Wed, September 16, 2026

 پاکستان کا عاشقِ صادق

 پاکستان کا عاشقِ صادق

سیاست کی پُرخار وادی میں کسی بھی سیاسی جماعت کا کارکن اس کی حقیقی روح ہوتا ہے۔ پاکستان ایسے ملک میں جہاں تقریباً آٹھ عشرے گزرنے کے بعد جمہوریت اور جمہور صرف کتابی باتیں رہ گئی ہیں۔ جہاں لوگ بدلتے موسم اور بدلتی ہواﺅں کے ساتھ اپنی سیاست کا رُخ تبدیل کرلیں وہاں حقیقی سیاسی کارکن کا ملنا امرِ محال بن جاتا ہے۔ آج ہم مرحوم ادریس جانباز کا کچھ تذکرہ ایک ایسے کارکن کے طور پر کرنے جارہے ہیں جس نے دھونس، دھاندلی، دھمکی اور گولی کے نامہربان موسموں کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور اپنی مادر جماعت مسلم لیگ سے وفا کا رشتہ آخری دم تک نبھایا۔ ان کی جماعت اور نظریہ¿ پاکستان سے محبت اور عقیدت تادمِ مرگ برقرار رہی۔ ان کے ہم عصر اور ساتھی، حلیف اور حریف اس بات کے گواہ ٹھہرے کہ انہوں نے جو سیاسی سفر 1960ءکی دہائی کے اواخر میں شروع کیا۔ اس سفر میں اپنی زندگی کے آخری دن تک اصولوں پر سودے بازی نہیں کی۔ انہوں نے زندگی بھر بانی¿ پاکستان کے اصول امانت، دیانت اور صداقت کواپنائے رکھا۔ وہ نہ صرف خود اس کے پیکر تھے بلکہ دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے کہ سیاسی سٹیج کو مخالفین کی کردار کشی اور گالم گلوچ کے لیے استعمال نہ کیاجائے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے طویل سیاسی سفر میں ذاتی منفعت کو قریب پھٹکنے تک نہ دیا۔ اگرچہ اس دوران ان کی جماعت صوبائی اور وفاقی سطح پر کئی مرتبہ اقتدار میں بھی آئی لیکن اس درویش صفت سیاسی کارکن نے قائداعظمؒ کے وضع کردہ اصولوں سے سرِمو انحراف نہ کیا۔
ان کی تحریر، تقریر اور نجی مجالس کی روزمرہ گفتگو میں حب الوطنی اور نظریہ¿ پاکستان کی چاشنی ملتی ہے۔ ان کی سیاسی جدوجہد آئین کی بالادستی اور جمہوری اداروں کے استحکام سے عبارت ہے۔ اس دوران میں وہ سول مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بھٹو اور فوجی آمر کے دور میں زیرِ عتاب بھی رہے اور جمہوری جدوجہد کے ایک اور زریں باب جناب غلام حیدروائیں کے ساتھ پسِ زندان بھی کیے گئے۔ آپ اس بات پر حددرجہ اعتقاد رکھتے تھے کہ انتخابات میں فتح اور شکست وقتی چیز ہے جبکہ حقیقی فتح نظریات اور اصولوں کی ہوتی ہے۔ 
پاکستان کا قیام جمہوری روایت یعنی انتخابی عمل یا عوام کی رائے طلب کرنے کے بعد ممکن ہوا۔ عوام الناس نے 1946ءکے تاریخ ساز انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ کے حق میں ووٹ دے کر پاکستان کے قیام پر مہر تصدیق ثبت کی۔قائداعظمؒ نے آئینی اور غیر مسلح جدوجہد کے ذریعے ووٹ اور دلیل کی طاقت کے ساتھ دنیا کا نقشہ تبدیل کرکے رکھ دیا تھا۔ اسی تناظر میں ادریس جانباز مرحوم بھی جمہور کی طاقت پر یقین رکھتے تھے۔ اگرچہ اس دوران انہیں ذاتی اور جماعتی حیثیت میں مختلف ادوار میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ اس شعر کی عملی تصویر بن گئے کہ 
کانٹے تو کچھ ہٹا دیئے گزرے جدھر سے ہم
وہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ہر قومی اور ملی تہوار یا اہم قومی دن کے موقع پر اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں کرتے کہ ان کی قیادت بھی رشک کا اظہار کرتی۔ وہ جس طرح اعلیٰ پائے کے مقرر تھے ٹھیک اسی طرح ان کا سیاسی تجزیہ بھی ذہانت و فطانت کا شاہکار ہوتا تھا۔ وہ انتخابات کے دنوں میں پنجاب بھر میں انتخابی مہم کے دوران فعال رہتے اور لوگوں کا رجحان دیکھ کر جو اندازہ یا قیاس لگاتے وہ کم و بیش ہر موقع پر درست ثابت ہوتا کہ فلاں حلقے سے کس سیاسی جماعت کا امیدوار فتح یاب ٹھہرے گا۔ 
ان کی زندگی کا دوسروں کے لیے یہی درس ہے کہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے، کم وسائل رکھنے والے کے لیے بھی اس دنیا میں آگے نکلنے یا ترقی کرنے کے برابر مواقع ہیں، اس میں شرط اوّلین مگر مسلسل محنت، دیانت داری اور اپنے نظریے سے وفاداری ہے۔ ان کی زندگی نوجوان نسل اور سیاسی کارکنوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ 
ایک سیاسی کارکن کے لیے اپنی جماعت سے وفاداری ہی اس کا سرمایہ¿ حیات ہوتی ہے اور یہ وصف ان میں بدرجہ¿ اتم موجود تھا۔ انہوں نے ذاتی فائدے کے لیے کبھی مسلم لیگ کے لیے موجود اپنے قلبی لگاﺅ اور عقیدت کا سودا نہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ان کی شخصیت کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے بے باک اور بے لوث طریقے سے اپنی خدمات پیش کیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب کبھی انعام و کرام یا خلعتِ فاخرانہ عطا کرنے کا موسم آتا ہے تو ”معتکف مسلم لیگ ہاﺅس“ کہیں گم ہوجاتے اور ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ ان کی پوری زندگی جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام کی جدوجہد میں گزری۔ آج جب جمہوریت اور جمہوری ادارے عالمِ نزع میں ہیں ایسے میں مرحوم ادریس جانباز جیسی نابغہ¿ روزگار ہستیاں چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنے والیں۔ 

ٹیگز: