سیاست کسی بھی معاشرے میں سمت کا تعین کرتی ہے۔ جب سمت متعین نہ ہو، قطب نما لرزاں ہو اور رہنما آپس میں دست و گریباں ہوں تو قافلہ بھٹک جاتا ہے۔ آج کل پاکستان تحریک انصاف کی اندرونی کیفیت کچھ ایسی ہی دکھائی دیتی ہے۔ایک ایسی جماعت جو کبھی نظم و ضبط اور نظریاتی وابستگی کے دعوے کرتی تھی، اب اپنے ہی بیانیے کے بوجھ تلے الجھتی محسوس ہوتی ہے۔
حالیہ دنوں میں پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان پر تنقیدی اشارے ہوں یا علی امین گنڈا پور کی طرف سے علیمہ خان کو موردِ الزام ٹھہرانا،یہ سب اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیادت ایک صفحے پر نہیں ہے۔ جب صفِ اول کے رہنما ہی باہم متصادم ہوں تو کارکنان اور عوام کس کو معتبر سمجھیں؟ سیاسی جماعت محض نعروں کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ نظم وضبط، حکمت عملی اور اجتماعی شعور سے مل کر بنتی ہے۔ بدقسمتی سے یہاں اجتماعیت کی جگہ انفرادیت نے لے لی ہے، اور مشاورت کی جگہ الزام تراشی نے سنبھال لی ہے۔سیاسی ناپختگی کی سب سے بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ فیصلے جذبات کی رو میں کیے جائیں اور نتائج کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ صورتحال اسی غیر منصوبہ بندی کی ایک مثال بنی اور صوبہ، جو پہلے ہی معاشی اور انتظامی دباؤ کا شکار تھا، مزید ابتری کی لپیٹ میں آگیا۔ ایمبولینسوں میں مریض دم توڑتے رہے، پٹرول کی قلت نے روزمرہ زندگی مفلوج کر دی، اور آٹے سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سوال یہ ہے کہ اس تمام افراتفری کا سیاسی فائدہ کس نے اٹھایا؟ اور نقصان کس نے سہا؟۔
جواب بالکل واضح ہے کہ نقصان عوام نے سہا۔ وہ عوام جو سیاسی نعروں کے سائے میں بہتر
طرزِ حکمرانی کی امید رکھتے تھے۔ مگر جب قیادت خود الجھن اور ذہنی کشمکش کا شکار ہو تو پالیسی کہاں سے آئے؟ جب حکمتِ عملی کاغذ پر بھی واضح نہ ہو تو عمل درآمد کی توقع کیسے کی جائے؟ سیاسی بصیرت کا تقاضا تھا کہ کسی بھی بڑے اقدام سے قبل اس کے ممکنہ نتائج کا سنجیدہ جائزہ لیا جاتا۔ مگر یہاں معاملہ یوں لگا جیسے پہلے قدم اٹھایا گیا اور بعد میں سوچا گیا کہ انجام کیا ہوگا۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب نتائج منفی نکلے تو اجتماعی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے فرداً فرداً صفائیاں پیش کی گئیں۔ سیاست میں اختلاف رائے کوئی جرم نہیں، بلکہ جمہوریت کی روح ہے۔ مگر اختلاف کو ذاتیات کا رنگ دینا اور میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانا سیاسی سنجیدگی کے منافی ہے۔ اس طرزِ عمل نے پارٹی کے داخلی انتشار کو مزید نمایاں کیا اور عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔
اس تمام پس منظر میں ایک اور قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ قیادت کی جانب سے عمران خان کی صحت کے معاملے کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنا یا جاتا رہا ہے۔ حالیہ دنوں ان کی آنکھ سے متعلق مسئلے کو جس انداز میں پیش کیا گیا، وہ سنجیدگی سے زیادہ جذباتی اور پراپیگنڈہ نما محسوس ہوا۔ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے آنکھ کی بیماری نہیں بلکہ سیاسی" آنکھ مچولی "ہو۔بیماری کسی بھی انسان کا ذاتی اور حساس معاملہ ہوتی ہے۔ اسے ہمدردی اور رازداری کی فضا میں دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ سیاسی فائدے کے ترازو میں تولا جائے۔مزید افسوس اس بات کا ہے کہ بعض بیانات اور اندازِ گفتگو سے یوں محسوس ہوا جیسے خود اسی معاملے کو غیر سنجیدہ بنا دیا گیا ہو۔ جب ایک جماعت اپنے قائد کی صحت جیسے نازک موضوع کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرے تو وہ نا صرف اخلاقی سطح پر کمزور دکھائی دیتی ہے بلکہ اپنے بیانیے کی سنجیدگی کو بھی مجروح کرتی ہے۔
عوام یہ دیکھتے اور پرکھتے ہیں کہ کون سا دکھ حقیقی ہے اور کون سا سیاسی ضرورت کے تحت ابھارا جا رہا ہے۔سیاسی پختگی کا تقاضا یہ ہے کہ قیادت اختلافات کو بند کمروں میں سلجھائے، عوامی مسائل کو اولین ترجیح دے اور ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر فیصلے کرے۔ مگر جب ترجیحات کا محور اقتدار کی کشمکش بن جائے تو عوامی خدمت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے حالیہ حالات اسی ترجیحی الٹ پھیر کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان جیسے حساس سیاسی ماحول میں کسی بھی بڑی جماعت کا عدم استحکام پورے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف محض ایک سیاسی جماعت نہیں، بلکہ لاکھوں ووٹرز کی نمائندہ ہے۔ اس کے اندرونی اختلافات اور غیر سنجیدہ فیصلے نہ صرف اس کے اپنے مستقبل بلکہ جمہوری عمل پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ قیادت خود احتسابی کا راستہ اختیار کرے۔سیاست محض جلسوں، بیانات اور سوشل میڈیا مہمات کا نام نہیں۔ یہ زمینی حقائق سے جڑی ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے۔
المختصر! جب ایمبولینس میں سسکتا مریض، پٹرول پمپ پر قطار میں کھڑا مزدور، اور آٹے کی قیمت سن کر پریشان گھریلو خاتون سیاسی فیصلوں کا خمیازہ بھگتیں تو پھر محض بیانیہ کافی نہیں رہتا بلکہ وہاں جوابدہی درکار ہوتی ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ پارٹی قیادت جذباتی نعروں اور وقتی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے آگے بڑھے۔ اندرونی اختلافات کو انا کی جنگ بنانے کے بجائے اصولی مکالمے میں ڈھالا جائے۔ قائد کی صحت کو سیاسی ڈھال بنانے کے بجائے اسے انسانی وقار کے ساتھ دیکھا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر، صوبے اور ملک کے عوام کو سیاسی تجربات کی بھٹی میں جھونکنے کے بجائے ان کے مسائل کے عملی حل تلاش کیے جائیں۔اگر سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے تو پھر خدمت کا پہلا تقاضا سنجیدگی، منصوبہ بندی اور اتحاد ہے۔ بصورتِ دیگر، قافلہ یونہی منتشر رہے گا، منزل دھندلائی رہے گی، اور عوام ایک بار پھر امید اور حقیقت کے درمیان پِستے رہیں گے۔