مانگنے والا گدا ہے صدقہ مانگے یا خراج
کوئی مانے یا نہ مانے میر و سلطان سب گدا
علامہ اقبالؒ کا یہ شعر اگر مانگنے والے سن لیں تو مانگنا ترک کر دیں لیکن ان کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پڑھے لکھے بھی نہیں ہوتے اور شعر و شاعری سے شغف بھی نہیں رکھتے، اس لیے دھڑلے سے مانگتے رہتے ہیں بلکہ اب تو مانگنے کا پیشہ اتنی ترقی کر گیا ہے کہ باقاعدہ آرٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے اور وطن عزیز میں تو یہ فن اپنی معراج پر ہے۔ حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ایک خبر بھی اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرتی نظر آتی ہے۔
خبر یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بیرون ملک بھیک مانگنے پر ہزاروں پاکستانی ڈی پورٹ کیے جا چکے ہیں۔ یہ انکشاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اور انسانی حقوق کے اجلاس میں سامنے آیا۔ ڈی جی ایف آئی اے نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بھیک مانگنے کے باعث پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیے جانے کا انکشاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران سعودی عرب سے 24ہزار، دوبئی سے6ہزار اور آذر بائیجان سے ڈھائی ہزار پاکستانی بھکاریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔
بھیک مانگنا اگرچہ ایک لعنت ہے لیکن پاکستانیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے اسے پیشے کے طور پر اپنا رکھا ہے۔ نہ صرف پیشے کے طور پر اپنایا ہے بلکہ اس فن میں اچھی خاصی مہارت بھی حاصل کر لی ہے۔ اپنے یہاں تو ایسے ایسے اعلیٰ پائے کے فنکار بھی ہیں جو صدقہ و خیرات پر چلنے والے اداروں سے بھاری رقوم عطیات میں وصول کر لیتے ہیں جبکہ بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو اس فن میں مہارت نہ ہونے کے باوجود بھی خود کو بہت بڑے فنکار سمجھتے ہیں اور اس فن کے ذریعے اپنی زندگی کی گاڑی کو کھینچنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ ان میں جو ذرا روایتی قسم کے فنکار ہیں وہ دن بھر گلیوں بازاروں میں گھوم پھر کر اور طرح طرح کے راگ الاپ کر پیسے اکٹھے کرتے ہیں۔ جو نسبتاً غیر
روایتی ہیں وہ گانے بجانے کی بجائے مختلف اقسام کے ڈھونگ رچا کر بھیک مانگتے ہیں۔ کوئی لنگڑا بن جاتا ہے تو کوئی خود کو نابینا ظاہر کرتا ہے۔
بعض لوگ اپنی مجبوریوں کا سہارا لے کر بھی مانگتے ہیں۔ کوئی مریض بن کر اور ہسپتال کی دستاویزات دکھا کر مانگتا پھرتا ہے تو کوئی یتیم و یسیر بن کر اور کوئی بیوہ ہونے کا بہانہ کر کے ہمدردیاں اور بھیک سمیٹتا ہے۔ کچھ لوگوں نے یہ طریقہ بھی اختیار کر رکھا ہے کہ ہاتھ میں مسواکیں یا بچوں کی کتابیں پکڑے بظاہر انہیں فروخت کرتے نظر آتے ہیں لیکن درپردہ ہر آنے جانے والے سے مدد کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں۔ آج کل تو اہم چوراہوں پر کچھ لوگ بیلچے اور تعمیراتی مزدوروں کے اوزار پکڑے بھی کھڑے نظر آتے ہیں اور جونہی ٹریفک اشارے پر رکتی ہے تو موٹر سائیکل سواروں اور گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں کو مسکین صورت بنا کر بتاتے ہیں کہ آج دیہاڑی نہیں لگی، اللہ کا کوئی بندہ پانچ دس کلو آٹا خرید کر دے دے۔
غرضیکہ آپ ملک کے کسی بھی حصے میں چلے جائیں، ہر شہر اور ہر گاو¿ں میں آپ کو کسی نہ کسی شکل میں کسی بھکاری کا ضرور سامنا کرنا پڑے گا۔ آپ کسی ٹھیلے پر پھل خریدنے کے لیے رکیں، سبزی کی دکان پر کھڑے ہو جائیں، کسی جنرل سٹور کا رخ کریں، مسجد میں نماز پڑھنے چلے جائیں حتیٰ کہ بینک کی اے ٹی ایم کے آگے کھڑے ہو کر اندر والے شخص کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہے ہوں، کوئی نہ کوئی ضرورت مند نما مرد یا عورت آپ کے سامنے آ کر ہاتھ پھیلا دیتا ہے۔ ان میں سے کچھ تو پہلی بار "بھلا ہو" کہنے پر معاف کر دیتے ہیں لیکن کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو چپک ہی جاتے ہیں اور بھیک کے لیے اصرار کر کے آپ کو اتنا زچ کر دیتے ہیں کہ آپ جان چھڑانے کے لیے بھیک میں کچھ نہ کچھ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا کئی بار پریشانی کے عالم میں مانگنے والے سے الجھ بھی پڑتے ہیں۔ قدم قدم پر بھک منگوں کی اتنی بڑی کھیپ کا سامنا کرتے ہوئے آدمی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر کسے بھیک دے اور کسے نہ دے۔ ان میں سے کتنے لوگ ہیں جو واقعی مستحق ہوں گے اور کتنے پیشہ ور فنکار ہو سکتے ہیں۔
یہ تو تھی ملک کے اندر کی صورت حال لیکن بہت سے بھکاری اس سے بھی دو قدم آگے ہیں۔ یہ لوگ بھیک مانگنے کے لیے بیرونی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ آپ حج اور عمرہ کے لیے جائیں تو ایسے لوگوں کی بڑی تعداد آپ کو خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں بھی مل جائے گی۔ ان لوگوں کا طریقہ واردات کچھ یوں ہے کہ کوئی شخص آپ کے قریب آکر سلام کرے گا، اپنا تعارف کرائے گا اور پھر اپنا مدعا بیان کرے گا کہ میں پاکستان کے فلاں شہر سے ہوں، میرے ساتھ میری فیملی بھی ہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے طواف کرتے ہوئے کسی نے میرا بٹوہ نکال لیا جس میں میرے سارے پیسے تھے، اب میں بالکل کنگال ہو گیا ہوں۔ خدا کے لیے کچھ مدد کردیں اور پھر وہ دو چار نہیں کم از کم ایک سو ریال کا تقاضا کر دے گا۔ یہ رقم پاکستانی کرنسی کے موجودہ ریٹ کے مطابق ساڑھے سات ہزار روپے کے قریب بنتی ہے۔ پاکستان میں کوئی بھکاری آپ سے اتنی بڑی رقم مانگنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا لیکن یہ "حاجی بھکاری" بہت آسانی سے اتنے پیسے مانگ لیتے ہیں اور کچھ سادہ لوح لوگ ہمدردی کے جذبات سے مغلوب ہو کر "شرمو شرمی" دس بیس ریال تو دے ہی دیتے ہیں حالانکہ وہ خود بھی دیار غیر میں محدود سی رقم ساتھ لے کر گئے ہوتے ہیں۔
اس قسم کے بھکاری صرف سعودی عرب ہی میں نہیں دنیا کے مختلف ملکوں میں موجود ہیں جو دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اب جبکہ معرکہ حق میں عظیم الشان فتح کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کی عزت و توقیر میں بے مثال اضافہ ہوا ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک و قوم کی بدنامی کا باعث بننے والے ایسے تمام عناصر کا قلع قمع کیا جائے اور بیرون ملک جانے والے ایک ایک شخص کی پوری چھان بین کی جائے تاکہ صرف وہی لوگ بیرونی ملکوں میں جا سکیں جو پاکستان کی عزت میں اضافہ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر بھی گداگری کی لعنت کا خاتمہ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس قسم کے ننگِ وطن لوگ پیدا ہی نہ ہوں۔