Wed, September 16, 2026

گرمی سے ٹھنڈے ملک بھی پریشان

گرمی سے ٹھنڈے ملک بھی پریشان

گرمی اب صرف گرم ملکوں کا ہی مسئلہ نہیں رہا موسمیاتی تبدیلیوں نے اس مسئلے کو اب بین الاقوامی مسئلہ بنا دیا ہے جو کبھی ٹھنڈے ترین ملک ہوا کرتے تھے وہ بھی اب گرم ترین ملک بنتے جا رہے ہیں۔دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں نے تباہی مچا دی ہے۔ وہ ممالک جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز نہیں کرتا تھا وہاں اب درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کر رہا ہے۔ جنوبی ایشیا، امریکہ، جاپان اور یورپ کے کئی ممالک اس سال گرمی کی لہروں کا شکار ہو رہے ہیں۔ سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ اس بڑھتے درجہ حرارت سے ہلاکتوں میں اضافہ ہو گا۔ دنیا کے کروڑوں افراد شدید گرمی کو برداشت کرنے کے عادی نہیں ہیں اور یہ موسمیاتی تبدیلی لوگوں کی ہلاکتوں کا باعث بن سکتی ہے۔
گزشہ چند روز کی بین الاقوامی خبروں کے مطابق یورپ ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ کئی ممالک میں ریکارڈ حد تک زیادہ درجہ حرارت نوٹ کیا جا رہا ہے تو جگہ جگہ جنگلات میں آگ بھی لگی ہوئی ہے۔ یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ کہیں بہت دیر نہ ہو جائے۔ برطانیہ میں اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.2 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ درجہ حرارت اب بھی بڑھ رہا ہے۔فرانس میں شدید گرمی کی وارننگ جاری کی گئی اور نیدرلینڈز میں جولائی میں ریکارڈ درجہ حرارت کی اطلاع مل رہی ہے۔شدید گرم موسم کے زیادہ تواتر سے آنے کی وجہ سے موسم شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔اسپین اور پرتگال میں حالیہ دنوں میں گرمی کی وجہ سے ایک ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ قومی موسمیاتی دفتر آئی پی ایم اے نے کہا ہے کہ ملک کے بیشر حصے میں آگ بھڑک اٹھنے کا خطرہ ہے۔
 اس ضمن میں موسمیات کے تغیر و تبدل پر نظر رکھنے والے دانشوروں نے ماحولیاتی فنانس کی 
ناکافی فراہمی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے کلائمیٹ فنانسنگ کو عالمی سطح پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، دانشوروں نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کیلئے اضافی اور پائیدار وسائل مہیا کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے، دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے وعدوں سے آگے بڑھنا چاہیے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں نے زرعی پیداوار، ذریعہ معاش، انسانی صحت اور معاشی استحکام کو ناقابل تصور نقصان پہنچایا ہے،ان نقصانات میں بڑے پیمانے پر اندرونی نقل مکانی کے ساتھ ساتھ جی ڈی پی کے نقصانات بھی شامل ہیں،ہمارے گلیشیئر بہت تیزی سے پگھل رہے ہیں، پاکستان میں درجہ حرارت 41 ڈگری نہیں 50 ڈگری تک پہنچ چکا ہے، پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے کوپ کے ایجنڈا کو بنیاد بنایا ہے، پاکستان اپنے واضح عزائم کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ گلوبل سائوتھ اپنے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے ایک مضبوط مالیاتی طریقہ کار کی تلاش میں ہے،ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے وسائل کی منتقلی وعدوں تک محدود ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کا عالمی گرین ہائوس گیسز کے اخراج میں صرف 1 فیصد حصہ ہے لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان توانائی کی منتقلی اور دیگر اہداف کا عہد کرتا ہے، پاکستان موسمیاتی اثرات سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے ترقی پذیر ممالک کی پوزیشن کے ساتھ کھڑا ہے، پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کیلئے اضافی اور پائیدار وسائل مہیا کرے۔
 ایک رپورٹ کے مطابق کئی ممالک میں گرمی سے بچنے کے لیے اے سی کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ لیکن یہ ماحول دوست عمل نہیں ہے اور نہ ہی ہر کسی کو ایئر کنڈیشن کی سہولیات میسر ہوتی ہیں۔گرمی کی شدت سے بچنے کا آسان حل ایئر کنڈیشنر یا اے سی کا استعمال ہے۔ اے سی بہت زیادہ توانائی سے چلتے ہیں اور یوں یہ ہمارے ماحول کے لیے نقصان دہ ہیں۔ 2018ء میں پنکھوں اور اے سی میں استعمال ہونے والی بجلی عالمی سطح پر استعمال ہونے والی بجلی کا 10 فیصد تھی۔ سب سے زیادہ اے سی امریکہ اور جاپان میں استعمال ہوئے جہاں نوے فیصد سے زیادہ گھروں میں یہ سہولت میسر ہے جبکہ دنیا کے گرم ترین علاقوں میں صرف 8 فیصد افراد کے پاس اے سی موجود ہے۔ لیکن اب ترقی پذیر ممالک میں بھی اے سی کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے عالمی سطح پر توانائی کی مانگ میں مزید اضافہ ہو گا۔ سائنسدانوں کے پاس ایک حل ہے۔ ان کی تجویز ہے کہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے ایسے طریقے اپنائے جائیں جو کم توانائی استعمال کریں۔
بحیرہ روم سے منسلک علاقوں میں لوگ رات کے وقت کھڑکیاں کھول دیتے ہیں جس سے ٹھنڈی ہوا گھر میں داخل ہوتی ہے۔ گھروں کو چکوں، ترپال یا دیگر چیزوں سے ڈھکا جاتا ہے تاکہ سورج کی تپش کو روکا جاسکے۔ ایک تحقیق بتاتی ہے کہ صرف قدرتی وینٹیلیشن اور شیڈنگ گھر کے اندرونی درجہ حرارت کو تقریباً 14 ڈگری تک کم کر سکتی ہے اور ایئر کنڈیشننگ پر بوجھ کو 80 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ اگر یہ آسان حل وسیع پیمانے پر لوگوں کو بتایا جائے تو اس کے واضح اثرات سامنے آئیں گے ۔شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں صدیوں سے ایسی عمارتیں تعمیر کی جارہی ہے جہاں عمارت کے سب سے بلند حصوں میں کھڑکیاں لگائی جاتی ہے۔ اس کا مقصد تازہ ہوا کو عمارت میں داخل کرنا اور گرم ہوا کو عمارت سے باہر نکالنا ہے۔ اس کے علاوہ عمارت کے قریب فواروں کو نصب کیا جاتا ہے اور عمارت کے باہر کسی قسم کا شیڈ نصب کرنے سے بھی اندرونی درجہ حرارت کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ماہرین کی رائے میں اس کا سب سے بڑا حل زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہے۔ کولمبیا میں انتظامیہ نے '' گرین کوریڈورز‘‘ تعمیر کیے ہیں۔ درختوں سے بھری یہ سڑکیں پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے راحت کا باعث بنتی ہیں۔ ایسی گرین سڑکوں کے باعث شہر کے اوسط درجہ حرارت میں 2 فیصد کمی آئی ہے۔

ٹیگز: