Wed, September 16, 2026

جیون کہانی

جیون کہانی

چوپال سجی ہوئی تھی ، چپ سائیں سمیت براجمان تھے۔ چپ سائیں ایک کتاب کا مطالعہ کررہے تھے۔ کسی کو اس کا نام نہیں پتہ تھا ۔ نتھو اور پھتوتواس کے ٹائٹل کو گھور رہے تھے۔ کتاب کے ٹائٹل پر ایک ادھیڑ عمرشخص کی تصویر تھی او ر کتاب پر”جیون کتھا“ لکھا تھا۔ نتھو نے پھتو سے کہاکہ بھائی آج تو سائیں جی کتاب کے مطالعے میں گم ہیں اور لگتا ہے کہ یہ خصوصی کتاب ہے، جس کوسائیں جی اتنا وقت دے رہے ہیں۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد چپ سائیں نے کتاب سائیڈ پر رکھ دی۔۔چہرے سے گمان ہوتا تھا کہ وہ کسی گہری سوچ میں مبتلا ہیں ۔ ۔ چوپال میں سکوت کا عالم تھا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ایک درمیانے قد اور پتلے ڈیل ڈول کا شخص چوپال میں ہاتھ لہرا تا ہوا آیا اور فوراکہا۔۔۔ہیلو بھائی لوگ۔۔ کیسے ہو!۔ اس نے سردی سے بچنے کے لیے ایک جیکٹ پہن رکھی تھی اور انتہائی رنگ برنگا سکارف پہنا ہوا تھا۔۔۔ اس کو دیکھتے ہی ۔۔ نتھو اور پھتو بھولے۔۔ ہائیں یہ کیا؟۔۔ یہ تو وہی شخص ہیں جن کی تصویر کتاب پر ہے۔۔۔ چپ سائیں مسکرائے۔۔ ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔ وہ شخص خاموشی سے بیٹھ گیا۔۔ چپ سائیں نے نتھو اور پھتو کو چائے پانی کا اشارہ کیا۔۔۔وہ شخص چسکیاں لے لے کر چائے پی رہا تھا۔۔ ابھی تک ان کا تعارف نہیں کرایاگیا تھا۔۔ خیر۔۔۔کچھ دیر کے بعد چپ سائیں بولے۔۔ بھائیو !۔۔ یہ ہمارے پرانے بلکہ بہت ہی پرانے دوست۔۔۔ طارق کامران ہیں۔۔۔ یہ ان کی زندگی کی کتاب ہے جو میں پڑھ رہا تھا اور محظوظ بھی ہورہاتھا۔۔ ان کی زندگی کاسفر میرے سامنے تھا۔۔ اسی وجہ سے سب کچھ پڑھ کر میں گہری سوچ میں ڈوب گیا۔۔
خیر۔۔ دوستو!۔۔۔ میں چوپال میں آج ان کی کتاب”جیون کہانی“ پر بات کروں گااور کچھ ایسے پہلوﺅں کا بھی تذکرہ کروں گا جو کتاب میں رہ گئے۔۔۔صاحبو!۔۔طارق کامران جن کو ادبی حلقے۔۔طارق کامران نور کے نام سے جانتے ہیں، جن کو مختصرا طارق نور کہاجاتا ہے۔۔۔یہ سن کر طارق کامران کھل کر مسکرائے۔۔۔ مسکراتے ہوئے ان کی بتیسی ازراہ تفنن جو شائد اکتیسی یا تیسی رہ گئی تھی وہ بھی نظر آرہی تھی۔۔۔ خیر ۔۔ وہ خود بہت دلچسپ شخصیت کے مالک ہیں۔۔۔ ہم قریبی دوست ان کو ادب کا ا لف سائیڈ پر کرکے” ایک اور دبی“ شخصیت کہہ کرپکارتے تھے۔۔۔۔ اس کتاب کو ان کے یار غار م سین بٹ نے سوالنامے کی صورت میں شائع کیا ہے۔۔تذکرہ ان کی جیون کہانی کاہورہا ہے۔۔ تودوستو!۔۔ ان کی زندگی کا ایک خفیہ پہلو جو راقم کی نظر میں سامنے آنا چاہئے تھاوہ یہ تھا کہ ۔۔ نام تو طارق کامران ۔ ۔ پر یہ طارق کامران نور۔۔کہاں سے آگیا؟۔۔۔راقم الحروف نے ”روزنامہ وقت“ میں ڈیوٹی سے کچھ فراغت کے لمحات میں ان سے پوچھ ہی لیا۔۔ بھائی یہ گتھی سلجھاﺅ۔۔۔ وہ پھر زیر لب مسکرائے۔۔۔ کہا ۔۔۔ اس پر استاد محترم کا دلچسپ واقعہ سناتا ہوں۔۔۔ انہوں نے استاد جی کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ۔۔ استاد محترم نے نام لیا طارق نور۔۔۔ کھاﺅ۔۔۔ خیر۔۔۔ کچھ باتیں اور گوشے ان کی اگلی کتاب کے لیے رہنے ہی دیں۔۔ بات ہورہی تھی۔۔ طارق نور صاحب کی ” جیون کہانی“ کی۔۔ تو دوستو پہلے تذکرہ کروں۔۔ کہ ادب اور ادیب کیا ہوتا ہے۔؟
ادیب عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی ''ادب سکھانے والا'' یا ''شائستہ'' کے ہیں، لیکن اصطلاحی معنوں میں ادیب وہ شخص ہے جو نثر یا نظم کے ذریعے اپنے خیالات کو اس طرح بیان کرے کہ اس میں فنکارانہ حسن اور تاثیر پیدا ہو جائے۔ایک عام لکھنے والے اور ایک ادیب میں بنیادی فرق جمالیاتی حس اور گہری نظر کا ہوتا ہے۔ ایک ادیب صرف واقعات کو بیان نہیں کرتا، بلکہ وہ ان کے پیچھے چھپے ہوئے انسانی رویوں، سماجی دکھوں اور نفسیاتی الجھنوں کو بھی محسوس کرتا ہے۔ایک کامیاب ادیب میں درج ذیل خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔ ادیب عام لوگوں کی نسبت زیادہ حساس ہوتا ہے۔طارق کامران نور میں یہ باتیں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ وہ انتہائی حساس بھی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جب غصے میں لال پیلے ہوتے ہیں تو ا سکے بعد ہف کر تھک جاتے ہیں اور پھرکسی کی نہیں سنتے۔۔ جیون کہانی میںاس کا تذکرہ شائد کہیں نہیں ہے لیکن چھوڑیں۔۔۔۔
خیر دوستو!اگر ہم سوانح عمری اور خاکے کے تناظر میں دیکھیں تو سوانح نگار ادیب ایک مورخ (Historian) کی طرح کام کرتا ہے جو سچائی کو تلاش کرتا ہے۔خاکہ نگار ادیب ایک مصور کی طرح کام کرتا ہے جو لفظوں سے تصویر بناتا ہے۔ ادیب وہ فنکار ہے جو بے جان لفظوں میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے۔ چاہے وہ کسی کی زندگی کی تفصیل (سوانح) لکھے یا کسی کی شخصیت کا نقشہ (خاکہ) کھینچے، اس کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ قاری کو اپنے ساتھ اس سفر میں شامل کر لے۔
صاحبو! بات ہورہی ہے۔طارق نور صاحب کی کتاب۔۔۔ جیون کہانی۔۔۔ کی۔۔۔اس میں انہوں نے اپنے آبائی شہر سے لاہور تک کے سفر کے بارے میں سب کچھ لکھا ہے ۔ اس میں صحافتی سفر بھی ہے اور زندگی کا عروج وزوال بھی ہے لیکن۔۔۔ ان کے زندگی کا آخری اخبار ۔۔۔ روزنامہ وقت۔۔۔ سے جدائی۔۔ شائد سب سے درد ناک ہے۔۔صاحبو! ۔۔۔یار من نے راقم الحروف کاتذکرہ بھی کیا ہے۔۔ اس سے قبل یہ بتادوں کہ ان کے ایک اور قریبی دوست۔۔۔ زاہد رفیق صاحب ۔۔ جن سے ان کی ایک اخبار کی ہی یاد اللہ ہے لیکن وہ تعلق اس قدر گہرا ہے کہ طارق نور صاحب نے زاہد رفیق صاحب کے ایکسیڈنٹ کا بھی مختصر تذکرہ کیا ہے۔۔۔خیر وہ وقت بھی گزر گیا اور یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔ ایک فون کال جو راقم نے ان کو روزنامہ وقت میں کی۔۔ وہ شائد آخری ناقابل فراموش کال تھی۔۔ اس کا تذکرہ کتاب میں باقاعدہ ملتا ہے۔۔ اگر میں ان کے یار غار نفیس احمد قادری کا تذکرہ نہ کروں تو جیون کہانی ادھوری رہے گی۔۔۔ اگرچہ نفیس قادری کا نام تو ہے لیکن تفصیلی کردارسازی پھر سہی۔۔۔مجموعی طورپر”بابائے مانیٹرنگ“ یعنی طارق کامران صاحب کی دس گیارہ برس کی رفاقت کی کئی پرتیں۔۔۔ آنکھوں کے سامنے آگئیں۔ازراہ تفنن دوستو!۔ بسکٹ، بوتل ، دودھ جلیبی،جوتا چھپائی کا تذکرہ اگر چہ کتاب میں نہیں لیکن انہوں نے دوسری جلد میں اس کے تذکرہ کا کہا ہے۔۔ تب تک ہم بھی چپ رہیں گے اور لب سی لیں گے۔۔۔ لیکن۔۔۔مجموعی طور پر ایسی سوالاجوابا سوانح عمری کم ہی ہوتی ہے۔۔صاحبو! ہم نے بھی سوانحی عمری کا سوچا اورتذکرہ طارق نور صاحب سے کیا۔۔مسکرائے اور کہا۔۔۔بیٹا۔۔۔ابھی مشق سخن جاری رکھو۔۔رہے نام اللہ کا!۔

ٹیگز: