ایک گھر کی چھت تلے کتنے ہی افراد موجود تھے مگر سب کے سب ماحول سے الگ تھلگ، ایک دوسرے سے لاتعلق، اپنے اپنے موبائل کے ساتھ مصروف تھے۔فون کے ساتھ کسی کو کوئی خاص کام بھی نہیں تھالیکن یونہی عادتاً سب کے سب ایک لایعنی اور خواہ مخواہ کی مصروفیت میں منہمک تھے۔ بظاہر سب ایک دوسرے کے آس پاس موجود تھے مگر عملاً اپنی اپنی دنیاؤں میں گم کہیں اور بھٹک رہے تھے۔یہ سوشل میڈیا میں حد سے زیادہ محویت کا شاخسانہ تھاکہ کسی کے پاس دوسروں کے لیے تو کیا، اپنے لیے بھی وقت نہیں تھا۔ایک مدت ہو چلی تھی ، کسی کی اپنے آپ سے کوئی بات تک نہیں ہوئی تھی۔ آندھی کے تیز بگولوں میں گویا کہ سب اُڑے جا رہے تھے ۔۔منزل، نہ نشانِ منزل۔۔کچھ بھی پیش نظر نہ تھا۔۔وقت کے زیاں میں اپنے آپ کے ضائع ہونے کا ملال تک بھی کہیں موجود نہیں تھا۔۔۔!
جبکہ دوسری طرف فطرت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ بہترزندگی گزارنے کے لیے خود کو وقت دیجئے ،خود کو بہترکیجیے ،اپنے ہونے اور جینے کی قدر کیجئے ،اللہ تعالیٰ نے زندگی دی ہے تو کچھ کر کے دکھائیے ۔ آج آپ کے پاس اپنے لیے وقت نہیں تو کل دوسروں کے پاس آپ کو دینے کے لیے وقت نہیںہوگا،خود کو فراموش کر دیں گے تو زندگی آپ کو فراموش کر دے گی اورملازموں جیسی زندگی گزار دیں گے تو ملازموں جیسی ہی عزت ملے گی ۔۔۔!
اگر آپ باپ ہیں تو یاد رکھیے کہ بچے مضبوط والدین کی عزت کرتے ہیں۔بچوں کی چھوٹی چھوٹی فرمائشوں پر ہتھیار ڈالنے والے کمزور والدین مت بنیں،مضبوط بنیں، بچوں کے سامنے
مضبوط نظر آئیں، ان کو سنیں/ اُن سے باتیں کریں/ اُن کو سمجھیں ،اُن سے اُن کی دلچسپیوں / کیا نیا سیکھا/ پر گفتگو کریں، اپنی شریک حیات کو وقت دیںاُس کی مرضی کی باتیں کریں،ہر بات کا غبار نکالنا ضروری نہیں،کچھ باتیں نظر انداز کریں ،بچوں کی تربیت میں صرف شریک حیات پر انحصار مت کریں،اپنے اپنے حصے کا کام کریں،بچوں کے معاملات میں دوسروں کی پروا مت کریں۔ اپنے بچوں کی شرارتوں / محبتوں کو سمیٹیںاور انہیںجیسا بناناچاہتے ہیں ویسے ان کی تربیت کریں۔ ان کو بلا وجہ دھمکیاں نہ دیںکیونکہ ڈراور لالچ کی وجہ سے سکھایاگیا کام شخصیت کو پامال کر دیتا ہے،اپنی غلطی تسلیم کریںاس لیے کہ غلطی نہ ماننا خوف زدہ شخص کی علامت ہے۔ غلطی مانیں اوراس کی تلافی بھی کریں۔۔ آپﷺ کا فرمان ہے کہ شکر گزاری (نعمتوںکی) اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ نعمت ملتی رہے گی،بچوںکو "Surprise" دیں،اگر تفریح کے لیے وقت نہیں نکالیں گے تو ہسپتال کے لیے وقت نکالنا پڑے گا،ہر وقت چیزوں کو زیادہ سیرس نہ لیں،۔کچھ وقت کے لیے سب کچھ حالات پر چھوڑ دیں اور نعمتوں میں اضافہ شکر گزاری کا ادنیٰ ترین فائدہ ہے ، جیسے گھریلو کامیابی کے اصول ہمیشہ یاد رکھیں۔۔۔!
اگر آپ مشاہدہ فطرت کے شائق ہیں تو ۔۔’’ مَیں بولوں ہوں آنکھن دیکھی، تم مانگن ہوکاغذ لیکھی، تیرا میرا منوا کیسے اک ہوئی رے۔۔۔مَیں بولوں سمجھا ون ہاری، تو راہ کو الجھائی رے، تیرا میرا منوا کیسے اک ہوئی رے ۔۔۔‘‘ جیسے طرز زیست کو اپنائیں۔۔۔!
اگر آپ وقت سے پہلے بوڑھا ہونے کی راہ پر ہیں تو بے جاذہنی، جسمانی، نفسیاتی اور روحانی فکر اور تنائو چھوڑیے اور حرکت کیجیے، ہاتھ پائوںہلائیے ، زندگی کو روانی دیجیے ،دوسروں پر انحصار کم کرتے ہوئے،پھل اور سبزیاں کھائیے اور ساتھ ہی ساتھ دل سے حسد، بغض اور کینہ نکالیے ۔خود پر توجہ دیجیے ، خوش و خرم رہیے اوردوستوں میں وقت گزاریے اور دوست بھی وہ رکھیے جو آپ کی زندگی میںتخلیق اور بڑھوتری لائیں۔۔۔۔اور جب وقت ملے آرام سے آنکھیں موندھیں اور سو جائیں۔۔۔!
اگر آپ واقعتا زندگی جینا چاہتے ہیں توروز کچھ نیا سیکھیں،خوش اخلاق رہیں، مثبت سوچیں، مثبت جیئیں، کسی نہ کسی طور مطالعے کی عادت اپنائیںاورجہاںتک ممکن ہو سکے سورۃ النساء کے اس سبق کو یاد رکھتے ہوئے اپنے سے کمزور لوگوں کی مدد پر سدا آمادہ اور تیار رہیں۔۔ :’’اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں ان بے بس مردوں،عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں نکلتے ،جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پر وردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا مدد گار فرما۔۔!
غم کی آزمائش پر ۔۔لا الہٰ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین(الانبیاء )پڑھیے،خوف کے وقت حسبنااللہ و نعم الوکیل (آل عمران) کا ذکر کیجیے، سازشوں کا شکار ہوں تو۔و افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیربا لعباد سے مدد لیجیے ، اپنے پروردگار کو عاجزی سے چپکے چپکے پکارتے رہیے۔(سورۃ الاعراف ) اور جس حد تک ممکن ہو اپنے آپ کو وقت دیجیے۔۔موبائل کے حصار سے باہر نکلئے، روشن آسمان پر نظر ڈالیے ، ایک دوسرے کی قربت کو محسوس کیجیے، ایک ذرا مسکرائیے اور دیکھیے زندگی کی فراخ راہیں آپ کو کب سے صدائیں دے رہی ہیں۔۔۔!