Wed, September 16, 2026

منشیات فروشی اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ

منشیات فروشی اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ

تیراہ وادی مغربی وسطی صوبہ خیبر پختونخوا کا وہ پہاڑی علاقہ ہے جو کوہاٹ شہر کے شمال مغرب میں درہ خیبر اور خانکی وادی کے درمیان افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر واقع ہے۔ اس میں بنیادی طور پر آفریدی اور اورکز ئی پشتون قبائل آباد ہیں۔ جسے دریائے باڑہ کی اہم ندیاں مستورا ، خانکی اور خرمانہ سے سیراب کیا جاتا ہے۔ پشتون آفریدیوں اور اورکزئیوں کے قبائل کا کبھی ایک تاریخی بفر زون اور مغلوں سے لے کر انگریزوں اور جدید پاکستان تک کی ریاستوں کے لیے ایک درد سر رہا ہے ۔ وادی تیراہ کے مقامی باشندے ہند آریائی تیراہی لوگ تھے۔ انہیں پشتون آفریدی قبائل نے وادی سے بے دخل کیا اور پھر یہ خطہ مختلف پشتون قبائل کا گڑھ رہا ہے جنہوں نے وادی کے ناقابل رسائی اور گھنے خطوں کی وجہ سے ٗ یہاںکے مقامی منشیات فروشوں ٗ افغان حکومت ٗ تحریک طالبان پاکستان اور اُسی کی ذیلی تنظیموں نے اودھم مچا رکھا ہے۔ خیبر پختونخواہ کی وادی تیراہ میں دہشت گردی کی بڑی وجہ سیاسی دہشت گردوں اور جرائم پیشہ کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہے۔ یہ گٹھ جوڑ خطے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی مخالفت کے پیچھے سب سے بڑا محرک ہے ۔کالعدم عسکریت پسند تنظیمیں ٗتحریک طالبان پاکستان اور لشکر اسلام یہاں مسلسل اپنی موجودگی کا احساس دلا تی رہی ہیں کیونکہ انہوں نے سرکردہ مقامی منشیات فروشوں سے بھنگ کی فروخت سے ہونے والی کمائی میں پہلے اپنا ’’حصہ‘‘ مانگنا شروع کیا لیکن اب تو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی سرپرستی میں ’’آئس ‘‘نامی بلا کا کاروبار زوروں پر ہے ۔آئس کی لیبز بھارت سے لے کر افغانستان تک پھیلی ہوئی ہیں اور افغانوں کے بھارت سے بڑھتے ہوئے روابطے’’آئس ‘‘نامی نشے کو پہلے بھارت سے افغانستان اور وہا ں سے پاکستان سمگل کیا جاتا ہے ۔’’ آئس ‘‘ایک مصنوعی نشہ ہے جو افیون ٗبھنگ اور پوست کی طرح قدرتی پیدا نہیں ہوتا بلکہ اسے لیبارٹریزی میں تیار کیا جاتا ہے ۔بدقسمتی سے پاکستان میں وادی تیراہ اِن منشیات فروشوں کا گڑھ ہے جن کو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی نہ صرف پشت پناہی حاصل ہے بلکہ تیراہ کی مقامی لیڈرز اور حکومتی عہدیدار تک اس میں ملوث ہیں۔کمال بے شرمی سے جرائم کی یہ تثلیث تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ٗ طالبان اور منشیات فروشوں کے درمیان مشترکہ مفاد کا بہترین نمونہ ہے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ منشیات کے اس مکروہ دھندے کو وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی ٗ مینا خان آفریدی ٗ ایم این اے اقبال آفریدی ٗ عبد الغنی آفریدی اور حاجی نواب جو صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کے بھائی ہیں ٗ اس منظم نیٹ ورک کی قیادت کر رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ کے پی کے المشہور عشقِ عمران سہیل آفرید ی کے بھائی نوید آفریدی اس وقت ننگز ہارمیں طالبان کے مکمل رابطے میں ہے جو پاکستان کے مختلف علاقوں بالخصوص کے پی کے ٗ اسلام آباد ٗراولپنڈی اور پنجاب کے دوردارز کے علاقوں میں آئس اور دوسری منشیات پہنچانے کی نگرانی کر رہا ہے۔ جعلی عشقِ عمران کا ڈھونگ رچاتے ہوئے ٗ وفاداری کا جو ڈرامہ دکھا رہا ہے اُس کے پیچھے صدیوں پرانا وہی منشیات کا دھندہ ہے جو ہر گزرتے وقت کے ساتھ اپنی شکلیں اور منافع بدلتا رہے ۔ سوات سے مراد سعید اور جعلی ڈاکٹر امجد ایم پی اے بھی اس میں حصہ دار ہیں ۔سہیل آفریدی کو مقامی ذرائع کے مطابق ’’پابلوسہیل بار ‘‘ کہا جاتا ہے جسے آئس کنگ بھی مانا جاتا ہے ۔ یہ بات تیراہ وادی کا بچہ بچہ جانتا ہے لیکن افسوس کے پی ٹی آئی کی تمام قیادت اس سے لاعلم ہے۔ 
تحریک انصاف حکومت ٗ منشیات فروشوں اور طالبان کی اس تثلیث کو جرائم پیشہ اور سیاسی لوگوں نے افغانستان اور کے پی کے میں دو گروپوں میں بانٹ رکھا ہے ۔وادی تیراہ میں گلریز عرف ڈاکٹر نامی شخص کیمیکلز کا ایکسپرٹ ہے جو آئس کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ احسان بلو گاڑیوں میں خفیہ خانے کا ماہر مانا جاتا ہے ٗ کمال چپ خاموش اورخطرناک ترین محافظہ ہے جو منشیات کے قافلوں کو حفاظت سے پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے ۔ رشید مولوی بظاہر ولیوں جیسی زندگی گزار رہا ہے لیکن حقیقت میں وہ منڈیوں میں منشیات کا بہترین تقسیم کار سمجھا جاتا ہے ۔طاہر چھاپہ پولیس کی سرگرمیو ں کا بہترین مخبر سمجھا جاتا ہے ۔ جمشید پٹھان تنگ ٗدشوار گزار اور مشکل راستوں کا بہترین جانو کار تصور کیا جاتا ہے ۔بلال ڈبہ و ہ شخص ہے جس کے ٹرک کی چیکنگ کبھی کسی نے نہیں کی ۔زبیر کالا حساب کتاب کا ماہر اور اپنے منفی مفادات کے حصول کیلئے سیاست پر پیسہ پانی کی طرح بہتاہے ۔افغانستان میں پروفیسر نادرمنشیات کی لیب کا سربراہ ہے جسے افغان حکومت کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ زکریا شیخ بظاہر مذہبی لبادہ اوڑھے منشیات کے اس منظم نیٹ ورک کی کمان سنبھالے ہوئے ہے ۔ حنیف ریچھ کو بارڈر پار کرنے کا ایکسپرٹ تسلیم کیا جاتا ہے جس کے پاک افغان سرحد پر دونوں اطراف میں رابطے موجود ہیں ۔ جلیل سیٹھ منشیات کے اس کھیل میں افغانستان میں بیٹھ سب سے بڑا فنانسر ہے جس کی فنانسنگ ننگزہار سے لے کر بمبے اور دلی سے لے کر پشاور تک ہے۔یہ شخص خالص آئس خریدتا ہے جو ازاں بعد کیریئرز کے ذریعے دنیا بھر میں پہنچ جاتی ہے۔ بندوق برداروں کا سربراہ ناصر کنگ منشیات فروشوں کو ہر مشکل رستے میں سکیورٹی فراہم کرتا ہے ۔سمعی پنک 
نامی شخص افغان مارکیٹ میں ترسیل کا ذمہ دار ہے ۔وقار بنٹی جعلی کاغذات بنانے کا ماہر بھی بارڈ کراسنگ اورمختلف چیک پوسٹ نے ان جعلی کاغذات کے ذریعے ’’ منشیاتی قافلوں ‘‘کومحفو ظ مقام پر پہنچاتا ہے۔ امان ٹوٹا کو سہیل آفریدی کی منشیات فروشوں اور طالبا ن سے رابطہ کاری کا منصب عطا کیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی کو مڈل کلاسیا ثابت کرنے والوں کو چاہیے کہ ایک بار اُس کی دولت کے وہ انبار بھی دیکھ لیے جائیں جو ہمارے بچوں کی رگوں میں اندھیر پھیلا کر جمع کی گئی ہے ۔یہ کھلا راز ہے کہ اس مکروہ دھندے کو جاری رکھنے کیلئے افغان طالبان اور ٹی ٹی پی پاکستان نے تحریک انصاف حکومت کو تحفظ فراہم کر رکھا ہے تاکہ یہ سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ سلامت رہ سکے۔ سہیل آفرید ی کسی سے بھی عشق کرے ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن پاکستانیوں کو یہ ضرور بتا دے کہ ہر چوتھے دن عمران نیازی سے ملاقات کا علم اٹھا کراربوں روپے کی آئس کی جو ترسیل کے پی کے سے راولپنڈی کی جارہی ہے اُس کا اصل سرغنہ کون ہے؟ لینن نے کہاتھا کہ ’’مستقبل اُسی کا ہے جس کے ساتھ نوجوان ہیں ‘‘۔ہمارے مستقبل کو تباہ کرنی کی گھنائونی سازش میں بھارت ٗ افغان اور پی ٹی آئی کی حکومت مرکزی کردار ادا کر رہی ہے سو ہمیں انہیں ہر حال میں روکنا ہو گا ۔وادی تیراہ کا چور دروازہ ہر حال میں بند کرنا ہو گا خواہ اِس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔

ٹیگز: