ہی کسی ملٹری بیس پر میزائل گرائے گا اور اس کا الزام ایران پر رکھ کر اس کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کر سکتا ہے۔ اس کی منصوبہ بندی میں یو این میں شامل ممالک کو شریک کرنا بھی شامل ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح بھارت نے پہلگام میں ڈرامہ کیا اور پاکستان پر الزام دھر کر حملہ کر دیا۔ بھارت امریکہ اور اسرائیل ایک جیسی منفی سوچ رکھتے ہیں، ان کے عزائم ایک جیسے ہیں۔ یہ تینوں اسلام دشمن ہیں۔ پاکستان اور ایران کی سرحدوں پر منڈلاتی جنگ میں نیوکلیئر حملے کو روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ایران جلد از جلد ایٹمی دھماکہ کر دے، اس کا ایٹمی دھماکہ ہی ایٹمی جنگ کو روک سکتا ہے۔ بھارت، امریکہ اور اسرائیل طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔ خطے میں امن اس وقت ہو گا جب اسرائیل کا ڈنک نکل جائیگا۔ یہ ڈنک نکالنا ضروری ہے اس کا بہترین وقت سر پر آن پہنچا ہے۔

ٹیگز: