ہم پاکستانی ہر شب کوئی اچھی خبر سننے کی چاہ میں سوتے ہیں لیکن ہر صبح ایک بُری خبر سننے کے لیے بیدار ہوتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان خبروں میں سے بیشتر کا تعلق کراچی سے ہوتا ہے۔ سٹریٹ کرائم ہو، ٹریفک حادثات میں شہریوں کی اموات ہوں، بچوں کے گٹروں میں گر کر مرنے کے واقعات ہوں، کثیرالمنزلہ عمارتیں زمین بوس ہونے کے سانحات ہوں یا خوفناک آتش زدگیاں، ایسی تمام اندوہناک خبروں کے ساتھ کراچی کے علاوہ کسی دوسرے شہر کا نام شاذو نادر ہی نظر آتا ہے۔
یوں تو حادثات ہر جگہ رونما ہوتے ہیں، قیمتی جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں، لوگوں کا مالی نقصان بھی ہوتا ہے لیکن انتظامی منصوبہ بندی اور کوششوں سے ایسے واقعات پر قابو پا لیا جاتا ہے تاکہ نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے لیکن جس طرح کی انتظامی نااہلی کراچی میں نظر آتی ہے، اسے دیکھ کر شدید افسوس ہوتا ہے۔ کراچی کی انتظامیہ ہر قسم کی ہنگامی صورت حال پر قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ تازہ ترین واقعہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتش زدگی کی صورت میں پیش آیا ہے۔ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات دس بجے کے قریب لگنے والی آگ پر چونتیس گھنٹے بعد بھی صرف جزوی طور پر ہی قابو پایا جا سکا۔ کثیرالمنزلہ پلازے میں بارہ سو سے زائد دکانیں تھیں جن میں دکانداروں اور خریداروں سمیت سیکڑوں لوگ موجود تھے۔ بیشتر دکانیں جل کر راکھ ہو گئیں اور عمارت کے کئی حصے منہدم ہو گئے۔ عمارت کے اندر موجود سیکڑوں لوگوں کا کیا بنا، ابھی تک کچھ پتا نہیں چل سکا۔ ابھی صرف ایک فائرفائٹر سمیت مجموعی طور پر سترہ افراد کے جھلس کر، دم گھٹ کر، ملبے تلے دب کر یا بھگدڑ سے جاں بحق ہونے کا علم ہو سکا ہے جبکہ متعدد افراد زخمی اور لاپتا ہیں۔ جن لوگوں کا کچھ پتا نہیں چل رہا، ان کے اہل خانہ تادم تحریر شدید پریشانی اور اضطراب کے عالم میں پلازے کے باہر کسی معجزے کے منتظر ہیں۔
ظاہر ہے کہ ان سیکڑوں لوگوں میں سے کسی کا زندہ بچ جانا کوئی معجزہ ہی ہو سکتا ہے جن کے بارے میں گمان ہے کہ وہ چونتیس گھنٹے سے آتش زدہ عمارت کے اندر موجود تھے اور ان سے کسی کا کوئی رابطہ بھی نہیں ہو رہا تھا۔ جو عمارت اتنا طویل عرصہ آگ کے شعلوں میں گھری رہی، اس کے تین حصے تو ویسے ہی منہدم ہو گئے تھے۔ سو جو لوگ ان تباہ شدہ حصوں میں موجود ہوں گے، وہ عمارت گرنے کے بعد کہاں بچے ہوں گے۔ عمارت کے جو حصے گرے نہیں، وہ بھی تپ کر تنور بن چکے ہوں گے بلکہ جہنم کے کسی گڑھے کی شکل اختیار کر گئے ہوں گے۔ ان کے دیواریں، فرش اور چھتیں انگارے کی طرح دہکنے لگی ہوں گی اور ان کا ہر کونا کھدرا دھوئیں سے بھر چکا ہو گا۔ ایسے عالم میں کوئی ذی روح کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔ شہر بھر کی فائر بریگیڈ پلازے کی آگ بجھانے میں مصروف رہی لیکن آگ اس قدر وحشت ناک تھی کہ بجھنے ہی میں نہیں آ رہی تھی بلکہ مزید پھیلتی چلی جا رہی تھی۔ متاثرہ پلازہ تو ایک طرف، ارد گرد کا پورا علاقہ بھی اس عرصے میں دھوئیں کے مرغولوں کی زد میں رہا۔
سننے میں آیا ہے کہ آگ عمارت کے تہہ خانے کی ایک دکان میں لگی تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف پھیل گئی اور کچھ ہی دیر میں پورے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا حالانکہ یہ پلازہ بہت بڑا تھا۔ ظاہر ہے جس میں بارہ سو کے قریب دکانیں ہیں وہ کوئی چھوٹا پلازہ تو نہیں ہو گا۔ یہ بھی سنا ہے کہ پلازہ کئی دہائیاں پرانا تھا اور اچھے خاصے رقبے پر تعمیر کیا گیا تھا۔ یقینا اسے اس وقت کسی بہت امیر آدمی نے تعمیر کرایا ہو گا اور ظاہر ہے کہ اس وقت اسے یا اس کی اگلی نسل کو پلازے سے اچھی خاصی آمدن بھی ہو رہی ہو گی۔ اس صورت حال میں یوں تو کئی سوال ذہن میں پیدا ہوتے ہیں لیکن یہاں صرف دو چھوٹے اور ایک بڑا سوال سامنے رکھا جا رہا ہے۔ ایک چھوٹا سوال تو یہ ہے کہ کیا اتنے بڑے پلازے میں آگ بجھانے کے آلات موجود نہیں تھے۔ اگر نہیں تھے تو کیوں نہیں تھے اور اگر موجود تھے تو انہیں استعمال کیوں نہ کیا گیا۔ ان میں بھرا گیا مواد زائد المیعاد ہو چکا تھا یا پھر کسی کو ان کے استعمال کی تربیت ہی نہیں دی گئی تھی۔ آخر کیوں آگ پر ابتدا ہی میں قابو نہ پایا جا سکا جبکہ جس وقت آگ لگی، اس وقت مارکیٹ ابھی کھلی ہوئی تھی اور اس میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ خیال رہے کہ بڑی عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات رکھنا اور عمارت سے وابستہ افراد کو ان کے استعمال کی تربیت دینا تعمیراتی عمل کے معیاری طریقہ کار میں شامل ہے۔
ایک سوال یہ ہے کہ کیا اس پلازے کے قریب کہیں کوئی فائر سٹیشن نہیں تھا کہ فائر بریگیڈ کو جائے حادثہ پر پہنچنے میں دو گھنٹے لگے۔ ایسے واقعات میں فائر بریگیڈ عام طور پر پندرہ سے بیس منٹ کے اندر اندر جائے حادثہ پر پہنچ جاتی ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں آگ بجھانے والے عملے کا اس قدر تاخیر سے پہنچنا باعث حیرت ہے۔ بڑے شہروں اور خاص طور پر صوبائی دارالحکومتوں میں تو فائر سٹیشن تھوڑے تھوڑے فاصلے پر موجود ہوتے ہیں۔ دو گھنٹے میں تو آدمی ایک سے دوسرے شہر پہنچ جاتا ہے ان دونوں سوالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی میں تعمیرات کے ذمہ دار ادارے نے معیاری طریقہ کار کی پروا کی نہ شہری دفاع کے ادارے نے اور نہ شہر کی انتظامیہ کی طرف سے اس قسم کے حادثات سے نمٹنے کی کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اس انتظامی ناکامی پر جو سوال ذہن میں آتا ہے، وہی آج کا بڑا سوال ہے کہ آخر کراچی ہی کیوں؟۔