Wed, September 16, 2026

بنگلہ دیش میں شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا

بنگلہ دیش میں شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا

ڈھاکا: بنگلہ دیش میں انقلاب منچا کے ترجمان شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کا آغاز ہو چکا ہے۔ عثمان ہادی کو گزشتہ جمعہ کو ڈھاکا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔ بعد ازاں انہیں سنگاپور منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج انتقال کر گئے۔

عثمان ہادی کی موت کے بعد، مظاہرین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ڈھاکا کی سڑکوں پر نکل کر انہوں نے عوامی لیگ اور میڈیا اداروں کے دفاتر کو آگ لگا دی، توڑ پھوڑ کی اور سڑکوں کو بلاک کر دیا۔ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کی بھی خبریں آ رہی ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ عثمان ہادی کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مظاہروں کا یہ سلسلہ ڈھاکا تک ہی محدود نہیں رہا، بلکہ راجشاہی میں بھی احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ وہاں مظاہرین نے شیخ مجیب الرحمان کی رہائش گاہ کو بھی نذر آتش کر دیا۔ حکومت نے سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں تاکہ احتجاج کے دوران حالات قابو سے باہر نہ ہو جائیں۔

حکام نے بتایا ہے کہ عثمان ہادی پر حملے میں ملوث مشتبہ افراد کی شناخت فیصل کریم مسعود اور عالمگیر شیخ کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ دونوں افراد بھارت سے غیرقانونی طور پر بنگلہ دیش میں داخل ہوئے تھے اور حملے کے بعد بھارت فرار ہو گئے۔

عثمان ہادی، جو کہ جولائی میں حسینہ واجد حکومت کے خلاف ہونے والی طلبہ تحریک کے اہم رہنما تھے، کے قتل کے بعد سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ عوام کی نظریں اب حکومتی ردعمل پر ہیں کہ آیا انصاف فراہم کیا جائے گا یا نہیں۔

ٹیگز: