Wed, September 16, 2026

داستان سرائے اور NAHE

داستان سرائے اور NAHE

خاکسار نے گزشتہ برس ایک تحریر میں ذکر کیا تھا کہ ہماری جدید ٹریننگز نئی نسل کو کتاب بینی کی طرف راغب نہیں کر پا رہیں۔ نیا مواصلاتی نظام، جدید آلات اور ٹیکنالوجی کے وسائل نے بھی کتاب بینی کے عمل کو بہتر نہیں کیا۔آپ ترو تازہ پڑھے لکھے نوجوانوں سے بات کیجیے اور ان کا برتاؤ دیکھئے، ان کی نجی محافل میں گفتگو ، بحث مباحثہ، موضوعات اور ان کی دلچسپی کے امور دیکھ کر یقینا تعلیم کے بنیادی تصور پر کئی سوالات پیدا ہوں گے۔انتظار حسین نے ایک جگہ وائٹ ہیڈ کی بات کے حوالے سے سوال اٹھایا ہے کہ ہمارے نزدیک تعلیم یافتہ وہ نو جوان ہے جو کوکا کولا کا اشتہار انگریزی میں پڑھ سکتا ہے یا وہ دہقان زادہ جو بھینس کی پیٹھ پر بیٹھ کر اسے چراتا بھی ہے اور بانسری بھی بجاتا ہے۔ پھر وہ سوال کو ایک اور رخ دیتے ہیں۔ چلیے بتائیے کہ تعلیم یافتہ وہ نوجوان ہے جس نے جیمز جینز کی جملہ تصانیف پڑھ رکھی ہیں لیکن آسمان پر کھلے ہوئے تاروں کو دیکھ کر یہ نہیں بتا سکتا کہ مشتری کون سا ستارہ ہے یا تعلیم یافتہ وہ دہقان ہے جو تاروں کو دیکھ کر یہ بتا سکتا ہے کہ کتنی رات بیت گئی ہے۔
ہمارے پالیسی سازوں اور نصاب تشکیل دینے والے افراد کو علم کے بنیادی مباحث کو ضرور سامنے رکھنا ہو گا۔ کچھ دن قبل NAHE کے ڈائریکٹر سلیمان احمد صاحب نے بتایا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے فیکلٹی کی ٹریننگز کے نئے اور دلچسپ سلسلے کا آغاز کیا ہے۔ ہمارے مسائل کیا ہیں، ان کا حل کیسے تلاش کیا جا سکتا ہے اور تعلیم، تحقیق اور ایجاد کی دنیا میں کیسے آگے بڑھا جا سکتا ہے، یہ اہم سوالات بھی ہمارے پالیسی سازوں کو ہمیشہ مد نظر رکھنے چاہئیں۔ حیف ہے کہ ہمارے آج کے پڑھے لکھے نوجوان پچھلے زمانے کے کم پڑھے لکھے لوگوں سے زیادہ حکمت اور بصیرت نہیں رکھتے۔ ہم جدت کی طرف بڑھتے ہیں تو تہذیب کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ روایات کے احیا کی طرف چل نکلیں تو قدامت اور رجعت کی زنجیر پاؤں جکڑ لیتی ہے۔ ہم نے اپنی تہذیب اور زبان کو تو شاید مردہ تسلیم کر لیا ہی لیا ہے۔ اب انھیں سنبھال کر رکھنے والوں کی حیثیت معاشرے میں انٹیک پیس جیسی ہو گئی ہے۔ میں ذکر کر رہا تھا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (NAHE) کے ذریعے تربیت کے روایتی ڈھانچوں کو توڑتے ہوئے ایک جدید تعلیمی اقدامات کا سلسلہ متعارف کرایا ہے جس کا مقصد نہ صرف علمی ترقی بلکہ شرکاء کی ہمہ جہت شخصیت سازی بھی ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ پاکستان کی اعلیٰ تعلیم میں تجرباتی بنیادوں پر سیکھنے (Experiential Learning) کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ان اقدامات میں ’ریڈ اینڈ ریفلیکٹ‘ کے ذریعے شرکا کو ایک کتاب پڑھ کر اس پر غور و فکر کرنے اور اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا گیا ہے۔ یہ عمل محض مطالعہ کرنے کا ہی نہیں بلکہ تنقیدی سوچ اور ذاتی ربط پیدا کرنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ کچھ دلچسپ سرگرمیاں جیسے Plant a Promise کے تحت شرکاء ایک پودا لگا کر پائیدار ترقی اور ذمے داری کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ محض ایک علامتی سرگرمی نہیں بلکہ اس شعور کی یاد دہانی ہے کہ تعلیم اور ماحول ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اسی طرح داستان سرائے کے ذریعے کہانی سنانے کو تدریس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ایک ذاتی یا معنی خیز کہانی سنانا نہ صرف بیانیہ مہارت کو نکھارتا ہے بلکہ جذباتی تعلق اور ثقافتی اظہار کو بھی فروغ دیتا ہے۔ کمیونٹی اکٹھ کے تحت دو سے تین گھنٹے کی سماجی خدمت شرکا کو شہری ذمہ داری اور معاشرتی شعور سے روشناس کراتی ہے۔ جبکہ ساتھ سیکھنے یا ساتھ پڑھنے سے باہمی تعاون، ہم آہنگی اور مشترکہ سیکھنے کے کلچر کو فروغ ملتا ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جو اکثر اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں نظر انداز ہو جاتا ہے۔
ویسے بھی کہانی کا انسانی نفسیات سے گہرا تعلق ہے۔کہانی کا ذکر کرتے ہوئے انتظار صاحب لکھتے ہیں، جب مزدوری آرٹ تھی اور کلام ادب تھا۔ ان دنوں بوڑھی نانیاں دادیاں راتوں کو لمبی کہانیاں سناتی تھیں اور کہانی سننے والے اس تجربے سے گزرتے تھے جس سے آج ہم الیڈ اور اوڈیسی کو پڑھ لینے کے باوجود محروم رہتے ہیں۔ در اصل کہانی گرمی ِ آواز کے ساتھ سننے والے تک منتقل ہوتی تھی۔ کہانی کا واقعاتی تسلسل زندگی کا نظام سمجھاتا ہے اور اس کی سبق آموزی حکمت عطا کرتی ہے۔ 
یہ تمام اقدامات عالمی تعلیمی رجحانات جیسے ریفلیکٹنگ اور کولیبوریٹو لرننگ کے عین مطابق ہیں۔ تاہم، اس سلسلے کی کامیابی کے لیے منظم منصوبہ بندی، مؤثر نگرانی، اور تربیت دینے والوں کی مکمل آگاہی ضروری ہے۔ بصورت دیگر یہ سرگرمیاں رسمی کارروائی تک محدود رہنے کا خطرہ رکھتی ہیں۔
سلیمان احمد صاحب اور ان ٹیم کی یہ کاوش اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری ہائر ایجوکیشن کمیشن تدریس کو محض کتابی علم تک محدود رکھنے کی بجائے طلبہ اور اساتذہ کو معاشرتی اور اخلاقی اقدار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اگر ان اقدامات کو سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ ممکن بنایا جاتا رہے تو یہ پاکستان کے تعلیمی منظرنامے میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسی تبدیلی جو کلاس روم کو زیادہ بامعنی، زندگی سے جڑا ہوا، اور معاشرتی خدمت کے جذبے سے سرشار بنا دے۔

ٹیگز: