Wed, September 16, 2026

حافظ سید عاصم منیر بہترین سفارت کار

حافظ سید عاصم منیر بہترین سفارت کار

حافظ قرآن، چیف آف دی آرمی سٹاف، چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل، سفارت کار، ثالث، گیم چینجر، سٹیٹس مین اور نہ جانے کتنے نام ہیں افواج پاکستان کے سپہ سالار حافظ سید عاصم منیر کے جنہوں نے دنیا کی تیسری عالمی جنگ نہ صرف رکوائی بلکہ جنگ بندی کے دوران بے مثال کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر بھی بٹھایا۔ اسلام آباد امن مذاکرات میں ثالثی کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا اہم ترین دورہ کیا۔ اور اس دورے میں انہوں نے ایران کی سول و ملٹری قیادت سے جنگ بندی اور امن مذاکرات کی شرائط پر جامع گفتگو کی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر پر برادر اسلامی ملک اور ہمسایہ ملک ایران کا اعتماد کہیں یا بہترین سفارت کاری ایران نے عاصم منیر کے کہنے پر فوراً آبنائے ہرمز کھول دی۔ اس نازک مرحلے پر امریکہ ایران اسرائیل خلیجی ممالک حتیٰ کہ پوری دنیا کی نظریں ٹکی ہوئی تھیں۔ آبنائے ہرمز جو پوری دنیا کے لئے دکھتی رگ بن گئی تھی۔ دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیلات کی اہم ترین راستے کے ایران کی جانب سے کھلنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کامیاب سفارت کار کے مداح ہو گئے ہیں۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جہاں پاکستان پوری دنیا میں امن قائم کرنے کے مشن پر ہے۔ یہ عالمی امن، جنگ بندی، مذاکرات اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی 
کے حساس ترین معاملات حل کرانے کا کام نہ کوئی بڑا ملک کر سکا اور نہ ہی کوئی وزیر، سفیر۔ یہ سب ایک پاکستانی فوجی نے کر دکھایا۔ 
گزشتہ سال 2025 میں خطے میں امن کے دشمن بھارت نے پاکستان پر آپریشن سندور کی جنگ مسلط کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں افواج پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص میں بھارت کو ڈھول چٹائی تھی۔ جنگ کے میدان میں خلاف توقع پاکستان نے معاشی طور پر کمزور ہونے کے باوجود قلیل وقت میں بھارت کو ہرایا تھا۔ جس کے بعد بھارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے پاکستان سے جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔ جسے پاکستان نے سنجیدگی سے لیا تھا۔ اس وقت بھی آرمی چیف نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے بعد امریکی صدر کے امریکہ کے وائٹ ہاو¿س میں ظہرانہ کی دعوت قبول کر کے امریکہ اور پاکستان کے سٹرٹیجک تعلقات کو ایک نئی بلندی پر پہنچایا تھا۔ یہ ملاقات ایک سپر پاور صدر اور ایک آرمی چیف کی تھی جس میں آرمی چیف عاصم منیر نے پاکستان کی امن کی خواہش اور نظریے کی لاجواب نمائیندگی کی تھی۔ 
امریکہ، ایران، اسرائیل کی بدترین جنگ میں اس وقت عارضی جنگ بندی ہے اور پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن مذاکرات ہو رہے ہیں۔ مذاکرات کا ایک دور مکمل ہو چکا ہے۔ جبکہ اسلام آباد امن مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع ہے۔ جس میں امریکی وفد کی صدارت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ ممکنہ طور پر امریکہ اور ایران کے دیرینہ مطالبات اور خدشات پر بیک ڈور پیش رفت جاری ہے۔ جنگ بندی ہو گئی، آبنائے ہرمز کھل گیا، امریکہ ایران پر سے عالمی پابندیاں اٹھانے والا ہے اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کا مسئلہ ممکنہ حل کے قریب ہے۔ 
ایران کے نیوکلیئر/ ایٹمی پروگرام کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات انتہائی اہم ہے جس وقت امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے یہ وہی چند ماہ ہیں جن کے بعد ایران کا نیوکلیئر پروگرام فعال ہو جائے گا۔ یعنی ایران میں موجود یورینیم کا مادہ جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے وہ قابل استعمال ہوگا۔ مگر یہ ایران کے لئے آسان کام نہیں ہے۔ایران کے لئے ایٹمی ہتھیار بنانا اتنا مشکل ہو گیا ہے کہ تیسری عالمی جنگ شروع ہو گئی۔ اسلام آباد امن مذاکرات دوم پر اسی لئے پوری دنیا کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں کیونکہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی بحفاظت منتقلی پر مذاکرات ہوں گے اور اس کے لئے تجویز یہی ہے کہ ایران کا یورینیم مادہ کسی ایسے ملک میں رکھا جائے جس سے امریکہ اور ایران دونوں متفق ہوں اور جہاں یہ یورینیم کا مادہ محفوظ کیا جا سکے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ان تھک کوششیں اسی نازک اور اہم معاملے کو جلد از جلد خوش اسلوبی نے حل کروانے کے لئے جاری ہیں۔ تاکہ دنیا کی بھیانک جنگ روکی جا سکے اور قیام امن کو برقرار رکھا جا سکے۔ یعنی امن کی ہر سطح کی کوشش میں پاکستان پیش پیش ہے۔ اور اسی سبب امریکہ ایران سمیت پوری دنیا حافظ سید عاصم منیر کو فوجی اعزازات کے ساتھ سفارت کار اور امن کے مسیحا کے القابات سے نواز رہی ہے۔

ٹیگز: