زندگی کی بھولی بسری یادیں، بھولے بسرے قصے، کہانیاں، واقعات جو آپ کی جوانی سے جڑے ہوں کبھی کبھی وہ بھی جب آج کے دور میں جب سوشل میڈیا یا فیس بک پر انہی شخصیات کے حوالے سے اللہ کا کوئی بندہ یا بندی لگا دیتی ہے تو میرا ماضی میرے ساتھ غضبناک ہو جاتا ہے اور جب میرے جیسے پرانے بابے کی نظروں سے ماضی کے یہ واقعات گزرتے ہیں تو میں اپنے زمانے میں واپس لوٹ جاتا ہوں۔ 1964ء میں فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان مرحوم کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے سرکاری پی ٹی وی کی شکل میں قوم کو پہلا پی ٹی وی دیا۔ یہ بلیک اینڈ وائٹ کا دور تھا۔ ایوب خان کے بعد جنرل مشرف دوسرا فوجی ڈکٹیٹر تھا جس نے 2001ء میں پاکستان میں پرائیویٹ چینل کے دروازے کھولے اور پھر ہم گنتی بھول گئے۔ میں بات کر رہا تھا 1964ء کی۔ میری عمر اس وقت دس سال تھی جب میرے گھر میں چار ٹانگوں والا ٹی وی آیا تو مجھے یاد ہے پورے محلے والوں نے ہمارے گھر پر حملہ کر دیا پھر محلے والے اس نئے ڈبے میں جب پروگرام دیکھتے تو خاص کر میرے جیسے بچے تالیاں بجاتے، چھلانگیں لگاتے۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ان دنوں ہمارے گھر کے سامنے ’’ملک دا ہوٹل‘‘ تھا جہاں روزنامہ ’’امروز‘‘ اور ’’مشرق‘‘ آتے تھے اور میں سکول سے آنے کے بعد کاغذ پنسل لے کر ہوٹل جاتا اور ٹی وی پروگرام لکھ کے گھر والوں کو دیتا۔ پروگرام بصیرت سے لے کر ڈرامہ الف نون تک کو ہم دیکھا کرتے۔ ان دنوں تین انگریزی فلموں دی ’’فیوجسٹو‘‘، ’’رابن ہڈ‘‘ اور ’’دی امپاسیبل‘‘ اور پی ٹی وی کے ڈرامے تو تھے ہی ضیاء محی الدین شو اس دور کا سب سے پاپولر پروگرام تھا۔ اس کے بعد جس پروگرام نے بہت شہرت کمائی۔ وہ پروگرام ’’کسوٹی‘‘ تھا۔ آپ حیران ہوں گے جس دن یہ پروگرام نشر ہوتا تو سڑکیں سنسان ہو جاتیں۔ آج کے کالم میں اسی پر بات ہوگی۔ پروگرام کسوٹی یہ سن 1967ء کی بات ہے جب پاکستان ٹیلی ویژن پر معلوماتی پروگرام کسوٹی جو مسلسل چھ سال چلا اور پھر سن 1990ء کی دہائی میں یہ پروگرام کچھ عرصہ کے لئے پی ٹی وی پر ہی دوبارہ چلا تھا مگر اس دفعہ اس کو ویسی شہرت نہ مل سکی۔ اس پروگرام کے میزبان قریش پور تھے۔ ان کے سوال کرنے کا انداز، مسکراہٹ اور دلفریب گفتگو اور دیگر دو صاحبان عبیداللہ بیگ اور افتخار عارف تھے جو پروگرام میں مدعو کئے گئے۔ مہمانوں سے اکیس سوالات کیا کرتے تھے۔ دیکھا جائے تو یہ دونوں حضرات میزبان بھی تھے۔ قریش پور کے بعد کچھ عرصہ پروگرامز کی میزبانی حمایت علی شاعر نے بھی کی اور مختلف ماہرین کے زیرِ سایہ یہ پی ٹی وی پر چلتا رہا۔ عبید اللہ بیگ اور افتخار عارف دونوں کی ٹیم اس وقت اپنے عروج پر تھی اور یہ پروگرام پورے پاکستان میں بہت ہی شوق سے دیکھا جانے والا پروگرام بن چکا تھا۔
پروگرام کی ترتیب کچھ یوں ہوتی ایک مہمان کو دعوت دی جاتی اور اس مہمان سے تھوڑی گفتگو ہونے کے بعد مہمان نے دنیا میں کسی بھی جگہ سے کسی ایک شخصیت، کتاب، عمارت یا کسی جانور کا نام ایک کارڈ بورڈ پر تحریر کرنا ہوتا تھا جو افتخار اور عبید اللہ سے چْھپا کر حاضرین اور کیمرے کو یعنی ٹیلیویژن پر دکھا دیا جاتا پھر یہ دونوں حضرات بیس سوالات مہمان سے پوچھ کر اْس سوال کے کردار، عمارت، کتاب یا جانور کا نام بوجھنے کی کوشش کرتے۔ اگر بیس سوالات میں سے وہ نہ بوجھ پاتے تو پوچھنے والے مہمان کو انعام ملتا مگر ایسا کم کم ہی ہوتا تھا کہ وہ بوجھ نہ پائیں۔ یہاں ایک واقعہ بتاتا چلوں۔ ایک پروگرام میں نامور ناول نگار ابن صفی کو مدعو کیا گیا۔ اس پروگرام بارے ان کے فرزند احمد صفی نے واقعہ کی تفصیل کچھ یوں بتائی کہ ’’ابو ستر کی دہائی میں کسوٹی پروگرام میں آچکے ہیں۔ پروگرام کے قاعدے کے تحت ابو نے جانشینِ داغ حضرت نوح ناروی کا نام لکھا۔ اب دونوں ماہرین یعنی عبیداللہ بیگ اور افتخار عارف نے سوالات شروع کئے اور پھر جلد ہی آدھے سے زیادہ سوالات ہو گئے۔ غالباً انیسواں سوال بھی ہو چکا تھا… اور دونوں ماہرین ایک دوسرے سے سر جوڑے مشورے میں مگن تھے اور صاف لگ رہا تھا کہ وہ ہار ماننے کے قریب ہیں مگر مان نہیں رہے۔ اس دوران قریش پور اور ابو (ابنِ صفی) آپس میں کچھ باتیں کرتے رہے… اسی اثناء میں بیسواں سوال بھی گزر گیا… اب دونوں ماہرین اب تک کئے گئے سوالوں کا تجزیہ کرنے لگے… اور یہ تو طے ہو چکا تھا کہ برصغیر پاک و ہند کے کوئی مشہور شاعر ہیں مگر بوجھنا مشکل ہو رہا تھا… اچانک ابو مسکرائے اور کہا حیرت ہے آپ زبان کے شاعر تک نہیں پہنچ پارہے… ارے ارے کرتے ہوئے دونوں ماہرین کے منہ سے نکلا ’’نوح ناروی…‘‘ اور یوں ابو نے اشارہ دے کر جیتا ہوا مقابلہ ہار دیا۔ اس کے بعد دونوں ماہرین نوح کے اشعار سنانے کے ساتھ کی تاریخ بھی بیان کرتے رہے۔ قریش پور نے ابو سے کہا کہ اگر آپ اشارہ نہ دے دیتے تو آپ جیت سکتے تھے تو جواب میں ابو نے کہا مقابلہ تو جیت جاتا مگر اس بات پر شرمندگی رہتی کہ اگر نوح ناروی جیسے شاعر کو عبید اللہ بیگ اور افتخار عارف ہی نہ بوجھ پائے تو اور کون یاد رکھے گا؟
اور آخری بات…
یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ کہاں وہ پی ٹی وی کا دور اور اس کے پروگرامز پی ٹی وی نے اپنی تاریخ میں دیئے۔ آج ہماری نسل جس بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے ضروری ہے کہ کسوٹی جیسے پروگرامز دوبارہ تیار کئے جائیں۔ اس طرح کے پروگرامز طلباء و طالبات میں بہت اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا پروگرام تھا جو ہر عمر میں پسندیدگی کے ریکارڈ توڑ دیتا… گو اب وہ لوگ نہیں ہیں جو اس کے تخلیق کار تھے مگر آج ہم میں کئی قریش پور، کئی عبید اللہ بیگ اور افتخار عارف موجود ہیں۔ بات ہے موقع دینے کی…!