اللہ کے ہم جیسے بندوں پر بے شمار انعامات ہیں جن میں سے ایک اہم انعام رمضان کے بابرکت ایام ہیںاِس پر جتنا بھی شکرادا کیا جائے کم ہے اللہ اپنے بندوں کی بخشش نہ چاہتاتوایسے انعامات سے ہر گز نہ نوازتا حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک کی بڑی فضیلت بتائی ہے آپﷺاکثر اِسے پانے کی دعا فرماتے اِس بابرکت مہینے سے اتنی محبت فرماتے کہ ماہ شعبان سے ہی نفلی روزوں کے اہتمام کا آغاز کردیتے حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ جب ماہ رجب کا آغاز ہوتا تو آپﷺدعافرمایا کرتے اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان کو بابرکت بنا اور رمضان نصیب فرماجس ماہ مقدس کو پانے کی پیارے آقاﷺ دعا فرمائیں وہ کتنا بابرکت ہوگا شاید اِس کا صیح معنوں میں ہم جیسے عاجز بندوں کے لیے اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ آپﷺ نے رمضان کے چاند کوبھی خیر وبرکت کا چاند کہا ہے اِس ماہ مقدس کو اگر عبادات ،مناجات کے ساتھ رحمت و مغفرت کامہینہ کہیں تو یہ بھی عین درست ہوگا رمضان میں مسلمانوں کی روحانی تربیت ہوجاتی ہے جس کا عکس اگر عملی زندگی میں نظر آنے لگے تو دنیا و آخرت میں کامیابی یقینی ہے ۔
سحری وافطاری کو معمول بنانے کے بھی بے پناہ فیوض و برکات ہیں پیارے آقاﷺ سحری سے روزے کا آغاز فرماتے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا سحری کھایا کرو اِس میں برکت ہے سحری کے حوالے سے آپﷺ کا فرمان ہے کہ سحری کرنے والوں پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے سحری میں زیادہ تاخیر اور افطار میں جلدی کی روایات ہیںسحری کی تاکید فرمانے میں علمائے کا اتفاق ہے کہ اِس طرح روزے کو مشکل تربنانے کی بجائے آسان رکھنے کی حکمت ہے تاکہ بندہ مومن کو عبادات کے علاوہ امور کمزوری کی وجہ سے مشکل پیش نہ آئے اوروہ معمولاتِ زندگی ادا کرنے کے قابل رہے دینِ اسلام کتنا سادہ ،عام فہم اور مکمل ضابطہ حیات ہے کہ اِس میں ہر پہلو کے حوالے سے وضاحت ہے اور آسانی ہے بے شک اللہ غفور و رحیم ہے اور پیارے آقاﷺ رحمت العالمین ہیں ۔
رمضان میں اللہ کے حکم پر بندہ مومن دن بھر بھوک و پیاس کے باوجود نہ کچھ کھاتا ہے اور نہ ہی کچھ پیتا ہے یہ اِس امر کا اعلان ہے اللہ کے نیک بندوں کو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے پیارے آقاﷺ کے بتائے راستے پر چلناپسند ہے اسی طرح اگر دن بھرکچھ نہ کھاتااور نہ پیتا ہے تو جھوٹ بولنے سمیت دیگر برائیوں سے بھی بچنے کی کوشش کرتا ہے اسی لیے اِس مہینے کو اسلام میں ایک خاص اور اہم مقام ہے اوراِس ماہ ِ مقدس کا اسلام کے بنیادی ارکان میں شمار ہوتا ہے سحری کی تیاری سے قبل جاگنے کی وجہ سے تہجد کے نوافل کی ادائیگی بھی باآسانی ممکن ہے جو قربِ الٰہی حاصل کرنے اور دعاﺅں کی قبولیت کا بہترین وقت ہے جب بندہ نیند کو چھوڑ کر اپنے خالق و مالک و رازق کے سامنے جھکتا ہے تو اللہ اُس کے درجات بلند کردیتا ہے یہی حبِ الٰہی روزِ محشر نجات کا باعث بنے گی۔
ماہِ رمضان کی فضیلت سے متعلق سورہ بقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ،ماہ رمضان میں قرآن نازل کیا گیاجو بنی نوح انسان کے لیے ہدایت ہے یہ ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ ہدایت دکھانے والی اور حق و باطل میں فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا جو بھی ماہ ِ رمضان کواپنی زندگی میں پائے اُس پر لازم ہے کہ پورا مہینہ روزے رکھے ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اِس کی جزا دوں گا ۔جس کا وعدہ اللہ کرے اُس کے پورا ہونے پر تو شک بنتا ہی نہیں لہٰذا مومنو وقت ہے عبادت کا ریاضت کا اور اجرکمانے کا،دستیاب وقت سے فائدہ اُٹھا لیں اور اپنی زندگی کو اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے بتائے راستے کے مطابق کرلیں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی ہو۔
اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھنایہ ہے کہ کھانے پینے کی اشیا سے دور رہنے کے ساتھ کانوں کا بھی روزہ رکھاجائے جس کے لیے ضروری ہے کہ ایسے بُرے کلمات سُننے سے پرہیز کیاجائے جنھیں پیارے آقاﷺ نے ناپسند کیا ہو آنکھ کا روزہ یہ ہے کہ کوئی ایسے مناظر یا کوئی چیز دیکھنے سے گریز کیاجائے جسے دیکھنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں اسی طرح زبان کا روزہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ اللہ کا ذکر کرے اور پیارے آقاﷺ پر درود بھیجے ۔ غیبت ،بداخلاقی ،بدزبانی اور بُرے کلیمات کی ادائیگی سے مکمل اجتناب روزے کی قبولیت اور اجر بڑھانے میں مددگارہوتاہے مزید برآں یہ کہ جسم کے ہر اعضاکا روزہ یہ ہے کہ اُن کااللہ کی نافرمانی میں استعمال نہ ہواعمال ِ صالح روزے کی قبولیت واجر کے لیے نہایت ضروری ہیںجس طرح ماہِ رمضان میں عبادات کے اجرو ثواب میں اضافہ ہوجاتاہے اُسی طرح صدقہ وخیرات کا اجر و ثواب بھی کئی گُنا بڑھ جاتا ہے پیارے آقاﷺ کی زندگی ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہے حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ پیارے آقاﷺ ویسے توہمیشہ ہی بھلائی کے کاموں کو اولیت دیتے اور سخاوت فرماتے مگر رمضان میں بہت زیادہ سخاوت فرماتے ۔
ماہ رمضان کی بابرکت ساعتیں دستیاب ہیں تو آئیے مومنو اِس میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کریں اِس ماہ مقدس میں غربا و مساکین کو مت بھولیں اور اللہ کے دیئے گئے مال و دولت سے مناسب حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں یادرہے کہ بھوکے پیاسے ہمسائے سے بے خبری کے متعلق بھی قیامت کے روز پوچھ تاچھ ہوگی یہ مال و دولت،صحت اور مقام ومرتبہ جیسی نعمتیں سب عارضی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والے اعمال ِ صالح ہیں تو اِس مبارک ماہ عہد کرلیں کہ کسی کا دل نہیں دکھائیں گے کسی کا حق نہیں کھائیں اللہ کی دی نعمتوں کومخلوقِ خداکی خدمت کا وسیلہ بنائیں گے اور عبادت و ریاضت سے دنیا کے ساتھ آخرت سنواریں گے ۔اللہ نیتوں کے حال جانتا ہے وہ غفورورحیم ہے وہ ہماری لغزشیں، کوتاہیاں اور بھولیں معاف فرمائے گا ۔ان شااللہ۔