اسرائیل امریکہ کی طرف سے ایران پر بلاجواز تھوپی گئی جنگ بند کرنے کے درجن بھر موقعے آئے لیکن ان پر دھیان دینے، عمل کرنے کی بجائے زبانی جمع خرچ کرنے کو ترجیح دی گئی۔ امریکی صدر کو احساس دلایا گیا ہے کہ اس جنگ میں امریکہ کو دو ارب روزانہ کے حساب سے آج تک ایک سو ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود وہ جنگ بندی کے لئے سنجیدہ نظر نہیں آتے، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں اگر جنگ میں کئی ہزار ارب ڈالر کا نقصان بھی ہو جائے تو وہ عرب خلیج اور یورپی ممالک کی کسی نہ کسی بہانے جیب کاٹ کر یہ نقصان دیکھتے ہی دیکھتے پورا کر لیں گے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے تباہ ہونے والے فوجی اڈوں کا نقصان بھی انہی ممالک سے وصول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں یہ اڈے تباہ ہوئے۔ سوئم اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کی کسی ریاست میں اس جنگ سے براہ راست تباہی نہیں آئی۔ اگر امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سے صرف پانچ پر ایک ایک بیلاسٹک میزائل گرتا اور صرف ایک ایک سو افراد جاں بحق ہوتے تو امریکہ میں قیامت برپا ہو جاتی اور پانچویں دن یہ جنگ بند ہو جاتی۔ جنگ بند نہ ہونے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اقتدار میں موجود امریکی صدر ان کے قریبی رشتہ دار اور دوست حضرات کا تعلق کاروباری دنیا سے ہے بعض تجزیوں کے مطابق وہ اس جنگ میں ہفتے میں دو مرتبہ بدلتی صورتحال سے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ یہ کمائی ان بیانات کی مرہون منت ہے جو امریکی صدر کی طرف سے دیئے جاتے اور سٹاک مارکیٹ کو تہہ و بالا کر دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے جاری ہے۔ جمعرات بتاریخ 17 فروری ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر دھواں دھار بیان جاری کیا۔ انہوں نے دھمکانے کے انداز میں اسرائیل سے کہا کہ لبنان پر بمباری فوراً بند کی جائے اور جنگ روکی جائے، جنگ رک گئی۔ انہوں نے کہا آبنائے ہرمز ہمیشہ کے لئے کھول دی گئی ہے اور دوبارہ بند نہیں ہو گی۔ انہوں نے خوشخبری سنائی کہ جنگ بندی کے لئے دوسرا دور دو روز میں شروع ہو سکتا ہے۔ وہ خود اس میں شریک ہونے کے لئے پاکستان جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک گھنٹے میں سات جھوٹ بولے اور ٹروتھ سوشل پر ڈال دیئے۔
دنیا نے دروغ گو صدر کی بات پر اعتبار کیا اور ایک مرتبہ پھر دھوکا کھایا۔ سٹاک مارکیٹ نے اس دروغ گوئی کا اثر قبول کیا۔ سٹاک مارکیٹ آسمان سے باتیں کرنے لگی۔ تیل قیمت ایک سو بیس ڈالر سے گر کر تراسی ڈالر تک آگئی اور خیال ظاہر کیا جانے لگا کہ یہ قیمت شاید آئندہ دو تین روز میں ساٹھ ڈالر فی بیرل تک آجائے۔ اندر کی کہانی یہ نکلی کہ وہ تمام سودا جو سستے داموں خریدا گیا تھا وہ تمام بک گیا تو اسرائیل کو اشارہ کر دیا گیا۔ اس نے جنگ پھر شروع کر دی اور لبنان پر بمباری شروع ہو گئی جبکہ بحر ہرمز کی امریکی بلاکیڈ جاری ہے۔ اسرائیل کو دو روز قبل جنگ بند کرنے کا اس کی فرمائش پر کیا گیا تھا کیونکہ جنوبی لبنان میں اسرائیل کا 89 ائیربورن ڈویژن اور اس کے چھاتہ بردار جب یہاں اترے تو حزب اللہ مجاہدین نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا یوں گلی کوچوں میں مورچہ زن حماس نے ان کی تکہ بوٹی کر دی۔ اترنے والے چھاتہ بردار کمانڈرز کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ ایک تہائی نفری پہلے ہی روز ماری گئی جبکہ باقی افراد بری طرح پھنس گئے۔ حزب اللہ نے ان کے نکلنے کے تمام راستے بند کر دیئے۔ ان کی جانیں بچانے کیلئے جنگ بندی کا ڈرامہ رچایا گیا جو چوبیس گھنٹے ہی چل سکا۔ جنگ بند ہونے کے بعد حزب اللہ نے ایک بڑی تعداد میں اسرائیل فوجیوں کو قیدی بنا کر انہیں کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے جس پر امریکی اور اسرائیلی قیادت سر پکڑے بیٹھی ہے۔ امریکی صدر کی طرف سے سات جھوٹ پھیلانے کے بعد ایران نے ان کی قلعی کھول دی اور واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا امریکی بیان آدھی کہانی ہے۔ یہ امریکہ اسرائیل اور اس کے دوستوں کے لئے بند ہے، ان کے علاوہ جو تجارتی جہاز یہاں سے گزریں گے وہ محصول دے کر گزریں گے اور ایران سپاہ کے قانون اور مخصوص کردہ بحری راستے سے گزریں گے۔
امریکی صدر کے جس بیان نے تہلکہ مچا دیا، وہ افزدوہ ایرانی یورینیم کے حوالے سے تھا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ ایران وہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کے لئے تیار ہو گیا ہے۔ درحقیقت ایسی کسی بات کا وجود ہی نہ تھا۔ ایران نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ اس کا یورینیم اس کی سرزمین کی طرح مقدس ہے۔ یہ کسی صورت بھی کسی کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ ایک موقعہ پر محب وطن پاکستانی عناصر نے شوشہ چھوڑا کہ ایران اپنا یورینیم پاکستان کے حوالے کر سکتا ہے تو اس افلاطون کی تلاش شروع ہو گئی جس نے یہ خیال پیش کیا۔ یہ خیال ایک اعتبار سے نہایت خطرناک تھا۔ اگر ایران ہماری محبت میں ہم پر اعتبار کرتے ہوئے اسے پاکستان کے حوالے کر دیتا تو ہم اسے کہاں سنبھالتے ہمارے پاس تو کوئی زیر زمین تجوری موجود ہی نہیں پھر اگر ہوتی بھی تو یہ تجوری بنانے والا با آسانی امریکہ کا مخبر بن سکتا تھا۔ آج کل امریکہ کے لئے مخبری کی قیمت خاندان بھر کے لئے امریکی نیشنلٹی اور پانچ دس ملین ڈالر ہے۔ اگر ایران اپنا یورینیم ہمارے پاس رکھوا دے تو خطرہ ہے۔ ”بہو کے زیور کے علاوہ بیٹی کا زیور“بھی چوری ہو جائے۔ اگر کسی کو اس بات پر یقین نہ آئے تو جناب آصف زرداری جنرل کیانی اور ایبٹ آباد سے پوچھ لیں۔ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کو ”فری فار آل“ کا جھانسہ دیا تو بھارت نے سب سے پہلے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور اپنا جہاز سمندر میں ڈال دیا۔ بھارت نے چند روز قبل یو آن میں ادائیگی کرنے کے بعد اسی راستے سے اپنا جہاز پار کرایا تھا، اس کا خیال تھا کہ بھارت ایرانی تیل کا پرانا اور مستقل گاہک ہے لہٰذا اسے باجے گاجے سے خوش آمدید کہا جائے گا اور اسی انداز میں رخصت کیا جائے گا لیکن ایران نے واضح کیا ”بزنس از بزنس“ ایران کو وہ دن بھی یاد تھا جب بھارت نے بحری مشقوں کے بعد واپس آنے والے ایرانی بحری جہاز کو امریکہ کی فرمائش پر ڈبونے میں کردار ادا کیا جبکہ قریب ہی موجود ایک سری لنکن جہاز نے ایرانی سپاہ کی جانیں بچائیں۔
بھارتی تیل بردار جہاز نے ایرانی سپاہ کو جُل دے کر گزرنے کی کوشش کی تو اسے وارننگ دی گئی۔ وہ نہ مانا تو اس پر فائرنگ ہوئی جس کے بعد اسے گولیوں کی زبان سمجھ آگئی اور اس نے واپسی کا سفر اختیار کیا۔ دنیا پھر سر پکڑے بیٹھی ہے۔