Wed, September 16, 2026

اسرائیلی جارحانہ عزائم اور مسلم امہ کا کردار

اسرائیلی جارحانہ عزائم اور مسلم امہ کا کردار

قطر کی فضائی حدود میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی فوجی کارروائی غیر معمولی اور تشویشناک ہے۔ یہ حملہ دوحہ میں موجود حماس کے وفد کو ختم کرنے کی ناکام کوشش تھی تاہم اب اس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں ایسے مزید واقعات پیش آ سکتے ہیں۔ وہ ممالک جو اب بھی امریکہ پر بھروسہ کر رہے ہیں، انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ وہ امریکی مفادات کے مطابق استعمال ہوتے رہیں گے اور جب امریکی مفادات کو خطرہ لاحق ہو گا تو وہ قربانی کا بکرا بن سکتا ہے۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ ظالم اور غیر منصفانہ عالمی نظام میں کوئی ملک محفوظ نہیں ہے۔ 
دنیا کا شائد ہی کوئی ایسا مسلمان ملک ہو جو اسرائیلی زبردستی، امریکی بے حسی اور اپنی بے بسی پر رویا نہ ہو۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم آج ایک کھلے دشمن کو جواب تو کیا محض للکارنے کی سکت سے بھی جا گزرے ہیں۔ مومن کی سرشت میںبزدلی ہے نہ خمیر حمیت سے خالی اور نہ ہی شکست و ریخت اس کا مقدر ہے۔ اسرائیل ایک ایسا دشمن ہے جس کا وجود ہی باطل و ناجائز ہو، اس سے کسی اصول، قاعدے اور اخلاق کی توقع رکھنا کوئی دانشمندی نہیں۔جو ملک اقوامِ متحدہ کی درجنوں قرار دادوں کو نظر انداز کر چکا ہو اور جس کی بربریت کو اس کے سرپرست سامانِ تفریح سمجھتے ہوں اسے سبق سکھائے بغیر تہذیب یا کسی اور طریقے سے راہِ راست پر لانا وقت کا ضیاع ، خود فریبی اور مظلوم و محصور فلسطینی عوام کے ساتھ سنگین مذاق کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔ اگر آج ایک چوتھائی مسلم ممالک بھی یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ ایک بلاک بنا کر جہاں جہاں مسلمان تہہ و تیغ ہیں ان کا پرسانِ حال بنیں گے تو دنیا یہ منظر یقینا دیکھنے پر مجبور ہو جائے گی کہ بڑے بڑے لات، منات مسلمانوں کی ٹھوکر پر ہوں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے خلاف مسلم ممالک اور عرب دنیا کے مابین تعلقاتِ کار اور یکجہتی کو مہمیز کئے بغیر کوئی آواز عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ نہیں سکے گی کیونکہ سامراجی ممالک اور مغرب کی پشت پناہی سے ہی اسرائیل فلسطینیوں کے گھر بار اجاڑ رہا ہے اور اس کی وحشیانہ جارحیت اور بربریت کو روکنے کے لئے عالم اسلام بے بسی اور بے عملی کی تصویر بنا ہوا ہے۔اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ کیا عالم اسلام کے پاس اسرائیل کے ظالمانہ اور غیر انسانی جارحیت و دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے وسائل اور عزم کی کمی ہے۔ 
اسرائیل کے خلاف ابتدا میں جو جنگیں لڑی گئیں ان میں اسلام سے کہیں زیادہ عرب نیشنلزم کار فرما تھا لہٰذا ایسے ممالک نے پے در پے شکستوں کے بعد مجرمانہ خاموشی بھی اسلام سے کہیں زیادہ اپنے رہے سہے وجود کے عوض اختیار کی۔پی ایل او کی جد و جہد کی بنیاد بھی نیشنلزم پر تھی اس تحریک میں عرب مسیحوں کا کردار اس کا بین ثبوت ہے، حماس اور حزب اللہ کو اس خطے میں پذیرائی ملی، حماس کا معاملہ اگر چہ ذرا مختلف ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ اسلامی تحریک حزب اللہ کو کتنے اسلامی ممالک کی مدد حاصل ہے؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملوکیت کی حامل سلطنتیں نہیں چاہتی ہیں کہ فلسطین کے حوالے سے اسلام یا نیشنلزم کی بنیاد پر کوئی ایسی تحریک کامیاب ہو جو بعد ازاں ان کے لئے بھی مسائل کا باعث بنے۔ ایسی مملکتوں کا مہار امریکہ کے ہاتھ میں ہے اور امریکہ چونکہ معاملات استوار رکھے جانے کے حوالے سے جمہوریت کے مقابلے میں بادشاہت یا آمریت میں زیادہ آسانی دیکھتا ہے لہٰذا وہ جمہوریت کا وہ راگ جو دیگر ممالک کے لئے لازمی سمجھتا ہے وہ خلیج اور اسرائیل پر اثر انداز ہو سکنے والے ممالک کے ہاں جائز نہیں گردانتا، ان مخصوص ممالک کا بھی چونکہ مفاد اسی نظریہ میں مضمر ہے لہٰذا وہ اپنے مفادات کے باوصف ایک ہی بندھن میں رہنے پر مجبور ہیں اور یہی مجبوری فلسطینیوں کے گلے سے غلامی کا طوق اتارنے میں مانع ہے۔ معروضی صورتحال میں دنیا میں ہر مسلمان ، ہر مسلم مملکت، ہر مسلمانِ عالم اور اسلام کے تمام مالک نظری طور پر ضروریہ سمجھتے ہیں کہ اصل جہاد قبلہ اول کی آزادی ہی ہے۔ لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر رہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے حکمرانوں کی انہی اور ایسی دیگر وجوہات کی بنا پراسرائیل جیسا چھوٹا ملک سارے مشرقِ وسطیٰ پر چھایا نظر آتا ہے۔ اس سے قبل اس حوالے سے 2005ء میں ایک بہت بڑی کوشش مہاتیر محمد اور عالمی مصالحت کار محمد فیصل اور رفیق حریری کی جانب سے بھی کی گئی تھی جس کا مقصد مسلم دنیا کو معاشی اور دفاعی سطح پر متحد کرنا تھا۔ لیکن یہ کوشش بار آور نہیں ہو سکی۔
رینڈ کارپوریشن نامی امریکہ سماجی ادارہ امریکہ اور صہیونیت کی بقا کی جنگ میں سب سے زیادہ کام کرتا ہے۔ یہ امریکہ کا ایسا تھنک ٹینک ہے جو کئی دہائیوں سے صرف اس کشمکش میں مگن ہے کہ آنے والے سو سال میں بھی کہیں ایسا نظام یا کوئی سسٹم نہ پیدا ہو جائے جو امریکہ یا یہودیت کو ختم کر دے۔ اس ادارے میں اکثریت یہودیوں کی ہے لیکن حیران کن طور پر کئی مسلمان بھی اس تھنک ٹینک کا حصہ ہیں۔رینڈ کارپوریشن کی ایک رپورٹ نے چند دہائیاں پہلے کچھ ایسی تجاویز دیں جن پر عمل کرتے ہوئے آج امتِ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں امریکہ کو بطور سپر پاور اور صہیونیت کو صرف ایک دین یا اس دین کے تابع ایک قوم یعنی امت سے شدید خطرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان خطروں میں سب سے بڑا خطرہ خلافت کی واپسی کا تھا یعنی کوئی ایسا فردِ واحد ابھر کر سامنے نہ آجائے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو اکٹھا کر دے۔ اس چیز کو روکنے کے لئے جہاں مسلمان ریاستوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا، وہیں ان میں کیپٹلزم کو فروغ دیا گیا۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں امیر امیر تر ہوتا جاتا ہے جب کہ غریب کو صرف اجرت دے کر فارغ کر دیا جاتا ہے یعنی غریب کو امیر ہونے یعنی اپنے سٹیٹس تبدیل کرنے کے تمام اختیارات امیر کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں۔ 
در اصل امریکہ ہی ہے جو اسرائیل فلسطین تنازع کو ہوا دیتا رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تنازع کو اس سطح تک پہنچانے میں سب سے زیادہ منفی کردارا مریکہ کا ہی ہے جو ایک طرف فلسطین کی آزادی کی بات کرتا ہے تو دوسری جانب نہ صرف اسرائیل کو مسلح کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں بلکہ اس کی سیاسی اور سفارتی حمایت بھی جاری رکھی جاتی ہے۔ امریکہ کی اسی طرح حمایت جاری رہی تو ایک دن آئے گا کہ اسرائیل پورے اس خطے پر قابض ہو جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم امہ ایک مشترکہ سٹینڈ لے اورا سرائیل کو نکیل ڈالے تاکہ نہ صرف فلسطینیوں کو ان حقِ آزادی مل سکے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام بھی ممکن ہو سکے۔

ٹیگز: