Wed, September 16, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے دعوے کی سختی سے تردید کر دی

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے دعوے کی سختی سے تردید کر دی

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگیوں کے لیے نہایت اہم ہے اور اسے یکطرفہ طور پر روکا یا معطل نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے برٹش پاکستان لائرز فورم سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا اور یہ پاکستان کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کے 80 فیصد پانی کا انتظام ہوتا ہے، اس لیے کسی بھی ایک طرفہ اقدام کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پانی جیسے حساس مسئلے پر یکطرفہ کارروائیاں برداشت نہیں کی جائیں گی اور پاکستان اپنی آبی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ انہوں نے عالمی برادری کو بھی اس معاملے میں محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ تنازعات سے بچا جا سکے۔

ٹیگز: