قرآنِ مجید میں جب بھی الرحِیم کا ذکر آتا ہے تو اکثر اس کے ساتھ الغفور، التواب یا العزیز بھی آتا ہے۔ یہ محض الفاظ کا حسنِ ترتیب نہیں بلکہ ایک عظیم الہیاتی حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”آپ فرما دیجئے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے، وہ یقینا بڑا بخشنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہے“ (الزمر: 53) اور ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ”اور میری رحمت ہر چیز پر وسعت رکھتی ہے“ (العراف: 156) ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کسی محدود جذبے کا نام نہیں بلکہ اس کی ربوبیت کی ایک دائمی صفت ہے۔ اسی لیے قرآن مومن کو مایوسی سے روکتا ہے، کیونکہ مایوسی درحقیقت اللہ کی رحمت کی وسعت کو محدود سمجھنے کا نام ہے۔
لغت کے عظیم عالم الراغب الاصفہانی نے رحمت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رحمت کا اصل مفہوم وہ شفقت ہے جس کا تقاضا احسان اور خیر رسانی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں یہ معنی کامل ترین صورت میں پائے جاتے ہیں، کیونکہ اس کی رحمت محض جذبہ نہیں بلکہ عطا، ہدایت، مغفرت اور ربوبیت کی صورت میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔ اسی طرح ابو حامد الغزالی اسمائے حسنیٰ کی شرح میں یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ بندہ جب الرحیم کی معرفت حاصل کرتا ہے تو اس کے اخلاق میں بھی رحمت، عفو، خیر خواہی اور خدمتِ خلق پیدا ہوتی ہے۔ یعنی اللہ کی اس صفت کا صحیح ادراک صرف علمی نہیں بلکہ عملی بھی ہونا چاہیے۔ صوفیائے کرام، بالخصوص محی الدین ابنِ عربی، کائنات کو اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی کا مظہر قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسانِ کامل وہ ہے جو اپنی استطاعت کے مطابق ان اسمائے الٰہیہ کی اخلاقی جھلک اپنے کردار میں پیدا کرے۔ اس تصور کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اللہ کی صفات میں شریک ہو جاتا ہے، بلکہ یہ کہ وہ اپنے اخلاق کو اللہ کی پسندیدہ صفات کے مطابق سنوارتا ہے؛ ظلم کے بجائے عدل، انتقام کے بجائے عفو، سختی کے بجائے شفقت اور خود غرضی کے بجائے ایثار کو اختیار کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن نے قدرت اور رحمت کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک ساتھ بیان کیا ہے:’ وِن رب لہو العزِیز الرحِیم‘ غلبہ اور رحمت کا یہ اجتماع ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی قوت وہ ہے جو عدل کے ساتھ رحمت بھی رکھتی ہو۔ اختیار جب رحمت سے خالی ہو جائے تو جبر بن جاتا ہے، اور رحمت اگر حکمت سے خالی ہو تو کمزوری بن سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ اس کی رحمت بھی کامل ہے اور اس کا عدل بھی کامل۔ آج کا انسان مصنوعی ذہانت، خلائی سائنس، حیاتیاتی انجینئرنگ اور ڈیجیٹل انقلاب کے دور میں داخل ہو چکا ہے، لیکن اس کی بے چینی کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس نے اسباب پر تو اعتماد کرنا سیکھ لیا، مگر مسبِب الاسباب پر توکل کمزور کر دیا۔ الرحیم کا شعور انسان کو یاد دلاتا ہے کہ منصوبہ بندی ضروری ہے، مگر نتیجہ اللہ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔
میں جب صفتِ الرحیم پر غور کرتا ہوں تو میرے سامنے اس کا ایک پہلو سب سے زیادہ روشن ہو کر آتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بن مانگے عطا کرتا ہے۔ انسان صرف اپنی معلوم ضرورتوں کے لیے دعا کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کی ان ضرورتوں کا بھی بندوبست فرماتا ہے جن کا اسے ابھی شعور تک نہیں ہوتا۔ اسی لیے زندگی میں بہت سی نعمتیں ایسی ہوتی ہیں جو ہماری طلب کا نتیجہ نہیں بلکہ محض اس کے فضل کی عطا ہوتی ہیں۔ شاید اسی حقیقت کو قرآن ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: ”اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو انہیں شمار نہیں کر سکتے“ (النحل: 18)۔ یہ آیت صرف نعمتوں کی کثرت نہیں بتاتی بلکہ انسان کے شعور کی محدودیت بھی ظاہر کرتی ہے۔ ہم ان نعمتوں کو بھی شمار نہیں کر سکتے جنہیں ہم دیکھ رہے ہیں، چہ جائیکہ ان انعامات کو جان سکیں جن سے اللہ نے ہمیں خاموشی سے نوازا یا ان آفات کو شمار کر سکیں جنہیں اس نے ہم تک پہنچنے ہی نہیں دیا۔
میرے نزدیک الرحیم صرف اللہ تعالیٰ کا ایک اسم نہیں بلکہ زندگی کو دیکھنے کا ایک زاویہ¿ نظر ہے۔ جب انسان اس اسم کی معرفت حاصل کر لیتا ہے تو اس کے دل سے مایوسی نکل جاتی ہے، شکوہ شکر میں بدل جاتا ہے، خوف توکل میں ڈھل جاتا ہے اور بے یقینی یقین میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی ہستی کے سپرد ہے جو اس کی زبان سے ادا ہونے والی دعاوں کو بھی سنتی ہے اور اس کے دل میں ابھی پیدا نہ ہونے والی ضرورتوں کو بھی جانتی ہے؛ جو اس کے حال سے بھی باخبر ہے اور اس کے مستقبل کے لیے بھی پہلے سے اسباب مہیا کر رہی ہے۔ شاید اسی ادراک کا نام ایمان ہے، اور اسی یقین کا نام ہے: اللہ ُالرحِیم۔ میری نگاہ میں الرحِیم اللہ تعالیٰ کا وہ اسم ہے جو بندے کو یہ یقین عطا کرتا ہے کہ اس کا رب اس کی دعاو¿ں سے پہلے بھی اس کے ساتھ تھا، اس کی دعاو¿ں کے دوران بھی اس کے ساتھ ہے، اور اس کی دعاوں کے بعد بھی اپنی رحمت کے ساتھ اس کی تقدیر سنوار رہا ہے۔