Wed, September 16, 2026

کراچی میں طوفانِ باد و باراں ؛ 90 کلومیٹر کی ہواؤں سے درخت اور کھمبے زمین بوس، بجلی کا نظام درہم برہم

کراچی میں طوفانِ باد و باراں ؛ 90 کلومیٹر کی ہواؤں سے درخت اور کھمبے زمین بوس، بجلی کا نظام درہم برہم

کراچی: شہرِ قائد میں اچانک پیدا ہونے والے طوفانی سسٹم اور موسلادھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ محض چند گھنٹوں کی بارش اور 97 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے نتیجے میں مختلف حادثات میں 13 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
 بارش کے دوران ایک عمارت کی دیوار گرنے سے ملبے تلے دب کر 11 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد نشے کے عادی تھے جو دیوار کے سائے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ ملیر ندی کے قریب آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص کی جان گئی، جبکہ قائد آباد اور مچھر کالونی میں چھتیں گرنے سے کئی شہری زخمی ہوئے۔
 کلفٹن اور قائد آباد میں درخت اور ملبہ گرنے سے زخمی ہونے والے افراد کو قریبی اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ آئی آئی چندریگر روڈ، شاہراہِ فیصل، صدر اور گلشنِ اقبال میں درجنوں درخت، سائن بورڈز اور بجلی کے کھمبے زمین بوس ہو گئے۔
لیاری اور مضافاتی علاقوں میں تاریں گرنے سے بجلی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔محکمہ موسمیات کے مطابق ماڑی پور میں ہواؤں کی رفتار 97 کلومیٹر جبکہ شاہراہِ فیصل پر 90 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی۔ گرومندر، نارتھ کراچی، سرجانی اور ڈیفنس سمیت تمام علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہا۔

ٹیگز: