Wed, September 16, 2026

میری موجودگی کے بغیر اسرائیل کا صفایا ہو جاتا: ڈونلڈ ٹرمپ

میری موجودگی کے بغیر اسرائیل کا صفایا ہو جاتا: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن/اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ ان کی موجودگی کے بغیر اسرائیل کو سنگین صورتحال یا ممکنہ طور پر مکمل تباہی کا سامنا ہو سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات خوشگوار ہیں، تاہم بعض اوقات انہیں نظم و ضبط میں رکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

ٹرمپ کے مطابق وہ اسرائیل کو لبنان پر مزید کارروائیوں سے باز رکھ سکتے ہیں، اور ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے کئی فیصلے ان کی پالیسی اور رہنمائی کے مطابق ہوتے ہیں۔

ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا نے جو اقدامات کیے وہ کسی مایوسی کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ یہ عمل ایران کی جانب سے شروع ہوا۔ ان کے بقول ایران شدید کمزور ہو چکا ہے اور اسے کسی قسم کی مالی امداد نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی عسکری صلاحیتیں بری طرح متاثر ہو چکی ہیں اور اب اس کے پاس فضائیہ، بحریہ، فضائی دفاعی نظام اور ریڈار جیسے اہم دفاعی ڈھانچے مؤثر طور پر موجود نہیں رہے۔ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ غلط تاثر دے رہے ہیں کہ ایران پہلے کے مقابلے میں بہتر حالت میں ہے۔

دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے طے شدہ مذاکرات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ سوئس وزارتِ خارجہ کے مطابق برگن اسٹاک میں شیڈول یہ ملاقاتیں اب نہیں ہوں گی۔ یہ پیش رفت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دورۂ سوئٹزرلینڈ ملتوی ہونے کے بعد سامنے آئی۔

اس کے باوجود سوئس وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ آئندہ بھی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کے لیے تیار ہے، تاہم نئی تاریخ کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف دباؤ کا سامنا ہے۔ اسرائیل کے سخت گیر حلقے حزب اللہ کے خلاف بڑے فوجی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ امریکی انتظامیہ خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے اور سفارتی عمل جاری رکھنے پر زور دے رہی ہے۔

نیتن یاہو نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیل اپنی افواج یا سرزمین پر کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور حزب اللہ کو اس کی “بھاری قیمت” چکانا ہوگی، تاہم ان کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس وقت جنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
 

ٹیگز: