ریاض/تہران/واشنگٹن: مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بیسویں دن ایران نے توانائی تنصیبات پر نئی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت خطے میں امریکی اور اسرائیلی منسلک توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں آگ لگ گئی اور بعض ایرانی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ یہ کارروائی امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی گئی، اور ایران جنگ کو دوست یا ہمسایہ ممالک کی توانائی تنصیبات تک پھیلانا نہیں چاہتا، لیکن دفاع کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔
سعودی عرب میں عرب اور اسلامی وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا، جس میں خطے کی سلامتی اور استحکام پر بات کی گئی۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ایرانی حملے ناقابل قبول ہیں اور سعودی عرب کو اپنے دفاع کے لیے فوجی کارروائی کا حق حاصل ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران نے خلیجی ممالک کے سول انفراسٹرکچر، ہوائی اڈے، تیل کی تنصیبات اور سفارتخانے نشانہ بنائے، جو کسی بھی صورت جائز نہیں۔ ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور ہمسایہ ممالک کا احترام کرے، حملے فوری بند کرے اور آبنائے ہرمز کو محفوظ بنائے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو پہلے ہی پیغام دیا جا چکا ہے، اس لیے ابھی مزید حملے کی ضرورت نہیں۔ تاہم، اگر ایران آبنائے ہرمز بند کرے تو امریکہ دوبارہ حملوں کی حمایت کر سکتا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے صدر ٹرمپ اور امیر قطر سے فون پر بات کی اور گیس فیلڈ حملوں کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔
ایران اور قطر کی گیس فیلڈ پر حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اسرائیلی حملے کے بعد ایران کی گیس کی پیداوار 25 ہزار ملین مکعب فٹ سے زیادہ معطل ہو گئی۔
ابوظہبی کی حبشان گیس تنصیبات اور باب فیلڈ پر میزائل کے ملبے گرنے سے حفاظتی اقدامات کے تحت تنصیبات بند کی گئیں، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔
عراق میں ام القصر بندرگاہ کے قریب ڈرون حملہ ہوا، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔
اسرائیل میں ایرانی ڈرون حملے میں ایک غیر ملکی شہری ہلاک ہوا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر بات کی اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ایران نے علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
ایران کے حملے کے بعد قطر کی گیس تنصیبات بھی نشانہ بنیں، اور قطر نے ایرانی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔ اس کے نتیجے میں ایران اور قطر کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔