Wed, September 16, 2026

مودی کی میڈیا پالیسی آزاد صحافت پر کاری ضرب 

مودی کی میڈیا پالیسی آزاد صحافت پر کاری ضرب 

مودی کی میڈیا پالیسی آزاد صحافت پر کاری ضرب بن گئی، بی جے پی کے اقدامات پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔ مودی کے نام نہاد جمہوری اقتدار نے بھارتی میڈیا سے حکومت سے سوال کرنے کا حق چھین لیا، سوشل میڈیا پروپیگنڈا میں مصروف مودی کی توجہ عوامی فلاح کے بجائے ذاتی مفادات کے تحفظ پر مرکوز ہے۔مودی حکومت میں بھارت میں سینسرشپ نے انتہائی سنگین صورت اختیار کرلی ہے۔بھارتی شہریوں سے خوفزدہ مودی حکومت نے سیکشن 69 اے کے تحت اختلافی آوازوں کو دبانے کے باقاعدہ اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ مودی حکومت کے خود ساختہ اختیارات بھارتی آئین میں دی گئی آزادی اظہار اور آزاد صحافت پر کھلا وار ہیں۔
 بھارت میں خبروں پر اعتماد صرف 39 فیصد رہ گیا جبکہ 52 فیصد لوگ خبروں سے گریز کرتے ہیں۔مودی حکومت کی پالیسیوں سے بھارت میں آزادی صحافت ہر سطح پر مسلسل متاثر ہورہی ہے۔ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں میڈیا کی آزادی محدود ہوکر زوال کا شکار ہوتی جارہی ہے۔"گودی میڈیا" بھارت کے ان مرکزی ٹی وی چینلز اور اخبارات کے لیے استعمال ہونے والی ایک طنزیہ اصطلاح ہے جو بھارتی حکومت اور حکمران جماعت کی کھلی حمایت، طرفداری اور پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ یہ لفظ سب سے پہلے سینئر صحافی رویش کمار نے استعمال کیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ یہ میڈیا اداروں کی گود میں بیٹھا ہے۔ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے بجائے اندھا دھند تعریف کرنا۔پاکستان مخالف پروپیگنڈا، عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اکثر پاکستان کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت کہانیاں چلانا۔ ملک کے اندر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف فضا گرمانا اور دبائو بڑھانا۔ اہم اور بنیادی سوالات پوچھنے کے بجائے حکومتی بیانیے کو سچ کے طور پر پیش کرنا۔
بھارتی گودی میڈیا نے ایک بار پھر پاکستان کو متنازع بیانیے سے جوڑنے کی ناکام کوشش شروع کر دی۔بھارتی میڈیا نام نہاد کالعدم تنظیموں کا نام لے کر پاکستانی سفارتی و دفاعی معاہدوں کو اسرائیل سے جوڑنے کا من گھڑت پروپیگنڈا کر رہا ہے۔اس سے قبل بھی مودی نواز میڈیا مسلسل بے بنیاد اور سنسنی خیز بیانیے کے ذریعے خطے میں اشتعال انگیزی کو ہوا دیتا رہا ہے۔بھارتی سوشل میڈیا اکاو¿نٹس کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے علاقہ راجوری میں بھارتی فوجی جوانوں کی موت سے متعلق ایک اور من گھڑت پروپیگنڈا کیا گیا۔بھارتی صحافیوں نے بغیر ثبوت کے راجوری واقعہ کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی۔گودی میڈیا نے جالندھر میں ملٹری کیمپ کے باہر دھماکے کا الزام بھی بغیر تحقیقات اور شواہد کے پاکستان پر دھر دیا تھا۔
 مودی حکومت کے زیر اثر بھارتی میڈیا مسلسل بے بنیاد الزامات کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں مصروف ہے۔ بھارتی میڈیا ابراہام معاہدے سے متعلق بے بنیاد بیانیہ گھڑ کر پاکستان پر دباو¿ ڈالنے اور عالمی ساکھ متاثر کرنے کی مذموم سازش کر رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کا انتہا پسندانہ طرزِ رپورٹنگ صحافتی اصولوں کے بجائے سیاسی پروپیگنڈے کی عکاسی کرتا ہے۔ بھارت کے متعدد نامور ٹی وی چینلز جنہیں گودی میڈیا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے رپورٹرز کو کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔گودی میڈیا ہائے ہائے، گودی میڈیا مردہ باد، یہ وہ نعرے ہیں جو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ نے اس وقت لگائے جب حکمران جماعت کے حامی نیوز چینلز کے نمائندے وہاں رپورٹنگ کرنے پہنچے۔
مظاہرین نے متعدد مرکزی اور نامور ٹی وی چینلز پر حکومت نواز رپورٹنگ کا الزام عائد کیا، مظاہرے میں گودی میڈیا کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے گئے اور ان کے نمائندوں سے بات کرنے میں بھی عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا۔ٹائمز ناو¿ کے رپورٹر دیو کوٹک جب نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کی کوریج کے لیے پہنچے تو ان کا منصوبہ صرف لائیو رپورٹنگ کرکے واپس جانے کا تھا، لیکن احتجاج کے دوران مشتعل افراد نے انہیں گھیر لیا۔ انہیں تھپڑ، گھونسے اور لاتیں ماری گئیں جبکہ ان پر پانی کی بوتلیں بھی پھینکی گئیں، ان کے بقول انہیں اپنی جان کا خوف تک محسوس ہونے لگا تھا۔ مظاہرین مسلسل یہ الزام عائد کر رہے تھے کہ قومی ٹی وی چینلز ان کے مو¿قف کو نشر نہیں کرتے، حالانکہ ان کے مطابق انہوں نے پولیس اور مظاہرین دونوں کے زخمی ہونے کی خبریں نشر کی تھیں۔اس احتجاج کے دوران صرف ایک چینل ہی نہیں بلکہ بھارت کے تقریباً تمام بڑے ٹی وی نیوز چینلز کے رپورٹرز کو شدید عوامی مخالفت، نعرے بازی اور بدزبانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ مرکزی دھارے کا میڈیا حکومت کے مو¿قف کو زیادہ اہمیت دیتا ہے جبکہ عوامی مسائل اور حکومت پر تنقید کو مناسب جگہ نہیں ملتی۔
رپورٹرز ودآو¿ٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کی عالمی پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں بھارت کی درجہ بندی نمایاں طور پر نیچے آئی ہے۔ 2010 میں بھارت 122 ویں نمبر پر تھا، جبکہ 2026میں اس کی پوزیشن 180 ممالک میں 157 ویں نمبر پر پہنچ گئی۔

ٹیگز: