Wed, September 16, 2026

شر میں خیر کے پہلو

شر میں خیر کے پہلو

ایران کی پارلیمنٹ میں ’’ تشکر پاکستان ‘‘ کے نعرے ایک بڑی خیر کا پیغام ہیں ۔سیانے کہتے ہیں کہ ہر شر میں خیر کا پہلو ہوتا ہے ۔ جب سن شعور کو پہنچے تو سیانوں کی اکثر باتوں کو مذاق ہی سمجھتے تھے لیکن پھر وقت گذرنے کے ساتھ سیانوں کی قدر آتی چلی گئی اور پھر یہ بھی سمجھ آ گئی کہ سیانے جو کچھ کہہ گئے ہیں وہ صدیوں کا نچوڑ ہوتا ہے ۔ ہماری کوشش تو ویسے بھی یہی ہوتی ہے اس لئے کہ امیدہی وہ جذبہ ہے کہ جس سے انسان کو جینے کی امنگ ملتی ہے ۔ تمہیدی گفتگو مختصر کرتے ہوئے موضوع پر آتے ہیں کہ گذشتہ ہفتہ اسرائیل نے ایران پر بلا وجہ حملہ کر دیاحالانکہ نہ ایران کی سرحد اسرائیل کے ساتھ لگتی ہے اور نہ ہی ایران کا براہ راست کوئی تنازع اسرائیل کے ساتھ ہے ۔ جہاں تک نیوکلیئر پروگرام کی بات ہے تو اس پر ایران امریکہ مذاکرات چل رہے تھے اور ان کا اگلا دور 14جون کو ہونا تھا لیکن اس سے پہلے ہی اسرائیل نے ایران پر میزائلوں سے حملہ کر دیا ۔ اسرائیل کو مکمل یقین تھا کہ جس طرح جنگی تاریخ میں ایک وقت میں سب سے زیادہ دو سو جنگی طیاروں کے ساتھ ایران پر حملہ کرے گا اور اس فضائی حملے میں اپنی پوری طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے جب ایران پر بمباری کرے گا اور اپنے انتہائی خطرناک منصوبے کے تحت ایران کی عسکری قیادت کو ختم کر دے گا تو ایران نے اسرائیل پر جوابی وار کیا کرنا ہے بلکہ اسے تو نئے سرے سے اپنی صف بندی اور عسکری قیادت کے متبادل کے لئے کافی وقت درکار ہو گا ۔ اسرائیل کی یہ سوچ غیر حقیقی نہیں تھی لیکن ایران نے فقط 15سے18گھنٹوں کے اندر ہی اسرائیل پر جوابی وار کر کے ثابت کر دیا کہ وہ غزہ نہیں ہے بلکہ اسرائیل کو برابر کی ٹکر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ایران کی عسکری قیادت کی شہادت جہاں ایک بہت بڑا سانحہ تھا وہیں پراس میں سے ایک بہت بڑا خیر کا پہلو یہ نکلا کہ ایران ایک عرصہ سے اپنے اندر جو غدار اور جاسوس پال رہا تھا انھیں بے نقاب کرنے کا موقع مل گیا ۔ ایک خبر کے مطابق 73لیکن دیگر ذرائع کے مطابق سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور ان میں سے اکثریت ہندوستانی لوگوں کی ہے جو در حقیقت را کے ایجنٹ تھے اور ایران میں ڈبل ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے تھے ایک تو وہ اسرائیل کے لئے کام کرتے تھے اور دوسرا وہ پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کا کام کر رہے تھے تو ان سے تفتیش کے بعد ایران کا ہندوستان کے ساتھ جو رمانس تھا اس کا خاتمہ ہوا اور پتا نہیں کتنے عرصے سے ہندوستانی اور ایران کے مقامی یہودی اور دیگر جو ایران کی جڑیں کھوکھلی کر رہے تھے انھیں بھی بے نقاب ہونے کا موقع ملا ۔ 
اسی جنگ کے شر سے ایران کے لئے ہندوستان کے حوالے سے ہی ایک اور خیر کا پہلو یہ نکلا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ہندوستان کے چہرے پر پڑا ہوا نقاب پوری طرح اتر گیا ہے اور ہمارے پاکستان کے کچھ لنڈے کے دانشور ہمیشہ ہندوستان کا نام لے کر اس کی آزاد خارجہ پالیسی کا ڈھنڈورا پیٹتے تھے اس کا بھی پول کھل گیا ہے ۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام رکن ممالک نے ایران اسرائیل تنازع میں ایران کی مکمل حمایت کا اعلان کیا لیکن ہندوستان نے ان سب سے ہٹ کر ایران کی بجائے اسرائیل کا ساتھ دیا اور ظاہر ہے کہ صرف اسرائیل کی محبت میں یہ کام نہیں ہوا بلکہ یہ کام امریکہ کے دبائو میں کیا ہے اور اسی وجہ سے ہم نے کہا کہ وہ جو دانشور ہیں کہ جو انڈیا کی آزاد پالیسی کے گن گاتے نہیں تھکتے ان کے لئے عرض ہے کہ ساری کی ساری آزاد پالیسی ٹرمپ کی ایک کال پر ڈھیر ہو گئی اور ہندوستان نے انتہائی خود غرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم کے دیگر تمام ارکان سے ہٹ کر اسرائیلی جارحیت کی حمایت کی اور اس میں خیر کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ ایران کے سامنے اب ہندوستان کا مکروہ چہرہ یقینا مکمل طور پر آشکار ہو چکا ہو گا اور اسے پاکستان کی مکمل حمایت سے یہ بھی اندازہ ہو چکا ہو گا کہ اس کا اصل دوست کون ہے اور دشمن کون ہے ۔
یہ تو خیر کے پہلو ہیں ہی لیکن ایک اور بہت بڑا خیر کا پہلو اس شر سے جو نکلا ہے وہ ہے اس جنگ کے حوالے سے سعودی عرب کی ایران کے لئے مکمل اور غیر مشروط حمایت اور اس کا اعتراف اقوام متحدہ میں خود ایرانی مندوب نے بھی کیا کہ انھوں نے جن چار ممالک کا موجودہ ایران اسرائیل تنازع میں ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا ان میں چین ، روس اور پاکستان کے ساتھ سعودی عرب بھی شامل ہے اور ہمارے خیال میں یہ بات پوری امت مسلمہ اور خاص طور پر اس خطے کے لئے ایک نیک شگون ہے ۔ اگر یہ پالیسی مستقل بنیادوں پر جاری رہتی ہے تو اس میں سے خیر کے کئی ایک مزید پہلو بھی نکل سکتے ہیں کہ جن میں گذشتہ چار عشروں سے جاری عالم اسلام میں فرقہ واریت کی گھنائونی سازشیں اپنی موت آپ مر جائیں گی ۔ اس سے بھی زیادہ یہ ہوا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے پہلے پاکستان کے ہندوستان پر حملوں میں جو تباہی ہوئی تھی اس پر رب کریم کا شکر ادا کیا تھا اور جب سے اسرائیل کی ناجائز ریاست قائم ہوئی ہے اس کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پورے اسرائیل کے اندر تباہی اور بربادی کے مناظر نظر آ رہے ہیں اور اس فتح و کامرانی پر صرف ایرانی عوام ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا جس میںخاص طور پر فلسطینی عوام شامل ہیں خوشی کے جشن منا رہی ہیں ۔

ٹیگز: