Wed, September 16, 2026

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے…

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے…


آپریشن غضب للحق کی کامیابی اور افغان رجیم کی ناکامی کے بعد اب جبکہ بھارت اور اسرائیل سے سازش کے ڈانڈے ملانے کے بعد بھی کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوئی تو یہ لوگ اب اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں پاکستانی افواج تو اقبال کے ’’مرد مومن‘‘ کی تفسیر ہیں جبکہ طالبان اسلام سے کوسوں دور اپنا ہی کوئی قانون نافذ کئے بیٹھے اپنے ملک کے شہریوں خصوصاً خواتین کی زندگی اجیرن کرنے کے بعد اس کا دوش پاکستان پر لگا رہے ہیں۔
اپنے عوام سے صحت، تعلیم اور معاشی سہولیات خود چھین کر پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ امید ہسپتال Omid Hospital میں 400 افراد ہلاک ہوئے ہیں پہلے تو اس دعوے کو یوں بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کا ٹارگٹ ہمیشہ افغان رجیم کے دہشت گردی کے اڈے ہوتے ہیں عوام نہیں…
اب حقیقت میں اس دعوے کا پول کھولنا ہو تو اس مقام کو اس کی تاریخ کے پس منظر میں دیکھنا پڑتا ہے جیسا کہ اس کی گزشتہ تاریخ بتاتی ہے یہ کیمپ فینکس (Camp Phoenix) ہی سے جڑا ہوا سلسلہ ہے جو سب جانتے ہیں نیٹو فورسز کا عسکری اڈہ رہا ہے جسے بعد میں انسداد منشیات کے مرکز کے طور پر استعمال کی بات ہوئی اور ہم کہیں کہیں خبروں میں پڑھتے رہے کہ منشیات کے عادی افراد کو زبردستی اس مرکز میں جمع کیا جاتا رہا یا کم از کم ایسی رپورٹس سامنے آتی رہیں۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ منشیات کی آبیاری اور سمگلنگ کا سب سے بڑا مرکز بھی خود افغانستان ہے جن کی کاشت کا بڑا حصہ پوست اور افیون کی کاشت کاری پر مشتمل ہے جب ہم (قانون مسلح تنازعات) Law of Armed Confliets کو پڑھتے ہیں۔یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ مقامات کی حیثیت یہ نہیں ہوتی کہ ماضی میں یہاں کیا ہوتا رہا بلکہ اس مقام کی موجودہ استعمال پر منحصر ہوتی ہے افغان رجیم جس قدر چاہے پراپیگنڈہ کر لے مگر سچائی از خود اس کی نفی کر دیتی ہے۔
جیسا کہ مشرقی موصل کے حقائق ہیں جسے داعش نے السلام ہسپتال کی مقامی حیثیت سے الگ سے آپریشنل بیس بنا کر استعمال کیا عالمی خبروں کے تناظر میں جب ہم دیکھتے ہیں تو وہاں عراقی فورسز اور داعش کے درمیان ہوئی جنگوں سے کون واقف نہیں…
بہت ساری ہیومن رائٹس تنظیمیں دہائی دیتی رہیں کہ جب داعش مسلسل ایک طویل عرصے تک اس ہسپتال کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی رہی تو عملہ اور مریضوں کا برا حال رہا اس کی گواہیاں غیر عسکری اداروں یعنی انسانی حقوق کی تنظیموں سے ملتی رہیں یعنی یہ طے ہو گیا محض ہسپتال کا بورڈ لگا لینے سے وہ جگہ محفوظ نہیں ہو جاتی جبکہ درون خانہ شدت پسندانہ کارروائیاں چل رہی ہیں اور یہ محض انسانی حقوق کی تنظیموں ہی کی رپورٹیں نہیں ہیں بلکہ اقوام متحدہ جیسے مستند ادارے کی رپورٹوں کے مطابق خراسان (ISKP) تحریک طالبان افغانستان (TTA) بشمول داعش سکولوں تک کو بھی اپنے مذوم مقاصد کے لئے استعمال کیا اور تمام عسکری تقاضوں سے لیس رکھا… اس کے علاوہ بھرے شہروں کے وسط میں عسکری استعمال کیا گیا لہٰذا نام اور لیبل کی بلیک میلنگ کو حقیقت کے آئینے میں دیکھنا پڑتا ہے ناکہ اس کے ماضی کے نام و نشان میں…
لہٰذا اس پراپیگنڈہ کو مزید تحقیق اور غیر جانبدار ریسرچ کی ضرورت ہے کیونکہ جو شواہد سامنے آئے ہیں ان کے مطابق متضاد بیانات ہسپتال کی علیحدہ لوکیشن اور پرانی وڈیوز کو مزید تحقیق کی ضرورت ہے…
بھارت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے افغان میڈیا بھی اسی زور و شور سے جھوٹ کا پرچار کر رہا ہے جس کے لئے بھارتی میڈیا پوری دنیا میں بدنام ہے۔
پاکستان ہمیشہ معتبر ذرائع اور اعداد و شمار کی روشنی میں درست معلومات پیش کرتا ہے جبکہ متذکرہ میڈیا جو دنیا میں بدنام ہے اس نے تو لاہور کی بندرگاہ بھی بنا دی تھی اب اسی کے معتمد خاص افغان طالبان اپنے لوگوں کو اسی طریقے کی غلط معلومات فراہم کر رہے ہیں جس کا مقصد اپنے عوام کو اندھیرے میں رکھنا اور عالمی برادری کو گمراہ کرنا ہے۔
کابل پر پاکستان فضائیہ کو جو پریسائیز ایئر سٹرائیکس (Precise Air Strikes)کرنا پڑیں اس کے نتیجے میں ہمدردیاں بٹورنے کے لئے 408 ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا جبکہ ڈیڑھ دن گزرنے کے باوجود طالبان حکومت اس دعوے کا ایک بھی ثبوت پیش نہ کر سکی البتہ طالبان  حکومت کے ترجمان حمدللہ خطرت نے مزید ہلاکتوں کا بیان دے کر صورت حال کو مزید مضحکہ خیز بنا دیا۔
آئینے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ پاکستان لاشیں اٹھاتے نہیں تھک رہا ان معصوم شہریوں کی تدفین میں مصروف ہے جو افغان دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہو گئے یہ وہ معصوم شہری تھے جو اس پراکسی وار کی نذر خواہ مخواہ ہو گئے۔
انسانی جانوں کے اس زیاں کی اگر شرح دیکھیں تو 33 اموات روزانہ بنتی ہیں کیا یہ لوگ انسان نہیں تھے کیا ان کا کوئی قصور تھا جو اس جنگ میں مارے گئے۔ فیض نے کہا تھا…
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
یہ 2025ء کے حالات تھے جس میں 400 سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ 2026ء میں یہ شرح ماہانہ 52 اموات سے بھی تجاوز کر چکی ہے اور سال کے شروع ہی میں 130 شہادتیں ریکارڈ پر ہیں۔
دنیا کو باور ہو کہ افغان پراپیگنڈہ کا کوئی ثبوت ریکارڈ پر نہیں جبکہ ہمارے لوگ مر رہے ہیں۔
بقول شعب بن عزیز
کوئی رو کے کہیں دست اجل کو
ہمارے لوگ مرتے جارہے ہیں

ٹیگز: