عرفان اور ہیجان کا کوئی مقابلہ نہیں۔ جہاں عرفان ہو گا وہاں ہیجان نہیں رہے گا اور جہاں ہیجان ہو گا وہاں عرفان کی موجودگی ممکن نہیں۔ عرفان کے سامنے ہیجان اپنی موت آپ مر جاتا ہے اور اگر عرفان رخصت ہو جائے تو ہیجان کا رقص دیکھنے والا ہوتا ہے۔ یہ کسی دانا کا قول نہیں بلکہ ایک عمومی مشاہدہ ہے اور اس مشاہدے کا موقع گزشتہ ہفتے اس وقت بھی ملا جب معروف دانشور، کالم نگار اور سیاسی رہنما سینیٹر عرفان صدیقی اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی سوشل میڈیا پر ایک عجب طرح کا ہیجان برپا ہو گیا۔ ان کا مخالف طبقہ طعنہ و دشنام کا توپ خانہ لیے میدان میں آ گیا۔
عرفان صدیقی کے انتقال پر ایک طرف تو ماحول سوگوار تھا۔ ان سے محبت کرنے والے انھیں اچھے اچھے لفظوں سے یاد کر رہے تھے۔ ان کی شخصیت کی دلکشی، ان کے تبحر علمی، انداز تحریر اور سیاسی جدوجہد جیسی صفات بیان کر رہے تھے تو دوسری طرف ان کا مخالف طبقہ انھیں بے نقط سنا رہا تھا۔ اس ہیجان زدہ طبقے نے عرفان صدیقی کی موت پر وہ طوفان بدتمیزی برپا کیا کہ الامان والحفیظ۔ سوشل میڈیا پر مرحوم کا ہر دوسرا مخالف ہذیان بکتا نظر آیا۔ جس کے منہ میں جو آ رہا تھا بغیر سوچے سمجھے اگلتا چلا جا رہا تھا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ مرحوم اپنی سیاسی وابستگی کے زیر اثر اس ہیجانی طبقے کے ممدوح کے خلاف کچھ نہ کچھ لکھتے رہے تھے حالانکہ ان کا لکھا اتنا غلط بھی نہیں ہوتا تھا۔
ہیجانی طبقہ اپنے ممدوح کی محبت میں یہ تک بھول گیا کہ اسی ممدوح کے دور حکومت میں عرفان صدیقی کے ساتھ کیسا بدترین سلوک روا رکھا گیا تھا۔ انھیں رات کے اندھیرے میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا اور پیرانہ سالہ میں ہتھکڑیاں لگائی گئیں لیکن اس طبقے کو آج یہ سب یاد نہیں اور اگر یاد ہے بھی تو ان کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان کا ہیجان ہمیشہ کی طرح اپنی انتہاؤں پر ہے جبکہ عرفان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکا ہے۔
یقینا ہر انسان کی طرح عرفان صدیقی میں بھی بطور انسان بہت سی بشری خامیاں اور کمزوریاں رہی ہوں گی لیکن ایک تو کسی کی موت کا موقع اس کی برائیوں اور خامیوں کے اظہار کا محل نہیں ہوتا بلکہ اسے اچھے لفظوں میں یاد کرنے کا وقت ہوتا ہے۔ برائی کا اظہار تو بعد میں بھی کسی وقت کیا جا سکتا ہے اور دوسری بات یہ کہ ہیجانی طبقے کے علاوہ اکثریت کی رائے عرفان صدیقی کے حق ہی میں نظر آئی۔ کسی نے انھیں قلم کا شہسوار کہا تو کسی نے جمہوریت کا علمبردار قرار دیا۔ ان کی تعلیمی وتدریسی خدمات کو یاد کیا۔ ان کی تحریروں کی تعریف کی اور سیاسی جدو جہد کو سراہا۔ کچھ لوگوں نے تو عرفان صدیقی کے احسانات بھی گنوائے جن میں سے ایک واقعہ تو اسی ہیجانی طبقے کی ایک خاتون سیاست دان کی زبانی بھی سننے کو ملا لیکن اس خاتون کا عرفان صدیقی کے لیے احساس ممنونیت بھی ہیجانی طبقے کی ہذیان گوئی میں کمی نہ لا سکا۔ اس طبقے نے عرفان صدیقی کے وہ وہ عیوب بھی بیان کیے جو مرحوم میں تھے ہی نہیں۔
دوسری طرف یہی گروہ اپنے ممدوح کو معصوم عن الخطا قرار دیتے نہیں تھکتا حالانکہ اس کے جرائم اور خطاؤں کے شواہد سامنے آنے کا سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے لیکن یہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے خلاف مغربی عدالتوں کے فیصلے بھی موجود ہیں، کتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں اور عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹیں بھی منظر عام پر آ رہی ہیں لیکن ہیجانی طبقہ مان کر ہی نہیں دے رہا۔ کوئی ایسی باتوں کو ممدوح کا ذاتی معاملہ کہہ کر صرف نظر کرتا ہے تو کوئی اسے سرے سے ہی جھوٹ کا پلندہ قرار دیتا ہے۔
اب جبکہ عرفان خاموش ہو چکا ہے اور اس کے خلاف ہیجان کا ایک طوفان برپا ہے تو ہم ایسوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عرفان کی طرف داری میں سامنے آئیں۔ آج کی اس تحریر کا یہی مقصد ہے۔ یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ مرحوم عرفان صدیقی کا ہفتہ وار مضمون اسی صفحے پر اسی روز شائع ہوا کرتا تھا لیکن گزشتہ ہفتے ان کے انتقال کے بعد سے یہ جگہ خالی ہے اور ادارے کی طرف سے اس جگہ کو پر کرنے کی ذمہ داری فی الحال راقم کو سونپی گئی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اتنے بڑے آدمی کے جوتوں میں پاؤں ڈالنا آسان کام نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اسے خراج عقیدت پیش کیا جائے اور اس کے بعد مخالف طبقے کی بے جا ہرزہ سرائی کا جواب بھی دیا جائے۔
عرفان صدیقی مرحوم اگرچہ بہت مشہور و معروف کالم نویس تھے۔ مجھے بھی گاہے گاہے ان کی تحریریں پڑھنے کا موقع ملتا رہا۔ انھیں جتنا بھی پڑھا اس نے متاثر کیا۔ ان کا انداز تحریر بہت شستہ اور رواں تھا۔ اردو زبان پر کمال کی گرفت تھی اور بات کہنے کا قرینہ انھیں آتا تھا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ بہت سے لکھنے والوں نے ان کے انداز تحریر کی تقلید بھی کی ہے۔
رہی ان کی فکر اور سیاسی وابستگی کی بات تو ہر شخص کی اپنی سوچ ہوتی ہے اور وہ اپنی مرضی و منشا سے کسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کرنے کا حق رکھتا ہے۔ کسی کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی دوسرے کی خواہش کے مطابق سوچ اپنائے۔ اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ آدمی کی وابستگی کسی نظریئے یا ٹھوس بنیاد پر ہے یا محض شخصیت پرستی اور ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر۔ عرفان صدیقی مرحوم بلاشبہ ایک بالغ نظر آدمی تھے۔ وہ اپنے مخالف ہیجانی طبقے کی طرح شخصیت پرست اور فکر سے عاری نہیں تھے۔ اس لیے ان کے مخالفین کو ان کی طرف زبانِ طعن دراز کرنے سے پہلے اپنے گریبانوں میں ضرور جھانکنا چاہیے۔