Wed, September 16, 2026

بی وائے سی (BYC) بلوچ خواتین کے استحصال اور خودکش حملوں کے لیے 'لانچنگ پیڈ' قرار

بی وائے سی (BYC) بلوچ خواتین کے استحصال اور خودکش حملوں کے لیے 'لانچنگ پیڈ' قرار

کوئٹہ: بلوچستان میں دہائیوں سے جاری شورش میں حالیہ چند برسوں کے دوران آنے والی تبدیلیوں نے ریاست اور سیکیورٹی ماہرین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دستیاب شواہد اور حالیہ واقعات کے تجزیے سے یہ سنگین حقیقت سامنے آئی ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) بظاہر حقوق کی بات کرتی ہے، مگر عملاً یہ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے 'مجید بریگیڈ' کے لیے خواتین کو تیار کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔
تاریخی طور پر بلوچستان کی مزاحمت میں خواتین کا خودکش حملوں میں ملوث ہونا کبھی روایت نہیں رہا۔ تاہم، 2020 میں بی وائے سی کے قیام کے بعد اس رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا۔ 2022 میں اعلیٰ تعلیم یافتہ شاری بلوچ نے کراچی یونیورسٹی میں خود کو اڑا کر اس خونی سلسلے کا آغاز کیا۔ اس کے بعد سمعیہ قلندرانی، ماہکان بلوچ، ماہل بلوچ، زرینہ رفیق، ہوا بلوچ اور آسیہ مینگل جیسی خواتین کے نام خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں سامنے آئے۔
رپورٹ کے مطابق، بی وائے سی کے پلیٹ فارم سے ریاستِ پاکستان کو "قابض اور ظالم" ثابت کرنے کا جو بیانیہ صبیحہ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے دیا جاتا ہے، وہ براہِ راست کم عمر بچوں اور خواتین کی ذہن سازی (Brainwashing) کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ  "بی وائے سی وہ سیاسی خام مال تیار کرتی ہے جسے بی ایل اے کا عسکری ونگ بارود میں تبدیل کر دیتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ درجنوں بلوچ خواتین اس وقت بی ایل اے کے کیمپس میں موجود ہیں، جن کی ٹریننگ کی ویڈیوز خود دہشت گرد تنظیمیں جاری کر رہی ہیں۔ ان میں سے بیشتر خواتین کا کسی نہ کسی سطح پر بی وائے سی کے احتجاجی کیمپوں یا ان کے بیانیے سے گہرا تعلق رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی وائے سی لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھ کر دراصل ریاست کے خلاف "ہائبرڈ وار" کا حصہ ہے، جس کا مقصد بلوچ خواتین کے جذبات کا استحصال کر کے انہیں خودکش حملوں جیسے سنگین جرائم کی طرف دھکیلنا ہے۔

ٹیگز: