اس ہفتے ذہن میں بیک وقت کئی موضوعات چل رہے تھے جو سب کے سب کسی نہ کسی حوالے سے معرکہ حق سے جڑے تھے۔ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کسے چھوڑا جائے اور کس پر لکھا جائے۔ اسی ادھیڑ بن میں ایک ایسی بڑی پیشرفت ہوئی کہ فیصلہ کرنا آسان ہو گیا۔ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی اہم معاہدہ طے پا گیا۔ ایک ایسا معاہدہ جس کے آنے والے دنوں میں بہت دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
گزشتہ ہفتے کا اختتام ہو رہا تھا جب پاک فوج کے جری جانباز میجر عدنان کی بے مثال قربانی کے مناظر نے اپنے حصار میں لے لیا۔ جی چاہ رہا تھا اس شیر دل شہید پر کچھ لکھا جائے۔ اس کی قربانی کے شایاں خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ پاک فوج کے سپیشل سروس گروپ سے تعلق رکھنے والا کمانڈو میجر عدنان اسلم ایسا شاندار جوان رعنا تھا کہ جس کے کردار کا احاطہ کرنے کے لیے الفاظ ناکافی ہیں۔ اس نے فرض کی راہ پر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ اس پر ایک کالم تو کیا ایک کتاب بھی لکھی جائے تو حق ادا نہ ہو گا۔ جس اعلیٰ و ارفع جذبے کے زیر اثر میجر عدنان نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، وہی جذبہ ہماری افواج کے ہر افسر اور جوان کا طرہ امتیاز اور معرکہ حق میں پاکستان کی فتح مبین کی بنیاد ہے۔
میجر عدنان پر کچھ لکھنے کے لیے قلم پر تول ہی رہا تھا کہ کھیل کے میدان سے بھارت کی روایتی پستی کی ایک خبر سامنے آ گئی۔ بھارتی حکومت کی جانب سے ایشیا کپ کے میچ میں اپنی ٹیم کو پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملانے کی ہدایت کی گئی اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ ہدایت کرکٹ کی بین الاقوامی تنظیم کی مدد سے میچ ریفری کے ذریعے کی گئی۔ پاکستان نے اس پر نہایت باوقار انداز میں احتجاج کیا جس کے نتیجے میں میچ ریفری بھی معافی مانگنے پر مجبور ہوا اور دنیا کے سامنے بھارت کا گھٹیا پن مزید آشکار ہوا۔ بھارت نے یہ روایتی کمینہ پن آپریشن سندور میں شکست کا انتقام لینے کے لیے دکھایا تھا۔
بھارت کے گھٹیا پن کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرنے پر بھی غور و خوض جاری تھا کہ اسی دوران قطر پر اسرائیل کے حملے کے تناظر میں دوحہ میں اسلامی ممالک کی ایک ہنگامی کانفرنس ہوئی جس میں وزیراعظم پاکستان نے بھی شرکت کی اور قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ موضوع بھی دیگر کئی موضوعات کے ساتھ ذہن میں کلبلا رہا تھا کہ اسی دوران میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اپنے وفد کے ہمراہ سعودی عرب، برطانیہ اور امریکہ کے دورے پر چلے گئے۔
بظاہر تو ایسا لگ رہا تھا کہ وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب ایک معمول کا سفر ہے لیکن ذہن یہ بھول گیا کہ معرکہ حق کی فتح کے بعد ہمارے لیے اب کچھ بھی معمول نہیں رہا۔ قوموں کی برادری میں ہم اب ایک بے وقعت سا ملک نہیں رہے بلکہ دنیا کے سوچنے کا انداز تبدیل کرنے والے ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ اس عدیم النظیر فتح کے بعد ہم عالم اسلام اور اپنے دوست ممالک کے لیے امید اور روشنی کی کرن کا روپ دھار چکے ہیں جبکہ دشمنوں اور حاسدوں کے لیے پیغامِ اجل میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ہم نے تین جدید ترین رافیل طیاروں سمیت بھارت کے چھے جنگی جہاز گرا کر اقوام عالم کو بتا دیا ہے کہ ہم وہ نہیں ہیں جو تم ہمیں سمجھتے رہے ہو۔
معرکہ حق کے بعد پاکستانی قیادت جہاں جہاں بھی جا رہی ہے میزبان ممالک اس کے آگے دیدہ و دل فرش راہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اسی کا ایک مظاہرہ ہم نے سعودی عرب کی فضاں میں اس وقت دیکھا جب وزیراعظم شہباز شریف کا طیارہ سعودی حدود میں داخل ہوا۔ سعودی جنگی جہازوں نے وزیر اعظم پاکستان کے طیارے کو اپنی حفاظت میں لے لیا۔ اس سے پہلے بھی ہمارے وزرائے اعظم سعودی عرب جاتے رہے ہیں، لیکن ایسا منظر پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ وزیراعظم کے استقبال کے لیے ارغوانی رنگ کا قالین بچھایا گیا جو عرب روایات کے مطابق مہمان کی عزت و تکریم کی علامت ہے۔ یاد رہے کہ چند ماہ قبل امریکی صدر کے استقبال کے لیے بھی یہی قالین بچھایا گیا تھا۔ وفود کے تعارف کے مرحلے میں جب افواج پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم سے متعارف کرایا جا رہا تھا تو اس وقت بھی آنکھ نے وہ منظر دیکھا جو اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا نہ سنا۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے پاک افواج کے سپہ سالار کو اسی انداز میں سلوٹ کیا جیسے فوجی کرتے ہیں اور پھر بہت گرم جوشی سے مصافحہ کیا۔
پاکستانی وفد کی عزت و تکریم کا نقطہ عروج وہ تھا جب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک ایسا تاریخی معاہدہ طے پایا جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ پاکستان اور سعودیہ کے درمیان دفاعی تعاون کی اگرچہ ایک طویل تاریخ ہے تاہم موجودہ معاہدہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور ہو گی اور دونوں مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ملکوں کی گہری دوستی کی دلیل ہے بلکہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں ایک غیرمعمولی پیش رفت بھی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت کئی دوسرے ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ گویا مسلم دنیا مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے یک آواز ہو رہی ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے بعد اسرائیل اور بھارت سمیت بڑے بڑے عالمی بدمعاشوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں کیونکہ یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کے توسیع پسندانہ شیطانی عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ وہ غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان، شام، یمن، ایران اور قطر سمیت مشرق وسطی کے بیشتر ملکوں کے خلاف کھلی جارحیت کا ارتکاب کر چکا ہے اور حجاز کی مقدس سرزمین کی طرف بھی میلی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے سے عالمی برادری کو واشگاف لفظوں میں یہ پیغام پہنچ گیا ہے کہ دونوں ملک نہ صرف اپنی داخلی سلامتی اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پُرعزم ہیں بلکہ حرمین شریفین کی حفاظت اور دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ اس معاہدے پر پاکستان میں جمعة المبارک کے روز یوم تشکر بھی منایا گیا۔ سعودی عرب کا اپنی اور حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری میں پاکستان کو شریک کرنا اور عالم اسلام سمیت دوست ملکوں کا پاکستان کی طرف امید کی نگاہ سے دیکھنا معرکہ حق کا معجزہ ہی تو ہے۔