Wed, September 16, 2026

28 ویں ترمیم، پس پردہ حقائق

28 ویں ترمیم، پس پردہ حقائق

 اسی طرح بلوچستان کی پسماندگی کے نام پر بھی وفاق حصہ ڈالتا ہے۔ وفاق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بھی تقریباً 800 ارب روپے دیتا ہے۔ وفاق کو ٹھیک ٹھاک خسارے کا سامنا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے کچھ اہم اور قابلِ قبول تجاویز زیر غور ہیں کہ دفاعی اخراجات بڑھ چکے ہیں بالخصوص گزشتہ سال بھارت کی طرف سے جنگ کے بعد پاکستان کی حکومت اور عسکری قیادت اس حوالے سے سوچ بچار کر رہی ہے۔ وفاق کے حصے سے دفاعی اخراجات کی مد میں 17573 ارب روپے نکل جاتے ہیں جن سے اشیائے حرب کی خریداری اور دیگر دفاعی امور پورے کیے جاتے ہیں۔ جبکہ فوج کا خالصتاً بجٹ صرف 2550 ارب روپے ہے اگر ڈالروں میں دیکھیں تو 8 ارب ڈالر جبکہ ہمارے دشمن بھارت کا فوجی بجٹ 80 ارب ڈالر ہے۔ پھر بھی ہمارے بہادر سپاہیوں نے بھارت کو ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ یعنی انتہائی کم وسائل کے ساتھ جنگ لڑی اور تاریخی فتح حاصل ہے۔ سارا پاکستان چائے گا کہ فوجی بجٹ بڑھے اور ہماری فوج کو سہولیات دی جائیں کیونکہ ہمارا سامنا ایسے دشمن سے ہے جو اس مد میں بے پناہ اخراجات کر رہا ہے۔ ہمارے فوجی بہادر ہیں مگر یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔ 28 ویں ترمیم میں یہ تجویز زیر غور ہے کہ اگر صوبے این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی پر رضا مند نہ ہوں تو ایسا فارمولا ترتیب دیا جا سکے جس کے تحت کل محصولات میں سے سب سے پہلے دفاعی بجٹ علیحدہ کر لیا جائے اس طرح وفاق کا بوجھ قدرت کم ہو جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ فوج صرف وفاق کی نہیں یہ چاروں صوبوں کی فوج یے اور سارے پاکستان کی دفاعی طاقت ہے۔ کل محصولات میں سے دفاعی بجٹ علیحدہ کر کے باقی کو این ایف سی ایوارڈ کی ترتیب کے مطابق صوبوں کو جاری کر دیا جائے یہ تجویز سب کو قبول ہونی چاہیے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی صوبوں کو دے دیا جائے یہ بھی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ بہبود آبادی کا محکمہ بھی صوبوں کے پاس یے تو صوبے اپنے حساب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بطریق احسن چلا سکتے ہیں۔ اسی طرح ایک تجویز یہ بھی ہے کہ کچھ محکمے جو صوبوں کو دئیے گئے تھے وہ وفاق کو واپس کر دیئے جائیں تاکہ فیڈریشن کی مضبوطی کے لیے ایک منظم قومی پالیسی کے تحت وفاق ان محکموں کو چلائے اور اس طرح ملی یکجتی کیلئے راہ ہموار ہو سکے۔ ویسے بھی یہ محکمے صوبائی حکومتوں میں وہ کارکردگی نہیں دکھا سکے جس کی توقع تھی۔ ایک تجویز ووٹر کی عمر کے حوالے سے ہے تو یہ قابلِ فہم ہے کہ 18 سالہ بچہ گھر نہیں چلا سکتا، والدین اس کے اوپر کوئی اہم ذمہ داری نہیں ڈالتے تو یہ کیسے اجازت ہونی چاہیے کہ وہ صرف سوشل میڈیا اور اپنی کمزور ذہنیت کے ساتھ ایک خاص بیانیہ کے تحت ملکی نظام چلانے کے لیے ووٹ کرے۔ یقینا ووٹر کی عمر میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کم از کم 21 سال اور زیادہ سے زیادہ 25 سال کی عمر میں ووٹ کا حق دیا جانا چاہیے۔ اگر 18 سالہ شہری ممبر پارلیمان نہیں بن سکتا کیونکہ وہ ذہنی بلوغت نہیں رکھتا تو ووٹر کیسے ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ باقی سازشی تھیوریاں پہلے کی طرح دم توڑ جائیں گی کہ اس ترمیم کے ذریعے ملک میں صدارتی نظام کی راہ ہموار کی جا رہی ہے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صدر بننا چاہتے ہیں۔ نئے صوبوں بارے بھی بے وقت کی راگنی گائی جا رہی ہے۔ یہ سب ایک مخصوص گروہ کا ذہنی فتور ہے جو وہ اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے پھیلا رہے ہیں۔ پاکستان میں پارلیمانی نظام ہی بہترین طرزِ حکومت ہے۔ یہی چلے گا اور اسی پر تمام حلقے ہم آواز ہیں۔ 28 ویں ترمیم آج نہیں تو کل ہو گی یقینا یہ وقت کی ضرورت ہے۔ قومیں وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر آگے بڑھتی ہیں۔ ٹھہراو¿ کسی بھی قوم کیلئے زہر قاتل ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں پاکستان کیلئے اپنی ذاتی انا اور سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھیں گی اور جمہوری نظام کو ایک روشن راستہ دیں گی۔ (ختم شد)

ٹیگز: